Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

بصرہ میں ایک انتہائی حسین و جمیل عورت تھی جو ہمبستری کیلئے ہر وقت کسی قوی نوجوان کی تلاش میں رہتی تھی

بصرہ میں ایک انتہائی حسین و جمیل عورت تھی جو ہمبستری کیلئے ہر وقت کسی قوی نوجوان کی تلاش میں رہتی تھی

بصرہ میں ایک انتہائی حسین و جمیل عورت رہا کرتی تھی لوگ اسے شبانہ کے نام سے جانتے تھے ظاہری حسن و جمال کے ساتھ ساتھ آواز بھی بہت خوبصورت تھی. اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے وہ گائے کی اور نوحہ گیری میں مشہور تھی بھری شہر میں خوشی اور غمی کی کوئی مجلس اس کے بغیر ادھوری تصور کی جاتی تھی۔ یہی وجہ کہ اس کے پاس بہت سا مال و دولت جمع ہو گیا تھا۔

بصرہ شہر میں فسق و فجور کے حوالے سے اس کی مثال دی جاتی تھی اس کار ہن سہن امیرانہ تھا۔ وہ بیش قیمت لباس زیب تن کرتی اور گر از یورات سے بنی سمری رہتی تھی۔ ایک دن وہ اپنی رومی اور ترکی کنیزوں کے ساتھ کہیں جارہی تھی راستے میں اس کا گزر حضرت صالح الماری رحمتہ اللہ علیہ کے گھر کے قریب سے ہوا اب اللہ عزو جل کے سیدھا بندوں میں سے تھے آپ با عمل عالم

دین اور عابد و زاہد تھے آپ کی زبان کی تاثیر سے لوگوں پر رکعت طاری ہو جاتی اور وہ آہ و بکا شروع کرتے تھے

اور اللہ عزوجل کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جڑیاں لگ جاتی۔ جب شبانہ نامی وہ عورت وہاں سے گزرنے لگی تو اس نے گھر سے آہ و بکا کی آوازیں سنی آوازیں سن کر اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اپنی کنیزوں سے کہنے لگی کہ یہاں پر نوحہ کیا جارہا ہے . اور

مجھے اس کی خبر تک نہیں دی گئی ۔ پھر اس نے ایک خادمہ کو گھر کے حالات معلوم کرنے کے لیے اندر بھیج دیادہ لونڈی اندر گئی اور اندر کے حالات دیکھ کر اس پر بھی اللہ عزوجل کا خوف طاری ہو گیا اور وہ وہی بیٹھ گئی جب وہ واپس نہ آئی تو شبانہ نے کافی انتظار کے بعد دوسری اور پھر تیسری لونڈی کو اندر بھیجا مگر وہ بھی واپس نہ لوٹی پھر اس نے چوتھی خادمہ کو اندر بھیجا جو تھوڑی دیر بعد واپس

لوٹ آئی اور اس نے بتایا کہ گھر میں کسی کے مرنے پر ماتم نہیں ہو رہا بلکہ اپنے گناہوں پر آہ و بکا کی جارہی ہے۔ لوگ اپنے گناہ وجہ سے اللہ عزوجل کے خوف سے رو رہے ہیں۔ شبانہ نے یہ سنا تو ہنس دی اور ان کا مذاق اڑانے کی نیت سے گھر کے اندر داخل ہو گی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جوں ہی وہ اندر داخل ہوئی اس کے دل کو پھیر دیا. جب اس نے

حضرت صالح المری رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا تو دل میں کہنے لگی افسوس میری تو ساری عمر ضائع ہوگی میں نے انمول زندگی گناہوں میں ضائع کر دی وہ میرے گناہ کو کیوں کر معاف فرمائے گا? انہی خیالات سے پریشان ہو کر اس نے حضرت صالح الماری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا اے امام المسلمین کیا اللہ عز و جل نافرمانوں اور سرکشوں کے گناہ بھی معاف فرما دیتا

ہے فرمایا یہ وعظ و نصیحت اور وعدے انہی کے لیے تو ہیں تا کہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں۔ اس پر بھی اس کی تسلی نہ ہوئی تو وہ کہنے لگی میرے گناہ تو آسمان کے ستاروں اور سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہیں. آپ نے فرمایا کوئی بات نہیں اگر تیرے گناہ شبانہ سے بھی زیادہ ہوں تو بھی اللہ عزو جل معاف فرمادے گا یہ سن کر وہ چیخ پڑی اور رونا شروع کر دیا اور اتناروئی کہ اس

پر بیہوشی طاری ہو گئی

تھوڑی دیر بعد جب اسے ہوش آیا تو کہنے لگی حضرت میں ہی وہ شبانہ ہوں جس کے گناہوں کی مثالیں دی جاتی ہیں. پھر اس نے اپنا قیمتی لباس اور گر اقدر زیور اتار کر پر انا سالباس پہن لیا اور گناہوں سے کمایا ہوا سارا مال غرباء میں تقسیم کر دیا. اور اپنے تمام غلام اور خادم آئیں آزاد کر دی. پھر اپنے گھر میں مقید ہو کر بیٹھ

گئی. اس کے بعد وہ شب و روز اللہ عزوجل کی عبادت میں مصروف رہتی اور اپنے گناہوں پر روتی رہتی اور ان کی معافی مانگتی رہتی رورو کر اپنے رب اعظم کی بارگاہ میں التجائیں کرتی کہ تو بہ کرنے والوں کو محبوب رکھنے والے اور گناہ گاروں کو معاف فرمانے والے مجھ پر رحم فرما میں کمزور ہوں تیرے عذاب کی سختیوں کو برداشت نہیں کر سکتی تو مجھے عذاب سے بچالے اور

مجھے اپنی زیارت سے مشرف فرما. اس نے اسی حالت میں چالیس سال زندگی بسر کی اور انتقال کر گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *