Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

مجھے ڈرائیور کی ضرورت تھی والد کے کہنے پر میں گاؤں کے مظہر کو ڈرائیور رکھ لیا پہلے اس کو سیکھایا

مجھے ڈرائیور کی ضرورت تھی والد کے کہنے پر میں گاؤں کے مظہر کو ڈرائیور رکھ لیا پہلے اس کو سیکھایا

مجھے ڈرائیور کی ضرورت تھی ابا جی سے ذکر کیا تو انہوں نے گاؤں سے مظہر احمد کو بھجوا دیا۔ابا جی نے اس کی بہت تعریف کی تھی ۔ بہت نیک اور شریف لڑکا ہے ۔ دسویں پاس ہے ۔اسے رکھ لو ۔۔۔ اس کی ماں تمہیں دعائیں دے گی اور ماں کی دعائیں میرا سب سے بڑا ویک پوائنٹ تھا ۔ میں دعائیں ہاتھ سے کیسے

جانے دیتا فورا مظہر احمد کو بھیجنے کا کہہ دیا ۔۔۔۔۔ وہ گاڑی چلانا جانتا تھا کچھ دن کی ٹرینگ کے بعد اس نے با قاعدہ چارج سنبھال لیا ۔ ابا جی مظہر کے بارے میں ٹھیک کہتے تھے ۔ اس کا ندازہ مجھے اس دن ہو گیا ۔ صبح جاگنگ سے واپسی پر سرونٹ کوارٹر سے آتی تلاوت کی آواز نے میرے قدم روک لیے ۔ یہ مظہر

احمد تھا ۔ میرا وہ سارا دن بہت اچھا گزرا میں اپنے دل کی خوشی کی وجہ نہیں جان پایا مگر میں خوش تھا بہت خوش ۔ اور پھر میں اکثر خوش رہنے لگا ۔ روز مرہ کی مصروفیت بزنس کے معاملات سب کچھ ویسا ہی تھا فرق صرف اتنا تھا کہ اب مجھے چیزیں پریشان نہیں کیا کرتی تھیں ۔دل کو اٹھا کر کسی نے پرسکون جگہ پر

رکھ دیا تھا ۔دل نے بے چین ہونا ، پریشان ہونا کیوں چھوڑ دیا ۔۔ ؟ شاید میں جان نہ پاتا اگر مظہر احمد کی اپنی والدہ سے ہونے والی گفتگو نہ سنتا ۔ بھیگی آواز سے وہ اپنی والدہ کو حال احوال بتا رہا۔اماں میں بہت خوش ہوں ۔ تیری دعاؤں کا پھل ہے اماں ۔ دعاؤں کا پھل میٹھا ہوتا ہے نا ۔۔۔۔ ! تو ہی تو کہا کرتی ہے ۔

پورے میں ہزار تنخواہ ہے جلد ہی پیسے بھیجوں گا ۔ دو پہیوں سے چار کا یہ سفر بڑا انوکھا ہے اماں ۔۔۔ ! تیرے سائیکل چلانے والے کملے مظہر کو اللہ نے بہت نواز دیا جانتی ہے اماں ۔۔۔ ؟ میں بہت سوچتا رہا کیے چلتی ہے یہ گاڑی ۔۔ ؟ موٹر کیسے کام کرتی ہے اس کی ۔۔۔ ؟ پھر تیری بات یاد آئی اماں ۔۔۔ جب میں

چھوٹے ہوتے تجھ سے پوچھا کرتا تھا ۔۔۔۔ بیں کیسے چلتی ہیں اماں ۔۔ ؟ تو تو کہا کرتی تھی میں کیا جانوں پتر میں تو بس اتنا جانتی ہوں یہ اللہ کے حکم سے چلتی ہیں محض اس کے فضل سے چلتی ہیں ۔سو بسم اللہ پڑھ کر سوار ہوا کر پتر یہ منزلوں پر پہنچاتی ہیں ۔ تو ٹھیک کہتی تھی اماں یہ محض اس کے حکم سے چلتی

اماں ۔۔۔ ! مظہر احمد کی آواز میں محسوس ہونے والی کن من اسہیں ۔اماں جب بھی گاڑی میں بیٹھتا ہوں سو کیا ہزار بسم اللہ پڑھ کر بیٹھتا ہوں ۔ اماں تیرا مظہر پر شدید گرمی میں سڑا کرتا تھا مالک اکثر مزدوری بھی نہیں دیا کرتا تھا ۔ پٹھے میں پکی اینٹیں بھی تیرے مظہر کی محنت کی گواہ تھیں فقرے کے بعد موسلا

دھار بارش میں بدل گئی تھی ۔ میں اس بارش میں بھیگ رہا تھا کچی مٹی کی طرح بہہ رہا تھا اس کی سسکی میں مجھے شکر کی کیفیت میرے اندر ڈیرہ ڈالنے لگی تھی ۔ بے شک وہ بہت صابر اور شاکر تھا ۔ وہ اپنی والدہ کو بتارہا تھا ۔۔۔ ! “ شدید گرمی میں ٹھنڈی کار میں بیٹھتا ہوں تو اس مزدور کی خوشی کا

خیال آتا ہے جس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی گئی ہو ۔ تیرے مظہر کی ساری مزدوریاں رب نے جمع کر رکھی تھیں اماں ۔۔۔۔ یک مشت ادا کر دیں اس کی آواز بھاری ، ہوتی جا رہی تھی۔۔ہاں اماں آیتہ الکرسی پڑھ کر بیٹھتا ہوں چاروں قل بھی پڑھتا ہوں اماں صاحب جی کے

بھی نہیں تھا ۔ رب کا اس طرح شکر ادا کرنے والا کوئی عام شخص نہیں ہو سکتا ۔ مظہر احمد خاص تھا بہت خاص ۔ دادی کے گاؤں والے گھر کے باورچی خانے میں جالی والی ایک الماری ہوا کرتی تھی جسے نعمت خانہ  کہتے تھے ۔ وہ کھانے پینے کا سامان اور خاص طور پر ابلا دودھ اس میں ٹھنڈا ہونے کے لیئے رکھا کرتی تھیں ۔مظہر احمد نے میرے دل کو اٹھا کر نعمت خانے میں رکھ دیا تھا ۔ زندگی کو بھی جیسے ابال آ گیا تھا ۔اس پر بالائی کی موٹی تہہ جمنے لگی تھی ۔ میں مظہر احمد کا احسان مند تھا اس نے مجھے شکر کرنا سکھا دیا تھا ا شکر بہت مصروف رہنا بھی خدا کی ایک نعمت

ہجوم دوستاں ہونا ، کسی سنگت کا مل جانا ، کبھی محفل میں ہنس لینا ، ، بھی پیلوت میں رو لینا کبھی تنہائی ملنے پر خود اپنا جائزہ لینا ، کبھی کبھی رکھتے کسی دل ہے ، تشقی کا مرہم رکھنا ، کسی آنسو کو چن پانا ، کسی کا حال لے لینا ، کسی کا راز ملنے پر ، لبوں کو اپنے سی لینا ،

کبھی رکھتے کسی دل ہے ، تشقی کا مرہم رکھنا ، کسی آنسو کو چن پانا ، کسی کا حال لے لینا ، کسی کا راز ملنے پر ، لبوں کو اپنے سی لینا ،

کسی بچے کو چھو لینا ، کسی بوڑھے کی سن لینا ، کسی کے کام آ سکتا ۔ کسی کو بھی دعا دینا ، کسی کو گھر بلا لینا ، کسی کے پاس خود جانا ، نگاہوں میں نمی آ نا ،

بلا کوشش ہنسی آ نا ، تلاوت کا مزہ آ نا ، کوئی آیت سمجھ پانا ، کبھی سجدے میں سو جانا ، کسی جنت میں کھو ، جاتا ، خدا کی ایک نعمت ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *