Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

گاؤں میں ایک نیک خاتون اتنی سخی تھی کہ لوگ اسے حاتم طائی

گاؤں میں ایک نیک خاتون اتنی سخی تھی کہ لوگ اسے حاتم طائی

ایک گاؤں میں ایک نیک خاتون رہتی تھی وہ بہت زیادہ سخی تھی وہ اتنی نیک دل اتنی مہمان نواز اور اس قدر غریبوں پر خرچ کرنے والی تھی کہ لوگ اسے حاتم طائی کی بیٹی کہتے تھے وہ گاؤں سڑک کے قریب ہی تھا پہلے تو کوئی مستقل بس سٹاپ نہ تھا مگر دیہاتی لوگوں کی آمد ورفت کی وجہ سے آہستہ آہستہ سڑک کے اوپر بس سٹاپ بن گیا اندر کے علاقوں کے دیہاتی لوگ پانچ دس میل چل کروہاں آتے کہ خریدو فروخت کے لیے بس پر بیٹھ کر شہر کو جایئں گے کبھی ایسا ہوتا کہ بس کا وقت ختم ہو جاتا تو بیچاروں کے پاس وہاں رہنے کے لیے انتظام نہیں ہوتا تھا اسی حال میں بیٹھ کر رات گزارتے بھوکے پیاسے رہتے اگر عورتیں ساتھ ہوتیں تو اور زیادہ پریشانی ہوتی اس نے محسوس کیا کہ یہاں تو ان کے لیے کوئی بندوبست ہونا چایئے چنانچہ اس نے اپنے خاوند سے کہا کہ کیوں نہ ہم لوگوں کی سہولت کے لیے ایک مہمان خانہ بنوادیں تاکہ وہ لوگ جو رات کو آگے یا پیچھے نہیں جا سکتے

وہ آسانی سے رات گزار سکیں اور وہ اگلے دن اپنے کام کے لیے روانہ ہو جایا کریں گے خاوند کو یہ بات پسند آئی چنانچہ اس نے مہمان خانہ بنوایا اور ایک آدمی رکھ کر ان کے لیے کھانا پکانے کا بندوبست کر دیا اب لوگ آنے جانے لگے جو آگے پیچھے نہیں جا سکتے تھے وہ رات کے وقت وہیں سے کھانا کھاتے اور آرام سے سو جاتے پھر رات گزار کر اپنے کام کے لئے چلے جاتے پھر کسی خیر خواہ نے اس کے خاوند کو یہ مشورہ دیا کہ آپ کی بیوی تو آپ کو کنگال کردے گی روزانہ اتنا اتنا کھانا پکتا ہے اور فالتو لوگ آکرکھا جاتے ہیں ایسی سخاوت کا کیا فائدہ جب دوستوں نے خاوند کو بار بار مشورہ دیا تو خاوند کے دل میں بھی یہ بات آگئی کہ بھئی یہ تو واقعی لوگوں نے تماشا بنا لیا ہے چنانچہ اس نے ایک دن فیصلہ کر لیا کہ مہمان خانہ بند کر دیا جائے بیوی کو پتہ چلا تو وہ پریشان ہوئی کہ جب پروردگار نے ہمیں اتنی زمینیں دی تھیں کہ ہماری اپنی گندم سے ہی روٹی بنتی تھی اور سارا سال مہمان نوازی کا ثواب ملتا تھا

اب یہ نیکی کا ذریعہ بند ہو جائے گا لیکن جب خاوند نے کہہ دیا تو بیوی خاموش ہوگئی نیک بیویاں پھر بات کرنے کے لیے موقع ڈھونڈا کرتی ہیں جھگڑے نہیں کیا کرتیں چنانچہ وہ موقع کی تلاش میں رہی ایک دن خاوند سے کہنے لگی کہ آج میری طبیعت کچھ اداس سی ہے گھر میں رہ رہ کر تنگ سی آگئی ہوں کیوں نہ زمینوں سے ذرا ہو آؤں اس نے کہا بہت اچھا خاوند اسے اپنی زمین پر لے کر چلا گیا وہاں کنواں باغ اور فصلیں تھیں وہ تھوڑی دیر چلی پھری اور پھر آکر کنویں کے کنارے پر بیٹھ گئی اور کنویں کے اندر دیکھنا شروع کردیا خاوند بھی ادھر ادھر پھرتا رہا کافی دیر کے بعد کہنے لگا نیک بخت چلیں دیر ہورہی ہے کہنے لگی بس چلتے ہیں پھر کنویں کے اندر دوبارہ جھانکنا شروع کردیا کنویں میں دیکھتی رہی بالآ خر خاوند نے کہا کہ خدا کی بندی کنویں میں کیا دیکھ رہی ہو کہنے لگی کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ خالی ڈول پانی میں جارہے ہیں اور بھر بھر کر واپس آرہے ہیں مگر کنویں کا پانی جیسا ہے

ویسا ہی ہے اس نے کہا خدا دی بندی تو اگر سارا دن اور ساری رات بیٹھی رہے گی تویہ پانی ایسے ہی رہے گا خالی ڈول بھر بھر کے آتے رہیں گے مگر پانی میں کمی نہیں آئے گی جب خاوند نے یہ بات کہی تو اس نیک دل خاتون نے کہا اچھا کنویں کا پانی ختم نہیں ہوتا اس نے کہا کہ واقعی کنویں کا پانی ختم نہیں ہوتا یہ سن کر وہ کہنے لگی اللہ نے ہمارے گھر کے اندر بھی ایک کنواں جاری کیا تھا لوگ خالی پیٹ آتے تھے اور پیٹ کا ڈول بھر کے جاتے تھے تمہیں کیوں ڈرہوا کہ اللہ تعالی تمہارے اس کنویں کے پانی کو کم کر دیں گے بیوی کی بات سن کر خاوند کے دل پر ایسی چوٹ پڑی کہ کہنے لگا میں مہمان خانے کو دوبارہ جاری کرتا ہوں چنانچہ وہ خاتون جب تک زندہ رہی اس علاقہ میں وہ مہمان خانہ ااسی طرح جاری رہا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *