Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میرا کزن مسلسل مجھے تنگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ لگاتار جسم کی

میرا کزن مسلسل مجھے تنگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ لگاتار جسم کی

میرا کزن مسلسل مجھے تنگ کر رہا تھا اور ساتھ ساتھ بلیک میلنگ پر بھی اتر آیا تھا اور لگاتار جسم کی مانگ کر رہا تھا میں جنگ آچکی تھی اس سے اب تو مجھے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی تھی کہ میں نے ایک ایسے انسان سے پیار کیا جس کو میرا جسم چاہیے اور کچھ نہیں اور دوسری طرف میرا شوہر تھا جس نے میری اتنی عزت کی جتنی کوئی اپنی ماں کی بھی نہیں کرتا ۔ میرے شوہر کے ساتھ میری نفرت کب محبت میں تبدیل ہوتی گئی یہ تو مجھے اب پتا لگ رہا

تھا ۔ کچھ دنوں بعد میرے کزن نے مجھ سے پچاس ہزار کی مانگ کی اور کہا کہ مجھے بائیک لینی ہے مجھے پچاس ہزار دو میں نے جب منع کیا تو وہ دھمکی پر اتر آیا کہ تم مجھے نہیں جانتے میں تمہاری زندگی تباہ کر دوں گا اگر تم نے مجھے پیسے نہیں دئیے ۔ میں نے کہا مجھے شرم آتی ہے کہ میں نے تم جیسے انسان سے پیار کیا تم نے میرا پیار دیکھا ہے میری نفرت نہیں تم مجھے بھی نہیں جانتے میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتی ہوں ۔ غیر میری دکھتی رگ اسکے ہاتھ میں ۔

تھی میں اسے زیادہ کچھ نہیں بول سکتی تھی اسلئے میں نے اسے کہا کہ پیسے ابھی میرے پاس نہیں مجھے پانچ دن کا وقت دو تمہیں پیسے بھیج دوں گی ۔ اسنے کہا صرف پانچ دن ورنہ چھٹے دن سب تمہارے باپ کو بھیج دوں گا ۔ اب مجھے میرے کزن سے . چھٹکارا پانا تھا اور اسے سبق بھی سیکھانا تھا سوچتے سوچتے میری ایک رات گزر گئی لیکن سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ پاکستان ایف آئی اے سیکورٹی ہی اسکا حل ہے وہ ہی مجھے بچا

سکتے ہیں ۔ میں نے ایف آئی اے سائبر کرائم والوں سے رابطہ کیا اور انہیں سب کچھ بتایا اور شرط رکھی کہ میرا مکمل پردہ رکھا جاۓ گا حتی کہ یہ بھی نہیں بتایا جائے کہ درخواست میں نے دائر کی ہے انہوں نے مجھے آفس بلایا تو میں نے کہا میں آفس نہیں آسکتی ہماری ملاقات ملتان میں ہوئی دو آفیسرز تھے میں ان سے ملنے گئی آفیسرز بہت اچھے اور ایماندار تھے اور میں نے انکے سامنے اپنے کزن سے بات کی اور ساری باتیں بمع ثبوت آفیسرز کے حوالے کر

دی انہوں نے مجھے یقین دہانی کروا دی کے دو دن تک وہ پکڑا جائے گا ۔ میں نے ان آفیسرز سے کہا کہ وہ سارے ثبوت مجھے دے دینا اور جب وہ گرفتار ہوجائے تو ایک آخری بار میری بات ضرور کروا دینا انہوں نے کہا ٹھیک ہے بات کروا دی جائے گی مگر ثبوت آپکو کچھ عرصے بعد دیئے جائیں گے ۔ میں پھر واپس لوٹ آئی تین دن بعد وہ میرا کزن ایف آئی اے سائبر کرائم سیکورٹی کے ہاتھوں پکڑا گیا اور آفیسرز نے اپنے وعدے کے مطابق میری اس

سے بات بھی کروائی میں نے کہا میں نے تو تم سے بے حد سچا پیار کیا اور تمہاری خاطر اپنے شوہر سے لڑتی رہی اس نے کہا تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا اب سب کچھ تمہارے باپ کو بتاؤ گا ۔ میں نے کہا کہ اب تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اب تم انہیں بتاؤ گے تو الٹا میں تم پر الزام لگاؤں گی اور اس بار میری فیملی مجھے نہیں مجھے نہیں چھوڑے گی ۔ اب کچھ عرصے کیلئے سڑتے رہو جیل میں ۔ تب تک کیلئے میں اپنے شوہر کو اپنا چکی ہونگی ۔ اسنے کہا میں

کچھ نہیں بھولوں گا میرا انتظار کرنا ۔ اسکے بعد آفیسرز نے کہا آپ بے فکر جاؤ ہم اچھی سی خدمت کریں گے اسکی میں نے انہیں کہا کہ اسے مارنا نہیں بس کچھ عرصے کیلئے جیل میں بند ہی رکھو اسے ، اور اس طرح میں نے خود کو بدنامی سے بچانے اور اپنی حفاظت کیلئے اپنی ہی محبت کو گرفتار کروا دیا یہاں پر آپ یہ بات یاد رھیں ( جب مشکلات دروازے پر دستک دیتی ہے نا تو سارے وعدے اور عقیدے کھڑکیوں سے بھاگ جاتے ہیں انسان اپنے آپ کو ے بچانے کیلئے کچھ بھی کر سکتا پھر چاہیے سامنے والا جتنا بھی عزیز کیوں نا ہو جیسا کہ میں نے کیا ۔ بتاۓ گا ضرور میں نے اسے گرفتار کروا کر اچھا کیا یا برا کیونکہ میرے پاس اسکے سوا کوئی اور حل نہیں تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *