Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

بیگم کو سوٹ گفٹ کر ناتھاسوٹ خریدنے کے لیے ایک دوکان پر گیاوہاں

بیگم کو سوٹ گفٹ کر ناتھاسوٹ خریدنے کے لیے ایک دوکان پر گیاوہاں

بیگم کو سوٹ گفٹ کرنا تھا سوٹ خریدنے کے لیے ایک دوکان پر گیا وہاں بہت ساری ورائٹی اور ڈیز این دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے کیا خریدوں پھر میں وہاں پر بیٹھی دو لڑکیوں کو فالو کرنا شروع کر دیا جو مجھ سے پہلے دوکان میں موجود تھی اور ان کی سلیکش بھی انھی معلوم ہورہی تھی تقریباً آدھے گھنٹے بعد ان لڑکیوں نے ایک سوٹ سلیکٹ کر لیا اب جیسے ہی وہ

سوٹ لیے کر اٹھی میں بھی اسی کاونڑ جا پہنچا اور سیل مین کو کہا جو سوٹ ان لڑکیوں کو دیا ہے بلکل وہی ایک سوٹ مجھے بھی نکال دوں اب میں بلینگ کاونٹر پر جا رہا تھا تو میری نظر پھر سے انہی لڑکیوں پر پڑی جو پھر سے ایک سوٹ سلیکٹ کر رہی تھی میں پچر سے ان کے بیچے جا کھڑا ہوا چلو اگر یہ سوٹ اچھا ہوا تو یہ بھی لے لوں گا اب تقریباً 15 سے 20 منٹ کی جد وجہد کے بعد انہوں نے یہ سوٹ بھی لیے لیا اور

ان کو فالو کرتے ہوئے میں نے بھی سیم کلر اور ڈیزائین نکلوا لیا اور کونڑر پر بل ادہ کر دیا اب میری نظر پھر سے ان لڑکیوں پر پڑی انہوں نے وہ دونوں سوٹ واپس کیے اور دوکان سے باہر نکل گتاب میرا تجسوس کا پیانہ لبریز ہو گیا کے آخر انہوں نے سوٹ واپس کیوں کیے میں ان کے پیچے کچے یار کینگ تک پہنچ گیا جا کر وجہ دریافت کی ان کا

جواب سن کر مجھے چکر آنے لگے اور میرے منہ سے ۔ یہ جملہ نکلا یا اللہ جب تو عقل تقسیم کر رہا تھا اس وقت ہم لڑکے کہا تھے ان لڑکیوں کا جواب یہ تھا کے وہ ڈیزائن تو تین سال پرانے تھے اور کلر بھی ہماری پسند کے نہیں تھے :: :: :: اور ویسے بھی ہم نے کونسا لینے تھے ہم تو وقت پاس کر رہی تھی ہمارے بھائی نے ہمیں لینے آنا تھا وہ کہتا

تھا کے اسے آنے میں اگھنٹہ لگے گا ہم تو اس کا انظار کر رہی تھی == == = = ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *