Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میں ڈاکٹر تھی جب بھائی اور بھابھی نے الزام لگا کر گھر سے نکال دیا

میں ڈاکٹر تھی جب بھائی اور بھابھی نے الزام لگا کر گھر سے نکال دیا

میں ڈاکٹر تھی جب بھائی اور بھابھی نے الزام لگا کر گھر سے نکال دیا اور میں نے اپنی ٹرانسفر گھر سے دور پہاڑی علاقے میں کرالیا اور جس ہسپتال میں تھی وہاں کے بارے میں مشہور تھا۔ یہاں جنات کا بسیرا ہے اور رات کی ڈیوٹی کوئی نہ دیتا مجھے جنات پر یقین نہ تھا اور رات کی ڈیوٹی دینے لگی ایک رات آپریشن تھیڑ سے کچھ عجیب آوازیں سنائی دیں اور بھاگ کر جیسے ہی وہاں گئی تو پاوں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ وہاں تو میرا … مریم اپنے روم میں بیٹھی رو رہی تھی۔ آج اس کو والدین کی بہت یاد آرہی تھی۔ آج اس کی برتھ ڈے تھی اور بھائی کو والدین کی بہت یاد آرہی تھی۔ آج اس کی برتھ ڈے تھی اور بھائی بھا بھی نے اسے جھوٹے منہ بھی وش نہیں کیا تھا۔ وہ روتے ہوئے اپنے موم ڈیڈ کو یاد کرنے لگی کہ آپ اسے اس بھری دنیا میں اکیلا چھوڑ کر کیوں چلے کئے ہیں۔

وہ اب کس کے سہارے جیے۔ کسی کو اس کی خوشی یا غم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ روتے ہوئے گزارا ہوا وقت یاد کرنے لگی۔ جب اس کے والدین زندہ تھے۔ ایک ماہ پہلے ہی اُس کے ڈیڈ اس کی برتھ ڈے کی تیاریاں شروع کر دیتے۔ اس کی اپنی پورے خاندان کو ایک گرینڈ پارٹی دی۔ جو عرصے تک لوگوں کو یاد رہی۔ جوں جوں وہ بڑی ہوتی گئی۔ دادا اور باپ کا لاڈ پیار انتہا کو چھونے لگا۔ مریم کی دادی پوتے پر جان چھڑکتی۔ مریم کو زیادہ نہ پوچھتی کہ یہ تو پر ایا مال ہے دوسروں کے گھر چلی جائے گی۔ مریم کی ماں بہت اچھی رحم دل عورت تھی وہ غریبوں کی بہت ہمدرد تھی۔ ملازموں سے بھی نرمی سے پیش آتی اور گاہے بگاہے ان کی مدد امداد کرتی رہتی۔ وہ مریم کو بھی ایسی ہی تعلیم دیتی۔ جبکہ باپ دادا اس کے برعکس تھے۔ وہ تو گھر کے ملازموں سے فالتو بات کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔

ایسے ہی وہ پوتے کو سکھا رہے تھے۔ جبکہ مریم اپنی ماں کی طرح دل میں رحم کا جزبہ اور خوف خدا رکھتی تھی۔ مریم کی ماں بیٹے پر تو نہ چلتی تھی کیونکہ وہ اپنی دادی کا بہت لاڈلا تھا۔ وہ اس کے بگڑے پن پر بھی فخر کرتی تھیں کہ امیروں کے بچے اور غریبوں کے بچوں میں یہی تو فرق ہے دادی کا کہنا تھا کہ جب اللہ تعالی نے اتنی دولت دی ہے تو اس سے زیادہ فائدہ کیوں نہ اٹھا ئیں بچے کو غریبوں کے بچوں کی طرح پیسے کے لیے ترساتے رہیں۔ وہ اپنے پاس سے اسے کھلی پاکٹ منی دے دیتی تھیں۔ مریم کی ماں اگر ٹوکتی تو اسے جھڑک کر کہتیں کہ بہو تم حالا نکہ سونے کا پیچ لے کر پیدا ہوئی ہو پر تمہارے اندر امیروں والی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ تم بچپن سے نہ جانتی ہوتی تو مجھتی کہ شاید تم نئی نئی امیر ہوئی ہو تو تمہیں امیروں والے طور طریقے نہیں آتے۔ مگر حیرت ہوتی ہے تمہاری تربیت پر ۔ ایسے کی گئی ہے جیسے کسی غریب لڑکی کو بچت کے طریقے سکھائے جاتے

مریم کی دادی کہتی، میں اتنی بوڑھی ہو کر بھی ابھی تک زیور کپڑے کی شوقین ہوں اور ایک تم ہو کہ کسی چیز کا شوق ہی نہیں رکھتی تھی۔ ارے اللہ تعالی نے جب اتنا دیا ہے تو عیش کر و مریم کی ماں جواب دیتی، ماما اپنی ضروریات سے بڑھ کر سامان جمع کریں گے تو اس کی پوچھ ہو گی اور وہ سارا فالتو سامان سر پر اٹھا کر کھڑا ہونا پڑے گا۔ مریم ماں کی نصیحت سنتی تو اس کو اپنی آخرت کی فکر لگ جاتی، مگر پھر دادا، باپ اسے انا پر وٹوکول دیتے کہ وہ مجبور ہو جاتی۔ مریم کو اسکول کالج صبح اس کے ڈیڈ خود چھوڑ کر آئے کہ میں بیٹی کا رسک نہیں لے سکتا۔ واپسی پر اس کی موم کے ساتھ بوڑھا خاندانی ڈرائیور ساتھ جاتا۔ مریم کے ڈیڈ اسے ڈرائیونگ نہیں سیکھنے دیتے تھے۔ مارکیٹ اکیلے کبھی نہ جانے دیتے۔ اس کی موم کو سختی سے ہدایت تھی کہ ساتھ جاتا ہے۔ مریم اپنی ماں کی طرح سادہ لڑکی تھی۔

وہ پارلر اپنی ماں کی طرح جانے کی شوقین نہ تھی مگر دادی ہفتے میں دو بار جاتی اور اسے بھی زبر دستی ساتھ لے کر جاتی۔ مریم کو زبر دستی دادی مجبور کرتی تو اسے بھی مجبوراً کچھ نہ کچھ کروانا پڑتا۔ مریم کی ماں بھی ایک خوشحال گھرانے سے تھی. مریم کی نانی بہت نیک اور پر ہیز گار تھی۔ مریم کی ماں کی شادی جب مریم کے باپ سے ہوئی تو ساس بہت ماڈرن خیالات کی تھی۔ اس کی ساس کے آگے نہ چلتی۔ ویسے اسے ساس تنگ نہ کرتی، مگر اس کی سادگی سے اسے مسئلہ رہتا۔ ساس اسے پینڈو کہہ کر مزاق اڑاتی۔ مریم کی ماں ایک کان سے سنتی دوسرے سے اڑا دیتی۔ اس نے اپنی ڈگر نہیں بدلی۔ مریم کی ماں نے شوہر کو صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ آپ کی ماما جو مرضی کریں مگر مجھے ان فضول فیشن کے لیے مجبور نہ کریں۔ شوہر نے کہا کہ مجھے تم سے یا تمہارے طور اطوار سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تمہاری سادگی ہی مجھے پسند آئی تھی۔ مریم کی ماں کی بیک سٹر ونگ تھی۔ اس لیے اس پر ساس زور زبردستی نہیں کر سکتی تھی۔ دادی نے پہلے پوتے پر جان چھڑکتی تھی اور ہوتی کو اتنی لفٹ نہیں کراتی تھی۔ جوں جوں مریم بڑی ہوتی گئی وہ بہت خوبصورت کی بچی لگتی۔ ہر کوئی اسے پیار کرتا۔ وہ باتیں بھی بہت پیاری اور سمجھداری کی کرتی۔ دادی کا بھی دل پگھل گیا اور دادی نے اس سے دوستی بنالی۔ اب وہ ہر جگہ اسے ساتھ لے جائیں۔ مریم کو ماں سادگی اپنانے کا کہتی۔ اور دادی ماڈرن بنے کا۔ آخر دادی بزرگی کی اہمیت کی وجہ سے جیت جاتی۔ بہو ان کے ساس کے رتبے کی وجہ سے ہار مان لیتی۔ لیکن خفیہ خفیہ اس کے کانوں میں اچھی باتیں ڈالتی رہتی۔ مریم پڑھائی میں بہت اچھی پوزیشن لیتی۔ بھائی بھی زہن تھا۔

مریم کے باپ کو جب بھی فرصت ملتی وہ بچوں کی پڑھائی کی جانچ پڑتال ضرور کرتا۔ اچھے سے اچھا ٹیوٹر گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لیے لگاتا۔ پھر ان پر نظر بھی رکھتا۔ اس کی زندگی بہت مصروف تھی۔ مگر اپنی فیملی کے لیے خاص طور پر بچوں کے لیے وقت ضرور نکالتا۔ وہ کہتا کہ اتنی دولت کمانے میں مگن رہو اور اپنی فیملی کے ساتھ لائف انجوائے نہ کرو۔ ان کو اپنے سامنے بڑا ہوتے نہ دیکھو تو کیا فائدہ۔ وہ اکثر سکول میں بھی چکر لگاتے رہتے اور اپنی بیوی کو بھی سکول بر ویک بھیجتے تاکہ بچوں کی سرگرمیوں کی خبر رہے۔ وہ کہئے کہ جو والدین ٹیچر ز کے پاس زیادہ جا کر ان کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ٹیچر ز بھی پھر ان بچوں پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ مریم کی ماں اتنا جانتی تھی کہ سب ٹیچرز اسے پہچاننے لگی تھیں کہ یہ مریم کی ماں ہیں۔

مریم کی ماں کی گفتار بھی اچھی اور بہت گریس فل پر سنیلٹی کی مالک تھی۔ ٹیچرز اس سے ملکر خوش ہو تیں۔ مریم کی ماں کو ساس پینڈو کہتی ۔ اپنے جیسی ماڈرن ایج فیلوز بوڑھیوں سے اسے ملواتے ہوئے شرم آتی۔ کیونکہ ان کی بیویں بہت ماڈرن لباس میں ملبوس ہوتیں مگر مریم کی ماں کی سارے خاندان میں عزت تھی سب اس کی تعریف کرتے۔ مریم کی دادی کبھی حیرت سے سوچتی کہ ان کی اپنی سہیلیاں بھی مریم کی ماں کی تعریف کرتیں تھیں کہ تم بہت لکی ہو جو ایسی بہو ملی ہے۔ مریم نے ڈاکٹر بنے کی خواہش ظاہر کی۔ ماں نے بہت تعریف کی اور حوصلہ بڑھایا۔ دادی نے قیامت مچادی کہ ہمیں کس چیز کی کمی ہے کہ بچی کو ایسے شعبے سے منسلک کر دیں جس میں دن رات لوگوں کی ایک آیا کی طرح خدمت کرنی پڑے۔ ہر وقت چیر پھاڑ کرتی رہے۔ ڈاکٹر میں اور قصائی میں مجھے کوئی فرق نہیں لگتا۔

مریم کے باپ نے بھی بہت احتجاج کیا مگر اس بار مریم کی ماں سب کے آگے ڈٹ گئی کہ وہ بیٹی کی خواہش ضرور پوری کرے گی۔ وہ ایک مقدس پیشے کو اپنانا چاہتی ہے۔ دکھی انسانوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ جب مریم کے باپ نے دیکھا کہ دونوں ماں بیٹی اب پیچھے نہیں ہٹ رہی ہیں تو انہوں نے کچھ شرائط رکھ دیں کہ مانو تو تب تمہیں میڈیکل کالج میں داخلہ دلوادوں گا۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا شرائط ہیں؟ مریم کے باپ نے کہا کہ ڈاکٹری کرنے کے بعد کوئی نوکری نہیں کرے گی۔ اس کو اگر بہت شوق ہوا تو میں اس کے لیے ایک شاندار ہاسپٹل بنوادوں گا۔ جہاں یہ صرف چکر وغیرہ لگائے جایا کرے گی وہاں خود کوئی کام نہیں کرے گی۔ مریم اور اس کی ماں نے ساری شرطیں مان لیں۔ باپ مریم کو چھوڑ نے خود جاتا کبھی اسے ملک سے باہر بزنس ٹور پر جانا ہو تو ہمیشہ بیوی اور بیٹی کو ساتھ لے کر جاتا۔ اگر کبھی مریم کی شادی کی بات آتی تو مریم کا باپ تڑپ کر بیوی سے کہتا، اوپر خدا ہے نیچے میری بیٹی ، دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے تو بھی اپنی بیٹی کو اپنے سے جدا نہیں کرو گا۔

اس کی شادی نہیں کروں گا۔ یہ میرے اپنے جگر کا ٹکڑا دوسروں کو کیسے دے دوں، نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مریم کی ماں غصے سے کہتی، کیسے اس کی شادی نہیں کریں گے۔ آپ بھی تو کسی کی بیٹی لے کر آئے ہیں نا۔ میں بھی تو کسی کی بیٹی تھی۔ وہ تب بھی یہی کہتا۔ میں تو اپنی زندگی میں اس کی شادی کرنے والا نہیں ہوں۔ چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے۔ مریم ان کی بحث بڑے شوق سے سنتی اور اپنے باپ کے گلے میں بائیں ڈال کر کہتی ، ڈیڈ میں کبھی شادی نہیں کروں گیا اور کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔ میں خود بھی بھلا آپ کے بغیر کیسے رہ سکتی ہوں۔ ماں غصے سے چل پڑتی۔ مریم کے دادا کی طبیعت کافی دنوں سے خراب تھی۔ وہ ہاسپٹل نہیں جانا چاہتے تھے۔ مریم کے والد گھر میں ہی ڈاکٹر کو بلا کر دکھا رہے تھے۔ مگر ان کی طبیعت سنبھلنے کی بجائے اور بگڑتی جارہی تھی۔

ایک دن ان کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ ملازم نے آکر بتایا کہ وہ بے ہوش ہو گئے ہیں فورا مریم کے باپ نے ایمبولینس کو فون کر دیا۔ مریم رونے لگی۔ باپ مریم کو گلے لگا کر تسلی دینے لگا۔ جب انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تو کافی دیر ڈاکٹر زان کی جانچ پڑتال کرتے رہے مگر وہ مرچکے تھے۔ مریم کی زندگی کا یہ پہلا المیہ تھا۔ مریم کی بری حالت تھی۔ باپ نے اسے بہت زیادہ وقت دیا۔ اپنے ہاتھوں سے زبر دستی کھلاتا پلاتا ۔ مریم کی ماں نے مریم کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تم اپنے ناز نخرے باپ سے اٹھوار ہی ہے۔ کیا تم نے سوچا ہے کہ انہوں نے بھی اپنا سگا باپ کھویا ہے۔ تمہیں ان کی دلجوئی کرنی چاہیے ، ان کو زبر دستی کھلانا پلانا چاہیے۔ ان کا خیال رکھنا چاہیے ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے میں زبر دستی ان کو تھوڑا بہت کھلائی پلائی ہوں مگر انہیں اپنے سے زیادہ تمہاری فکر لگی رہتی ہے۔

مریم کا باپ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ بیٹی کی دلجوئی کے لیے انہیں ورلڈ ٹور پر گھمانے پھرانے لے گیا۔ مریم نے خوب شائنگ کی ماں کے احساس دلانے پر مریم کو احساس ہو چکا تھا کہ باپ کا خیال بھی رکھنا چاہیے ۔ مریم نے نوٹ کیا کہ اس کے ڈیڈ کمزور ہو کئے ہیں اس نے تو کبھی دھیان ہی نہ دیا۔ مریم نے دل میں سوچا کہ وہ ڈاکٹر انکل کو جا کر بتائے گی کہ ڈیڈ کے مکمل ٹیسٹ کریں۔ وہ کھاپی بھی کم کر رہے تھے۔ چلنے میں بھی سستی کر رہے تھے ۔ مریم کی ڈاکٹری کی ڈگری مکمل ہو چکی تھی۔ ہاوس جاب بھی ہو چکا تھا۔ اس کے پیٹ نے کہا تھا کہ وہ اسے بڑے پیمانے پر سیلیبریٹ کریں گے مگر دادا کی فوتگی کی وجہ سے سب کچھ مانند پر گیا۔ مریم کا بھائی دادی کا پھٹو بنا رہتا تھا۔ وہ بھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد باپ کا بزنس سنبھالنے لگا تھا۔ گھر میں اس کی شادی کے چرچے ہونے لگے تھے ۔

دادی اسے ہمیشہ کہتی۔ کہ میں تیری شادی کسی بانی سو سانتی کی کسی ماڈرن فیملی سے کراوں گی۔ ماں نے اپنے جیسی پینڈو سے کروا دینی ہے پھر ساری زندگی کسی سے ملواتے ہوئے بھی شرمندگی اور بچے بھی پینڈو۔ اگر میں نہ ہوتی تو تم لوگ بھی پینڈو بنے ہوتے۔ دادی نے مریم کے بھائی کی علیک سلیک اپنی ماڈرن دوست کی ماڈرن پوتی سے کروادی۔ اور ان کا خفیہ نکاح بھی کروا کر وہ گھر لے آیا۔ باپ کو مریم واپس آکر مکمل ٹیسٹ کر وار ہی تھی۔ جب بیٹا بیوی کو گھر لے آیا تو باپ کے ساتھ ماں بھی شاک رہ گئی ، مگر دادی نے ان کو اچھی طرح و یکم کیا کہ اب وہ اس گھر کی عزت ہے۔ دادی نے لڑکی والوں کو بلایا، انہوں نے ناراض ہونے کا ڈرامہ کیا لیکن اصل میں وہ ساتھ دادی کے اس شادی کرانے میں ملے ہوئے تھے۔ دادی نے حکم دے دیا کہ اب جو ہونا تھا ہو چکا اب اس کا بھی اس گھر پر اتنا ہی حق ہے۔

۔ دادی نے ولیمہ اناونس کر دیا۔ تین دن بعد ہوٹل میں ولیمہ کر دیا گیا اور سارے خاندان کو بلایا گیا سب دولہن کے بے ہودہ فیشن پر باتیں بنا رہے تھے۔ مریم بھی بجھی بجھی سی تھی۔ اس نے بھائی کی شادی کے کئی خواب دیکھ رکھے تھے۔ ہر وقت لڑکیاں نوٹ کرتی رہتی اور اپنی ماں سے مشورہ کرتی رہتی۔ مگر خاندان بھر میں ان کو کوئی لڑکی پسند نہ آئی مریم کی ماں کو مبارک باد دینے کے ساتھ بہو پر تنقید بھی کر رہے تھے اور وہ اداسی سے مسکرا دیتی۔ مریم کا بھائی ولے کے اگلے دن دادی کے کہنے پر بنی مون پر باہر ملک جارہے تھے . مریم نے بھائی سے کہا کہ کل ڈیڈ کی رپورٹس آتی ہیں تم کچھ دن رک جاو۔ ڈیڈ بیمار ہیں۔ اس کی بیوی گرج کر بولی، کیا ہو گیا ہے ہلکی پھلکی طبیعت خراب ہے۔ ہم ڈاکٹر تھوڑی ہیں جو ان کا علاج کریں گے وہ ٹھیک تو ڈاکٹر سے ہوں گے۔ ہم کو نسا ہمیشہ کے لیے جارہے ہیں مریم کا بھائی بیوی کے ڈاکٹے پر کہ چلو فلائیٹ مس ہو جائے گی دیر ہو رہی ہے۔

خاموشی سے بیوی کے پیچھے چل پڑا۔ باپ کی جب رپورٹ آئی تو کینسر کی لاسٹ اسٹیج تھی۔ مریم رپورٹ پڑھ کر بے ہوش ہو گئی۔ مریم کے باپ کو ڈاکٹر دوست نے تسلی دیتے ہوئے بتا دیا تھا کہ یہ مسئلہ ہو سکتا ہے۔ سنکر وہ جھوٹ بولا تھا کہ میری بیٹی کا کیا ہو گا۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ یہ تو اللہ تعالی ہی جانتے ہیں کہ کیا ہو گا تم فکر نہ کرو اللہ تعالی بہتر کریں گے ۔ ماں نے بڑی مشکل سے اسے ہوش میں لایا۔ خود ماں کی حالت بھی دیدنی تھی ۔ مگر وہ اسے سمجھارہی تھی کہ تم اپنے ڈیڈ کو حوصلہ دو وہ اپنے باپ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔ ماں اور دادی بھی دور ہی تھیں۔ بیٹے کا اس وقت اتفاق سے فون آگیا جب اس نے سنا تو بولا، ہم آج ہی نکل رہے ہیں۔ ان کے آنے میں ابھی دو دن باقی تھے۔ بیوی وہ دو دن بھی ادھر رہنا چاہتی تھی پھر دادی کے بلانے پر اسے آنا پڑا۔

ڈیڈ میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گی۔ میں آپ کو علاج کے لیے باہر ملک لے کر جاوں گی۔ کافی دن مریم بوکھلای بوکھلائی پھرتی رہی۔ اپنے ڈیڈ کو وقت پر دوائی دیتی۔ ان کو پر ہیزی کھانے اپنے ہاتھوں سے کھلاتی۔ ان کے ساتھ لان میں کھیلتی۔ ہر طرح سے وہ باپ کا دل بہلائی۔ بھائی نے باپ کی ہدایات پر آفس کے سارے اسرار ورموز سمجھ لیے تھے کہ کس کو کب پے منٹ کرنی ہے کس کو کب دینی ہے۔ اس کام میں اس کی بیوی بھی اس کی ہیلپ کر رہی تھی۔ وہ بھی ساتھ آفس جاتی اور اس سے زیادہ اس کی بیوی نے معاملات سنبھال لیے تھے۔ مریم کو کچھ ہوش نہ تھا۔ اس کے ڈیڈا سے تسلی دیتے کہ میری شہزادی تم اپنا خیال بھی خود رکھنے کی آپ عادت ڈال لو۔ پھر دونوں رونے لگے۔ باپ کی صحت دن بدن گرتی جارہی تھی وہ ہاسپٹل ایڈمٹ نہیں ہونا چاہتے تھے۔

کہتے تھے کہ میں آخری وقت اپنے گھر گزارنا چاہتا ہوں۔ مریم کی دادی بھی اداس تھی مگر پھر بھی وہ اپنے وقت پر کھاتی پیتیں۔ سارے کام اسی روٹین میں کرتی۔ دینے کا آکر کھڑے کھڑے حال احوال پوچھتی اور اپنے کمرے میں جا کر اپنی روٹین کے مطابق ٹی وی دیکھئے لگ جائیں ملازم باتیں بناتے کہ کیسی ماں ہیں بیٹے کی فکر ہی نہیں ہے۔ مریم بھی دادی کے رویے پر حیران ہوتی۔ مریم کی ماں شوہر کے صدقے خیرات دینے میں مصروف رہتی۔ دعائیں پڑھ کر پانی دم کرتی اور ان کو ہر وقت پلاتی رہتی۔ رورو کر نماز میں شوہر کے لیے دعائیں کرتی۔ جب تبھی پاس بیٹھتی اس کے آنسو نہ تھمتے۔ کبھی بیٹی کو نصیحتیں کرتی کہ میرے بعد ایسے کرنا ویسے کرنا۔ حوصلے میں رہنا۔ اپنے آپ کو خود ہی سہارا دینا ۔ اب تم نے اپنا آپ خود سنبھالنا ہے اور اپنا سارا خود بنتا ہے۔ اللہ تعالی کے سوا اب تمہارا کوئی سہارا نہیں مشکل وقت میں گھبرانا نہیں

بھائی بھی اب شادی شدہ ہو گیا ہے۔ دادی بھی اب بوڑھی ہیں۔ ان کی بھی دیکھ بھال اب تم نے کرنی ہے۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں کہتی موم آپ پر وقت کیوں ایسی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ آپ ہیں نامیرے ساتھ پھر مجھے کسی کی کیا ضرورت ہے بھلا۔ وہ نظریں جھکا کر بولی، میں بھی کیا پتا تمہارے ساتھ نہ رہوں۔ مریم نے گھور کر انہیں دیکھا اور گلے لگا کر چومتے ہوئے کہا کہ اللہ نہ کرے۔ سارا خاندان مریم کے باپ کو دیکھنے آرہا تھا۔ مریم کا باپ سب کو شکایت لگاتا کہ میری بیوی پاگل ہو رہی ہے۔ اس کو کوئی سمجھائے کہ یہ بیمار پڑ گئی تو ہم سب کا کیا ہو گا۔ اپنا خیال بھی رکھا کرے کچھ آرام بھی کر لیا کرے۔ وہ کہتی آرام کا وقت نہیں ہے۔ مریم کی ماں نے ایک پیکٹ اس کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسے میں تمہارے تکیے میں ڈال رہی ہوں کسی کو بتانا مت۔ وہ لا پروائی سے بولی، او کے موم رات کو ماں سوئی صبح ہو گئی وہ اٹھی ہی نہیں۔

ملازمہ نے بتایا کہ بیگم صاحبہ بے ہوش لگ رہی ہیں۔ بیٹے نے ڈاکٹر کو فون کیا اور ساتھ ہی ایمبولینس منگوالی۔ مریم رو رو کر ماں کو جھنجھوڑ رہی تھی، افرا تفری مچ گئی تھی۔ ڈاکٹر نے کنفرم کر دیا کہ یہ دو گھنٹے پہلے فوت ہو چکی ہیں۔ پھر بھی آپ انہیں ہاسپتال لے جا کر کنفرم کر لیں۔ جب ہاسپٹل لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے اچھی طرح چیک کرنے کے بعد ان کو مردہ قرار دے دیا۔ مریم بار بار بے ہوش ہو رہی تھی رشتے دار عورتیں اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ مریم کے باپ کی حالت خراب ہو رہی تھی اسے ہاسپٹل لے کئے ابھی بیوی کا جنازہ پڑا ہوا تھا کہ وہ بھی اس دنیا کو چھوڑ کے ایک ساتھ دو جنازے پڑے ہوئے تھے۔ مریم رو رو کر کبھی باپ کی چار پائی پر جا کر روتی کبھی ماں کی ۔ وہ بھائی کے گلے لگی وہ بھی رو رہا تھا۔ دادی کرسی ڈالے بین کر رہی تھی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ و

جب ان دونوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھائے کئے تو مریم نے رورو کر فریاد کی کہ ان کو میں جانے نہ دوں گی۔ چار پائی پکڑ لیتی۔ بڑی مشکل سے اسے ہٹایا گیا۔ تو وہ بے ہوش ہو گئی۔ رشتے دار اسے ہاسپٹل لے کئے۔ ادھر اس کو ڈرپ لگادی گئی اور جب ہوش میں آئی پھر روتی چیخی ڈاکٹر انکل نے اس کی بہت دیکھ بھال کی۔ نرس ایک دیکھ بھال کے لیے مقرر کر دی۔ دو تین دن وہ ہاسپٹل میں رہی۔ دوسرے دن بہو نے قتل کروا کر سب رشتے داروں کو کہہ دیا کہ آپ لوگ بھی مصروف ہیں اور ہم لوگ بھی اس لیے چالیسواں آج ہی ہو گا۔ رشتے دار بھی سب چلے گئے۔ بھائی ڈاکٹر سے فون کر کے بہن کا حال پوچھ لیتا۔ ادھر وہ بہت مصروف تھا۔ کبھی روتا تو دادی تسلی دیتی۔ بیوی تو اسے کاموں میں لگائی رکھتی۔ ڈاکٹر انکل اسے اپنے گھر لے کئے کہ ابھی تم گھر نہ جاو تمہارا غم کا زخم ابھی تازہ ہے۔

گھر میں جاو گی والدین نظر نہیں آئیں گے تو پھر طبیعت بگڑ جائے گی۔ ڈاکٹر انکل اس کے ڈیڈ کے دوست تھے۔ ان کی بیوی اور وہ اکیلے رہتے تھے۔ ان کے بچے باہر ملکوں میں شادیاں کر کے رہتے تھے۔ ڈاکٹر انکل کی بیوی نے مریم کو بہت سہارا دیا۔ اس کو کافی حد تک بہلا لیا۔ وہ جب گھر گئی تو دادی سے ملکر بہت روئی بھائی نے پیار سے تسلی دی اور چپ کرایا۔ اس کی بیوی نے منہ بنا کر کہا کہ یہ کیا مصیبت ہے کیا گھر میں ہر وقت ماتم والا ماحول رہے گا۔ اسے نہیں روتا ہو تو اکیلے کمرے میں جا کر رولے، گھر کا ماحول خراب نہ کرے۔ میری طبیعت پہلے ہی خراب ہے پر پریسینی ہے۔ دادی ایک دن مریم سے بولی بیٹی تو کسی ہوسپٹل چلی جا۔ ادھر یہ تیری بھا بھی تجھے کھل کر سانس بھی نہیں لینے دے میں کوستی ہوں اس وقت کو جب اس منحوس کو بیاہ کر لائی۔ بھابھی نے اتفاق سے سن لیا اور بھائی نے بھی چند آخری الفاظ سن لیے کہ دونوں کی بھابھی نے وہ بے عزتی کی ساتھ مریم کا بھائی بھی بولنے لگا اور ناراض ہو کر چلا گیا۔

مریم کے ساتھ بھا بھی اور بھائی بر اسلوک کرنے لگے۔ دادی بیمار رہنے لگی۔ مریم نے ڈاکٹر انکل کو فون کر کے بتایا کہ دادی بیمار ہیں۔ وہ انہیں ایمبولینس بلا کر ہاسپٹل لے کئے۔ بھا بھی نے مریم کو بہت زلیل کیا کہ ہمیں سب کے سامنے ذلیل کروانا چاہتی ہو کہ لوگوں کو بلاتی پھرتی ہو ۔ مریم نے دبے لفظوں میں کہا کہ بھائی کو بتایا تو تھا۔ یہ سنتے ہی بھا بھی نے رکھ کر اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا کہ وہ دور جا گری۔ مریم بمشکل اٹھ کر غمزدہ قدموں سے چلتی اپنے کمرے میں گئی اور جا کر نڈھال سی ہو رونے لگی۔ اپنے ڈیٹ کو یاد کر کے فریاد کرنے لگی کہ آپ کی لاڈلی کو کبھی پھول بھی نہیں مارا تھا آج دنیا اسے کس طرح مار رہی ہے۔ بھا بھی کمرے میں آکر چلانے لگی یہ مظلومیت کا ڈرامہ کب تک کرتی رہو گی۔ جینا حرام کیا ہوا ہے۔ رورو کر محوست پھیلا رکھی ہے۔ نہ خود خوش رہتی ہو نہ ہمیں رہنے دیتی ہو۔

سب کے والدین مرتے ہیں کیا وہ اسی طرح ہر وقت گھر میں سوگ پھلائی رکھتے ہیں۔ نارمل ہو جاو اور نہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا پہلے ہی میری طبیعت سخت خراب ہے۔ اس کو بالوں سے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولی۔ خبر دار جو بھائی یا کسی اور کو بتانے کی کوشش کی۔ وہ درد سے چلائی کیونکہ بھا بھی نے اس کے بالوں کو زور سے کھینچا ہوا تھا۔ وہ تڑپتے ہوئے بولی، نہیں بتاوں گی۔ تھوڑی دیر بعد دادی کے مرنے کی خبر آگئی سارے رشتے دار جمع ہونا شروع ہو گئے ۔ مریم ہے آواز رو رہی تھی۔ سب نے مریم کو تسلی دینا شروع کی اور بہت افسوس کرنے لگے کہ باپ کی لاڈلی آج دادی کو بھی کھو بیٹھی ہے ۔ جب جنازہ اٹھانے لگے تو مریم نے چار پائی پکڑ کر دہائی دی کہ میں اپنی دادی کو نہیں جانے دوں گی۔ بھا بھی قریب آی اور اسے پکڑ کر بناوٹی پیار سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی، میری جان یہ سب تو ابھی واپس چلے جائیں گے تو ہم ہیں نا تمہارے اپنے ۔ میں بھائی تمہارے بغیر کھانا نہیں کھاتے

بس مت رو صبر کر آمیں تجھے کمرے میں لٹا دوں تو آرام کر ۔ پھر ملازمہ سے بولی۔ دودھ کا گلاس گرم کر کے لاو۔ ساتھ کچھ بسکٹ وغیرہ بھی لے آو۔ سب کے سامنے اسے بسکٹ اور دودھ کا گلاس پلا کر نیند کی گولی کھلا دی کہ ویسے ہی رات بھر رورو کر تنگ کرے گی میہ نہ ہو کہ بھائی بھی پکھل جائے ۔ ڈاکٹر انکل کی بیوی نے اسے کہا کہ چلو آج ہمارے گھر چلو. بھا بھی جھٹ بولی، انکل ہم ہیں نا اس کا خیال رکھنے کے لیے۔ مریم نے بھی ڈر کر جانے سے انکار کر دیا۔ مگر انکل نہ مانے اور بولے، پہلے بھی رہی تھی تو کافی بہل گئی تھی۔ زبردستی وہ لوگ لے کئے اور مریم نیند کی گولی کھا کر نڈھال سی تھی جاتے ہی سو گی۔ ڈاکٹر انکل نے روتے ہوئے بیوی سے کہا، یہ میرے دوست کی بہت لاڈلی تھی۔ آج اس کے لاڈ اٹھائے والا کوئی بھی نہیں رہا۔ چند دن وہ ادھر رہی تو بہتر ہو گئی۔ ڈاکٹر انکل نے کہا کہ تم جاب کر لو تا کہ تمہارا دل بہلا رہے بھائی اسے بیوی کے کہنے پر لینے آگیا۔

ڈاکٹر انکل نے کہا کہ جب بھی جاب کی ویمینسی آئی میں اس کو بتادوں گا بہتر ہے جاب کر لے تاکہ دل بہلا رہے۔ جب تک کوئی اچھار شتہ نہیں ملتا۔ گھر میں سب کی یادیں اس کو رلاتی رہیں گی۔ بھائی اسے دیکھ کر اسے گلے لگا کر بولا چلو اپنے گھر تمہاری بھا بھی شدت سے تمہاری راہ تک رہی ہیں۔ وہ کچھ خوفزدہ سی ہو گئی پھر سوچا، ایسے ڈر ڈر کر کب تک جیے گی۔ وہ بھائی کے ساتھ جب گھر پہنچی تو بھا بھی بڑے جوش سے گلے لگا کر ملی۔ مگر وہ نارمل رہی۔ بھائی سامنے ہوتا تو بھا بھی مریم کو کھانے پینے کا خوب پوچھتی۔ ویسے اس کو کھانے کا نہ پوچھتی۔ وہ بریڈ وغیرہ ہی کھا کر نمکو چیپس پر گزارہ کرتی۔ بھا بھی نے اس کو پاکٹ منی کبھی نہ دیا وہی رقم تھی جو اس کے پاس پڑی تھی۔ اس نے دیکھا بھا بھی نے اس کے کمرے میں خفیہ کیمرہ لگا دیا ہے۔ وہ محتاط ہو گی۔ ماں کے دیے ہوئے تھیلے کا خیال آتا مگر وہ کیسے کھولتی۔ اس نے ڈاکٹر انکل کو میسج کر کے تکیے کے بارے میں اور بھا بھی کے بارے میں سب بتادیا۔

بھا بھی اس کے کمرے میں آئی اور موبائل چیک کر کے کہنے لگی۔ مریم نے سب میسنجر ڈیلیٹ کر کر دیے تھے۔ بھا بھی موبائل پکڑا کر مطمئن ہو گئی۔ پھر تسلی سے بیٹھ کر پوچھنے لگی کہ تمہاری ماں کے زیورات وغیرہ کدھر ہیں۔ میں ہر جگہ ڈھونڈ چکی ہوں۔ مگر نہیں ملے۔ اس نے جواب دیا، مجھے کیا پتا، مجھے تو ویسے بھی ان چیزوں میں انٹرسٹ نہیں تھا۔ وہ بولی، چلو وہ بعد کا معاملہ ہے۔ تمہیں بتانا تھا کہ میں نے اپنے بھائی کے ساتھ تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ وہ ہکا بکا دیکھنے لگی۔ بھا بھی بولی۔ کوئی احتجاج مت کرنا، فائدہ کچھ نہ ہو گا۔ وہ یکدم بولی، میں کیوں احتجاج کروں گی آپ کا بھائی مجھے ویسے بھی پسند تھا مگر شرم سے بتا نہیں سکی۔ آپ نے تو میرے دل کی مراد پوری کر دی۔ وہ حیرت سے بولی، سچ کہہ رہی ہو۔ مریم جھٹ بولی، شادی کا سوٹ میں ریڈ پہنوں گی کیونکہ دولہن ریڈ کلر میں ہی اچھی لگتی ہے۔ وہ خوش ہو کر بولی ٹھیک ہے میری جان۔

دوسرے دن اس کے گھر والے آئے اور اسے انگوٹھی پہنا کئے۔ لڑکا ابھی باہر سے آنا تھا۔ اس نے ڈاکٹر انکل کو سب بتادیا اور وہاں سے نکلنے کا کہا۔ وہ آگے دن بیوی کے ساتھ مٹھائی وغیرہ لے کر آئے کہ مریم کی منگنی کی ہے۔ ہمیں نہیں پوچھا۔ اب شادی میں کوئی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کہنا۔ مریم سے بولے، بیٹا چلو ایک دن ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں بازار سے تمہاری پسند کا گفٹ لے کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ بولی، انکل اس کی کیا ضرورت ہے۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولے، تم ہماری بہت لاڈلی ہو جیسے باپ کی تھی۔ اب انکار مت کرنا۔ وہ آہ بھر کر بولی، ٹھیک ہے۔ ان کی بیوی بولی، ایک تجویز ہے اگر اسے ہم اپنے گھر سے رخصت کریں تو کیسا ہے۔ بھابھی نے منع کیا تو ڈاکٹر صاحب کی بیوی مریم کے بھائی سے بولی، ادھر رہے گی تو شادی ہونے تک اسے سب کی یاد ستاتی رہے گی۔ آپ نے شاپنگ پر لے جاتا ہو تو ادھر سے ہی لے جائیں اور ادھر ہی چھوڑ دیا کرتا۔

بھا بھی بولی نہیں ایک دن کے لیے ہی کافی ہے۔ مریم بولی ، ڈاکٹر انکل پلیز مجھے ادھر ہی رہنے دیں۔ میں بس ایک دن کے لیے آپ کے ساتھ چلوں گی۔ وہ بولے ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری رضی بھا بھی چائے کے لیے کچن میں گئی تو مریم نے جلدی سے بیگ میں چند کپڑے اور اپنے ضروی کاغذات ڈالے اور تکیہ بھی اٹھا کر بولی چلیں انکل۔ وہ بولے بیٹا یہ تکیہ کس لیے۔ وہ بولی، جاتی ہے کل واپس لے آوں گی۔ وہ ہنس کر بولے ٹھیک ہے گاڑی میں سامان رکھواد و۔ بھا بھی ملازمہ کے ساتھ چائے لے آئی مریم نے سامان رکھوا کر گاڑی لاک کر کے چابی انکل کو دے دی۔ چائے پی کر وہ لوگ گھر پہنچے تو اگلے دن ہی اسے نوکری مل گئی۔ اور اسی دن ڈاکٹر صاحب کی بیوی کو باہر ملک جانا پڑ گیا ان کی بیٹی کی پریسینسی شروع تھی۔ اس کی طبیعت خراب تھی۔ مریم نے تکیہ کھول کر تھیلا نکالا تو اس میں اس کی ماں کے زیورات تھے۔

اس نے ڈاکٹر انکل کی مدد سے وہ بینک میں رکھوا دیے۔ بھائی اگلے دن لینے آیا تو مریم نے بھابھی کے ظلم کی داستان سنائی اور شادی سے انکار کر دیا۔ بھائی بہت حیران ہوا۔ مریم نے کہا کہ اس نے ادھر نوکری کر لی ہے۔ بھائی جب گھر پہنچا تو بیوی کو غصے سے سب بات بتائی وہ دھاڑیں مار مار کر مکاری سے رونے لگی کہ اگر وہ شادی نہیں کرنی تھی تو ایسے بد نام تو نہ کرتی جھوٹے الزامات تو نہ لگائی۔ وہ اپنے والدین کی جھوٹی قسمیں کھانے لگ پڑی۔ پھر اس نے مریم پر الزام لگا دیا کہ اس کا ڈاکٹر انکل سے چکر چل رہا ہے۔ ان کی بیوی بھی موجود نہیں پھر بھی وہ ادھر رو رہی ہے۔ بھائی نے اس سے مرنا جینا ختم کر لیا۔ مریم نے تنگ آکر اپنی ٹرانسفر پہاڑی علاقے میں کروالی۔ وہاں گاوں کے لوگوں سے سنا کہ اس ہاسپٹل میں رات کی ڈیوٹی کوئی نہیں دیتا کیونکہ وہاں جنات کا بسیرا ہے۔ مریم نے کہا۔ انسانوں سے بڑھ کر تنگ کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اس نے بغیر ڈرے ادھر ڈیوٹی دینی شروع کر دی کچھ بھی ایسا نہ ہوا۔ وہاں کا بڑا ڈاکٹر اسے پسند کرنے لگا۔

اس نے اسے پر پوز کیا تو مریم نے سوچا کہ وہ ویسے بھی اچھے انسان ہیں اس کا بہت خیال رکھتے ہیں اگر میں ان سے شادی کروں گی تو ڈاکٹر انکل کا الزام مجھ سے اتر جائے گا۔ اس نے اقرار کیا تو ڈاکٹر صاحب نے بہت خوشی میں کہا کہ میری فیملی چند دنوں تک آے گی انہوں نے بھی آپ کو بہت پسند کیا ہے اور میرے والدین اور بہن بھائی سب اس رشتے سے بہت خوش ہیں۔ مریم نے ڈاکٹر انکل کو اس رشتے کا بتایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور مبارک باد دی۔ مریم آپریشن تھیٹر گئی تو اندر سے کچھ عجیب سی آوازیں آرہی تھیں جب وہ اندر پہنچی تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گی وہاں تو اس کا بھائی کھڑا تھا. وہ مریم سے معافی مانگنے لگا کہ مجھے ڈاکٹر انکل سے اس رشتے کا پتا چلا ہے. مجھے معاف کر دو۔ میں نے تمہیں بیوی کی باتوں میں آکر غلط سمجھا۔ مریم نے بھا بھی کا پوچھا تو وہ نفرت سے بولا ، وہ لالچی عورت تھی میر اسب کچھ ہتھیانا چاہتی تھی۔

جب میں نے دینے سے انکار کیا تو طلاق مانگنے لگی اور میں نے بھی دے دی۔ وہ گھر کی تو والدین کے ایکسیڈنٹ کا سنادونوں فوت ہو کئے اب بھائی بھا بھی کی آیا بنی ہے۔ اور بچہ پہلے ہی اس نے ابارشن کروالیا تھا۔ مجھے وہ بھی غصہ تھا۔ پھر میں نے ایک غریب اور شریف لڑکی سے نکاح کر لیا ہے جو میرے آفس میں کام کرتی تھی۔ اب تم گھر چلو وہ بہت اچھی ہے تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ میں تمہیں اپنے گھر سے عزت سے دھوم دھام سے رخصت کروں گا اور جتنا جائیداد میں حصہ بنتا ہے وہ بھی دوں ۔ گا۔ مریم بھاگ کر بھائی کے گلے لگ گئی دونوں رونے لگے۔ ڈاکٹر سہیل نے دونوں کو تسلی دی۔ مریم گھر واپس آئی تو دیکھا جو لڑکی اس کی بھا بھی تھی وہ اس کی کلاس فیلو تھی۔ ان کی دوستی تو نہ تھی مگر وہ اسے جانتی تھی کہ وہ اچھی لڑکی تھی۔ مریم اسے ملکر بہت خوش ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اس کے فادر کا بزنس فلاپ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ آگے نہ بڑھ سکی۔

بھا بھی اس کا بہت خیال رکھتی۔

مریم اپنے روم میں آکر شدت سے روئی۔ موم ڈیٹ کو سارے گھر میں آوازیں دیتی اور روتی رہی۔ دادی کے کمرے میں جا کر بھی روتی رہی بھا بھی اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتی۔ اس کے کھانے پینے کا خیال رکھتی۔ مریم کی شادی کی بھائی نے تیاریاں زور و شور سے کر رکھی تھیں۔ جائیداد میں سے شرعی حصہ بھی بہن کے نام کر دیا تھا۔ ڈاکٹر انکل کی بیوی بھی آچکی تھی اور مریم کے پاس ماں بن کر رہ رہی تھی۔ ڈاکٹر انکل مریم کے بھائی کی شادی میں پوری مدد کر رہے تھے۔ مریم کے سسرال والے اسے منگنی کی انگوٹھی پہنا گے تھے۔ وہ سب بھی بہت اچھے تھے۔ ان کو بھی مریم بہت پسند آئی تھی۔ کیونکہ ان کا بیٹا کسی سے بھی شادی پر راضی نہ تھا، گھر والوں نے شکر کیا تھا کہ ایک تو وہ شادی پر راضی ہوا دوسرا مریم اچھی لڑکی ڈھونڈی۔ شادی والے دن مریم بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ سب اس کے دولہے کی بھی تعریف کر رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *