Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

سالہ بڑھا اپنی جوان کنواری بیوی کو کیا کھلاتا تھا؟

سالہ بڑھا اپنی جوان کنواری بیوی کو کیا کھلاتا تھا؟

میں اپنی زندگی کی وہ رات کیسے بھول سکتی ہوں جب میں دلہن بن کر بیٹھی ہوئی تھی لیکن میرے اندر ارمان نام کی کوئی چیز نہیں تھی میرا دلہا ابھی کمرے میں نہیں آیا تھا اور مجھے عجیب سی گھٹن کا احساس ہو رہا تھا کمرہ پوری طرح پھولوں سے سجا ہوا تھا لیکن پھولوں کی یہ خوشبو مجھے کوئی خوشی نہیں دے پائی تھی کیونکہ میرے دل کی دنیا لٹ چکی تھی میری اماں نے میری شادی

میری مرضی کے خلاف کر دی تھی جب کہ میں اپنے دوست کے بھائی ارباز سے محبت کرتی تھی لیکن اماں نے نہ جانے کس سے میر ارشتہ طے کر دیا تھا اور مجھے تصویر دکھانا تک گوارا نہیں کیا تھا اور نہ ہی میں نے اماں سے اس بات پر کوئی اصرار کیا تھا جب ارباز نہیں تو پھر کوئی بھی ہوتا کیا فرق پڑتا تھا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میری اماں تو اس بات کا بھر پور فائدہ اٹھائیں گی اور میری

شادی ایک ایسے مرد سے کر دے گی جو کسی قابل ہی نہیں تھا سیج پر بیٹھ کر آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر ہی مجھے نفرت کا احساس ہو رہا تھا میں ارباز کی جگہ کسی اور کو نہیں دینا چاہتی تھی لیکن اس وقت میرے قدموں تلے زمین ہی نکل گئی جب دو کانپتے ہوئے جھریوں زدہ ہاتھوں نے میرا گھنگٹ اٹھایا اپنے دلہا پر نظر پڑتے ہی میری چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی وہ دیکھنے میں سو

سال سے بھی زیادہ کا معلوم ہو رہا تھا اور میں تو ابھی صرف 8 سال کی ہوئی تھی پہلے تو مجھے لگا کہ شاید دلہے کی جگہ کوئی خاندان کا بڑا بزرگ کمرے میں آگیا ہے لیکن جب اس نے مجھے میری دلہن کہہ کر مخاطب کیا تو مجھے یقین آگیا کہ یہی میرا دلہا ہے لیکن میری ماں میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی تھی یہ سوچ کر ہی میری روح کانپ گئی تھی کہ مجھے اپنی آنے والی زندگی اس بڑھے

کے ساتھ گزارنی ہو گیاس کا ہڈیوں والا چہرہ اور کانپتا وجود دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے جو بھی تھا میں اس شخص کو کسی طور پر اپنا شوہر نہیں مان سکتی تھی اس نے اپنے انہی لرزتے کانپتے ہاتھوں سے چار سونے کے کڑے نکال کر میرے ہاتھوں میں پہنانے کی کوشش کی تو میں فورا ہی اٹھ کر کھڑی ہو گئی اس کے لئے تو اپنے ہاتھوں پر قابو کرنا بھی بہت مشکل تھا میرے لئے

سب کچھ اتنا غیر متوقع تھا کہ میں خود کو سنبھال بھی نہیں پائی تھیاب بھی یہ سب مجھے کوئی خواب ھی معلوم ہو رہا تھا مجھے ابھی اور اسی وقت واپس اپنے گھر جانا تھا میں اس بڑھے کے ساتھ نبھا نہیں کر سکتی تھی میں نے اپنی اس بڑھے شوہر کا ہاتھ بری طرح جھٹکا تو سارے کڑے ادھر ادھر گر گئے میرا خون بری طرح کھول رہا تھا شادی کے نام پر مجھے زندہ دفن کر دیا گیا تھا اور یہ

بات مجھے کسی صورت قبول نہیں تھی میر انام بانو تھا اور میں کم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی خوبصورت اور پر کشش بھی تھی جو مجھے دیکھتا میری تعریف کئے بنارہ نہ پاتا ہر کوئی پہلی نظر میں ہی میری خوبصورتی کا دیوانہ ہو جاتا ارباز تو پوری طرح میرا عاشق تھا وہ میری اسکول کی سہیلی کا بھائی تھا اور پچھلے چار سال سے

میری محبت میں پوری طرح ڈوبا ہوا تھا اس کی محبت پا کر

میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھ رہی تھی لیکن مجھے کیا خبر تھی

کہ میری قسمت اتنی بد صورت ہوگی مجھے اپنے لئے کسی شہزادے کی توقع ہر گز بھی نہیں تھی لیکن اس قدر عمر رسیدہ انسان کو قبول کرنا بھی ممکن نہیں تھا میرے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہوا تھا اور یہ دھو کہ میری ماں نے ہی کیا تھا وہ بڑھا مجھے بار بار پیاری دلھن پیاری دلہن کہہ رہا تھا لیکن مجھے اس سے کوئی غرض نہ

تھی اسے تو شائد ٹھیک طرح سے دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا مجھے اپنے حسن پر بڑا ناز تھا اور میں ہمیشہ یہی سوچتی تھی کہ میرا شوہر تو پہلی ہی نظر میں گھائل ہو جائے گالیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہو چکا تھا میرے شوہر کی بینائی کچھ ٹھیک ہوتی تو اسے میں صحیح طرح سے نظر آتی میں اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آئی باہر کچھ جوان عورتیں موجود تھیں جو

مجھے دیکھ کر ہفتے ہوئے کہنے لگی کہ شادی کی رات تم کیوں کمرہ

چھوڑ کر نکل آئی ہو واپس کمرے میں جاؤ کہیں ہمارا دادا تمہارے بغیر اداس نہ ہو جائے ان کی جنسی میں چھپا تمسخر مجھے بخوبی سمجھ آرہا تھا میں نے غصے میں کہا کہ میں کیسے اس بڑھے کے ساتھ رہ سکتی ہوں یہ تو میرے پر دادائی عمر کا ہے تو وہ عورتیں ہنس کر کہنے لگیں کہ تمہاری ماں کو دو لاکھ روپے یوں ہی تو نہیں مل گئے ہیں نہ

اب تمہیں ہمارے دادا کے ساتھ زندگی بھر رہنا ہو گا کیوں کہ

تمہاری ماں نے تمہاری شادی نہیں کی بلکہ دو لاکھ روپے کے عوض تمہیں بیچ دیا ہے ان کی بات سن کر میں ہکا بکارہ گئی تھیمیرا شوہر ان کا دادا تھا یعنی میں ان کی دادی بن چکی تھی وہ بھی مجھ سے پہلے بھی نہ جانے کتنی شادیاں رچا چکا تھا اور شاید وہ عورتیں ٹھیک ہی کہہ رہی تھیں کیوں کہ میری شادی سے پہلے انہاں نے

بہت زیادہ پیسے خرچ کیے تھے اور مجھے بتایا تھا یہ پیسے تمہارے سسرال والوں نے شادی کی خریداری کے لیے دیے ہیں لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ پیسے دراصل اس لیے دیے گئے تھے تا کہ اماں مجھے اس بڑھے کے ساتھ رخصت کر دیں میری ماں شروع سے ہی بہت لالچی تھیم نے ہمیشہ سے ہی غربت دیکھی تھی اس لیے جہاں چار پیسے نظر آتے میری ماں پاگل

ہونے لگتی لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ اپنی لالچ میں اندھی ہو کر وہ میرے بارے میں سوچنا ہی بھول جائیں گی اب گھر واپس لوٹنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ اگر اماں نے اس قدر پیسے لیے تھے تو وہ کبھی مجھے اپنے گھر واپس نہیں رکھ سکتی تھیں میں اپنی جوانی کیسے اس بڑھے کے ساتھ ضائع کر سکتی تھی میری شادی سے پہلے اماں نے گھر میں ایک کمرہ تعمیر کروایا تھا اور گھر کی

چھت بھی بدلوائی تھی اس وقت مجھے ارباز کی محبت کی بچھڑنے کا غم اس قدر تھا کہ میں نے اس بات پر دھیان ہی نہیں دیا کہ اماں کے پاس اس قدر پیسہ آیا کہاں سے اور اگر میرے سسرال والوں نے بھی دیا ہے تو کیوں دیا ہے اس بات کا جواب آج مجھے مل گیا تھا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی میں تھکی ہاری واپس کمرے میں لوٹ آئی تھی وہ بڈھا بستر پر بیٹھا ہی میرا انتظار کر رہا تھا شاید

اُسے یہ بات اچھی طرح معلوم تھا کہ میں اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتی ہوں مجھے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ مسکرایا تو میری جان پوری طرح ہی جل کر خاک ہو گئی اس بڑھے کے منہ میں تو چار دانت بھی ٹھیک طرح سے نہیں تھے مجھے دیکھتے ہوئے وہ کہنے لگا میری دلہن تمہیں میری پوتیوں نے بتا ہی دیا ہو گا کہ

تمہاری ماں نے پیسے لے کر تمہیں میرے ساتھ

رخصت کیا ہے اسی لیے آئندہ اس گھر کو چھوڑ کر جانے کی

کوشش نہ کرناور نہ شاید ساری زندگی تم پچھتاتی رہو گی تم فکر نہ کرو میں تمہیں بہت ہی محبت سے رکھوں گا میری دوسری بیوی کے انتقال کو چھ مہینے ہو گئے ہیں میں نے تم سے شادی بھی اس لیے کی ہے کیونکہ میرے گھر والے اب میرا خیال نہیں رکھ سکتے

میں تنہا سارا سارا دن یہاں وہاں پڑار ہتا ہوں لیکن کوئی مجھ

سے دو لفظ بات کرنے والا بھی نہیں سب کو بس میرے مرنے کا ہی انتظار ہے کچھ جملے بول کر ہی اس بڑھے کا سانس بری طرح پھولنے لگا تھا اور وہ ایسے ہانپ رہا تھا جیسے کئی میل دوڑ کر آیا ہو یہ سوچ کر ہی میری جان نکل رہی تھی کہ اس بڑھے کی تو پوتیاں بھی عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھیں میری ماں نے میرے لیے یہ کیسا آدمی چن لیا تھا جس میں نہ ہی طاقت بچی تھی اور نہ ہی

ہمت بھی اس کی موت کے منتظر تھے لیکن مجھے تو اس کی موت کا سوچ کر بھی خوف آرہا تھا ہماری برادری میں تو رواج تھا کہ اگر کوئی عورت بیوہ ہو جاتی تو وہ ساری زندگی اپنے شوہر کے نام پر ہی بیٹھی رہتی اسے کبھی دوسری شادی کرنے کی اجازت نہ ملتی اور اس بڑھے کو دیکھ کر تو مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میری ساری زندگی بس اس کے نام پر ہی گزرنے والی ہے نہ ہی یہ بڑھا مجھے اپنی

زندگی میں کوئی خوشی دے سکتا تھا اور نہ ہی اس کے مرنے کے بعد مجھے آزادی مل سکتی تھی ارباز کی محبت کو کھو دینے کا دکھ ہی

بہت بڑا تھا اب اس 105 سال کے بڑھے کو اپنے شوہر کے روپ میں دیکھ کر تو رہی سہی امنگیں بھی ختم ہو چکی تھیں مجھے یقین تھا

کہ اس بڑھے میں بالکل بھی طاقت نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ میرے ساتھ کوئی تعلق بنا سکے گا اور اب میں بھی یہی چاہتی

تھی کہ یہ مجھ سے دور ہی رہے تو اچھا ہے مجھے تو اس بات پر خوشی 1 محسوس ہو رہی تھی میرے دل میں ارباز کی محبت زندہ تھی اور مجھے یقین تھا کہ جلد ہی وہ مجھے یہاں سے آکر لے جائے گا جب اسے پتہ چلے گا کہ میری ماں نے اس کی جگہ میری شادی کس سے کی ہے تو وہ میری محبت میں دوڑا چلا آئے گا مجھے کمرے میں آئی زیادہ دیر نہ ہوئی تھی کہ میرا بڈھا شوہر بشیر تو میرے بستر پر

لیٹنے سے پہلے ہی سو بھی چکا تھا جتنی دیر میں میں نے اپنا جوڑا تبدیل کیا اور زیور اتار کے رکھا اس کے خراٹے کمرے میں گونجنے لگے تھے میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا ہر لڑکی کی طرح شادی کو لے کر میں نے بھی بچپن سے ہی بہت سے خواب دیکھے تھے لیکن وہ سب کے سب مٹی ہو چکے تھے جہاں مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ میرا شوہر میرے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنا سکتا تھا

و ہمیں اس بات کا دکھ بھی تھا کہ میری ساری زندگی ایسے ہی تنہا گزر جانی تھی میں نے ایک نظر حویلی کی دیواروں پر ڈالی جہاں میں رخصت ہو کر آئی تھی یہ دیواریں مجھے اپنا مقبرہ معلوم ہو رہی تھیں اپنی ماں کی طرف سے میں بہت زیادہ بد زن ہو چکی تھیں میری ماں نے اپنے حق میں بہت ہی بہترین سودا کیا تھا لیکن میں خسارے میں رہ گئی تھی دو لاکھ روپے کی رقم میری ماں کے

تھے اور بات ام اٹھ بہن بھای این کی چھت پوری طرح ٹپکتی تھی لیے تو بہت ہی بڑی تھی کیونکہ میرا ابا ایک پھل فروش تھا اور اس کے باوجود بھی ہم ساری زندگی پھل کھانے کے لئے ترستے رہے تھے کمرے کے مکان میں رہتے میں بھی اس اماں نے دو لاکھ سے اپنی زندگی کے سارے مسئلے حل کر لیے تھے اور میری پوری زندگی جہنم بنادی تھی اگلی صبح میں

کمرے سے باہر نکلی تو ایک بہت بڑی سی ڈائننگ ٹیبل پر تقریبا

سارے ہی خاندان کے لوگ جمع تھے وہ سب ھی میرے شوہر آئے ہوئے تھے بشیر کے طوطے کو دیا عمر میں مجھ سے زیادہ بڑے

کے بیٹے بیٹیاں پوتے پوتیاں تھے جو ان کی شادی کی خوشی میں ہونے کے ساتھ ساتھ کئی بچوں کے ماں باپ بھی تھے میرے

اندر ایک عجیب سی حسرت نے جنم لے لیا تھا میں نے ایک

نظر اپنی ہی عمر کے لڑکوں پر ڈالی تو میرے دل میں کسک سی اٹھنے لگیوہ بھی بہت کڑیل جو ان سے تھے مجھ جیسی حسین اور خوبصورت لڑکی کے لئے ایسے ہی کسی لڑکے کو ہونا چاہیے تھا ارباز نہ سہی لیکن کوئی تو ایسا ہوتا جو میرا ہم پلہ ہوتا اس وقت ٹیبل پر موجود تمام لوگوں کی نظریں ہی مجھ پر جمی ہوئی تھیں اور ان کی نگاہوں میں میرے لئے جو کچھ تھاوہ میرے لئے ناقابل

برداشت تھا اس پر سے بشیر کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ کوئی بائیکس چوبیس سال کا نیا نویلا دلہا ہو بشیر نے عجیب فرمائش کر دی تھی کہ اسے میرے ہاتھ سے پہلا نوالہ کھانا ہے اور اتنے لوگوں کی موجودگی میں میرے ہوش اڑ گئے تھے بڑھے کو ذرہ شرم نہیں آئی تھی مجھے سب کی نظروں میں تماشا بنا دیا تھا سبھی بشیر کی فرمائش سن کر منہ دبائے نس رہے تھے اور میر احال ایسا تھا کاٹو تو

بدن میں لہو نہیں میں شرم سے پانی پانی ہو رہی تھیبہت ہی مجبوری کے عالم میں میں نے ایک نوالہ بشیر کے منہ میں ڈالا اور سر جھکا لیا بہت ہی مشکل سے میں نے کھانا ختم کیا اور فوراً کمرے میں دوڑ لگا دی بستر پر لیٹ کرنا جانے میں کتنی دیر روتی رہی تھی بشیر نے مجھے روتے دیکھا تو پریشان ہو گیا اور میرے ماتھے کو چوم لیا بشیر کی اس حرکت نے مجھے مزید غصہ دلا دیا تھا لیکن

میں خاموش ہو کر رہ گئی تھی میں دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میری شادی بشیر کی جگہ اس کے کسی پوتے سے ہو گئی ہوتی تو کم از کم میرے لئے ارباز کو بھولنا کچھ تو آسان ہو جاتا دن بہت تیزی سے گزر رہے تھے اور بشیر کے ساتھ میری شادی کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا میرے بڑھے شوہر نے اس ایک ہفتہ میں میرے ساتھ کچھ نہیں کیا تھا میں شادی کے ایک ہفتے

بعد بھی پوری طرح کنواری تھی اس نے مجھے صرف اپنی خدمت

کے لئے اپنے نکاح میں لیا تھا کبھی وہ مجھ سے اپنا سر دبواتا تو کبھی اپنے پاؤں میں اس کی خدمت کرنے سے بیزار آچکی تھی سارا سارا دن وہ میرے سامنے بستر پر پڑا رہتا اور کبھی کبھی تو آدھا آدھادن بھی سوتے ہوئے گزار دیتا لیکن ہر رات سونے سے پہلے وہ مجھے ایک عجیب سی چیز کھلاتا تھا جو میں نے پہلے کبھی

نہیں کھائی تھی لیکن وہ چیز مجھے بہت ہی زیادہ پسند آئی تھی میں بہت شوق سے اس چیز کو کھانے لگی تھی مجھے تو اس کا نام بھی معلوم نہیں تھا میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی لذیز چیز نہیں کھائی تھی لیکن جب سے میں وہ کھارہی تھی مجھے اپنے اندر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں مجھے شیشے میں دیکھتے ہوئے بھی عجیب سا لگنے لگا تھا میرے وجود میں ہونے

والی تبدیلیاں بہت ہی واضح طور پر نظر آرہی تھیں میں پہلے سے بھی کہیں زیادہ حسین ہو گئی تھی میں خود کو شیشے میں دیکھتی تو خود پر سے نظریں ہی نہ ہٹا پاتی صرف یہی نہیں بلکہ میرے جذبات اور احساسات میں بھی بہت زیادہ تبدیلی آگئی تھیں میرا دل کسی اور ہی لے پر دھڑ کنے لگا تھا اور یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی ایک دن میری ایک پوتی نے آکر بتایا کہ آپ کی کوئی

دوست ملنے آئی ہے میں فورا ہی ڈرائنگ روم میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں میری دوست کے ساتھ ارباز بھی بیٹھا تھا وہ مجھے دیکھنے کے لئے ہی آیا تھا اور اب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھ رہا تھا کیونکہ میرے اندر آنے والی تبدیلیاں واضح طور پر نظر آرہی تھی میرے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی مجھے

دوست ملنے آئی ہے میں فورا ہی ڈرائنگ روم میں گئی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہاں میری دوست کے ساتھ ارباز بھی بیٹھا تھا وہ مجھے دیکھنے کے لئے ہی آیا تھا اور اب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر مجھے دیکھ رہا تھا کیونکہ میرے اندر آنے والی تبدیلیاں واضح طور پر نظر آرہی تھی میرے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی مجھے

یقین تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتا لیکن اس وقت میرے جذبات پوری طرح ٹھنڈے پڑ گئے تھے جب اس نے مجھے سر جھکائے شادی کی مبارکباد دی اور خوش رہنے کا کہا مجھے ارباز سے اس رویہ کی امید ہر گز نہیں تھی وہ تو دن رات ساتھ جینے مرنے کی قسم کھاتا تھا اور اب ایک پل میں ہی بدل گیا تھا میں نے اپنے آنسو حلق میں اتارے اور ارباز سے کہہ دیا کہ وہ آئندہ میری چوکھٹ پر قدم

بھی نہ رکھے میرا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا اماں کے بعد ارباز نے بھی پوری طرح مجھے دھوکا دیا تھا میں واپس اپنے کمرے میں چلی آئی تھی بشیر کی جو بات مجھے پہلے اچھی لگ رہی تھی اب وہی بات مجھے زہر لگنے لگی تھیاس کی کھلائی ہوئی لذیذ چیز کھانے کے بعد جو میرا دل کرتا اس بات کو زبان پر لانے میں بھی مجھے شرم آتی تھی مجھے بشیر کے گھر میں نہ ہی کھانے پینے کی کوئی کمی تھی

بھی نہ رکھے میرا دل بری طرح ٹوٹ چکا تھا اماں کے بعد ارباز نے بھی پوری طرح مجھے دھوکا دیا تھا میں واپس اپنے کمرے میں چلی آئی تھی بشیر کی جو بات مجھے پہلے اچھی لگ رہی تھی اب وہی بات مجھے زہر لگنے لگی تھیاس کی کھلائی ہوئی لذیذ چیز کھانے کے بعد جو میرا دل کرتا اس بات کو زبان پر لانے میں بھی مجھے شرم آتی تھی مجھے بشیر کے گھر میں نہ ہی کھانے پینے کی کوئی کمی تھی

اور نہ ہی کسی بھی چیز پر کوئی روک ٹوک بلکہ یہاں تو میں سب سے بڑی تھی لیکن جس چیز کی کمی کا احساس مجھے سب سے زیادہ ستا رہا تھا اس کی وجہ سے میں بے چین ہو گئی تھیساری ساری رات میں بستر پر کروٹیں بدلتی رہتیں لیکن مجھے نیند نہ آتی ایک دن بشیر بہت گہری نیند سو رہا تھا اور میں رات بھر اس کی دی ہوئی چیز کھانے کے بعد ابھی تک سو نہ سکی تھی اور کمرے سے باہر نکل

آئی تھی مجھے بہت زیادہ گرمی کا احساس ہو رہا تھا اور میرے حلق میں بھی کانٹے پڑ رہے تھے میں نے سیدھا باورچی خانے کا رخ کیا یہ حویلی تو میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ بڑی اور خوبصورت تھی میں نے تو ایک چھوٹے سے کمرے میں آنکھ کھولی تھی اور ساری زندگی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ترستے ہوئے گذار حصیلیکن جب سے میں بشیر کی دلہن بنی تھی مجھے کبھی کسی چیز دی

کے لئے ترسنا نہیں پڑا تھا لیکن دوسری ہی تنگی میرے نصیب کا حصہ بن گئی تھی میں نے باورچی خانے میں قدم رکھا تو وہاں پہلے سے ہی بشیر کا ایک پوتا موجود تھا جو اپنے لئے ملک شیک بنا رہا تھاوہ میری ہی عمر کا تھا اور اسے دیکھ کر نہ جانے کیوں رات کے اس پہر میرے لئے اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل ہو گیا تھا وہ بہت ہی احترام سے مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا آپ کے لئے

بھی ملک شیک بنا دوں لیکن میری نظر تو بس اس کے چہرے پر ہی ٹک گئی تھی میں دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ میرے مقدر میں ایسا کوئی کیوں نہیں لکھا ہوا میں کس قدر حسین ہو گئی تھی لیکن اس نے ایک دفعہ بھی نگاہ اٹھا کر میرے چہرے کی طرف نہیں دیکھا تھا بے اختیار ہی میں اس کے قریب ہو گئی تو وہ بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگا تھا میں یہی تو چاہتی

تھی اس سے پہلے کہ میرے لئے خود پر قابو پانا مشکل ہو جاتا میں اسے کوئی جواب دیے بنا ہی کمرے میں چلی آئی شادی کے شروع میں میں سوچتی تھی کہ اچھا ہے میرا شوہر کسی قابل نہیں ہے میں دل میں مچلتے جذبات نے میرے لیے بہت ہی مشکل کھڑی کر دی تھی میں باقاعدگی سے وہ میٹھا کھا رہی تھی ج

سکون سے اس حویلی میں اپنی زندگی گزار لوں گیمگر اب میرے کھانے کے بعد مجھ میں اتنی تبدیلی آگئی تھی کہ میر اوجود پوری

طرح بھر گیا تھا میں پہلے بھی خوبصورت تھی لیکن اب تو میرے خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے میرا دل چاہنے لگا تھا کہ دس مرد میری طرف دیکھیں پہلے کی طرح ہی مجھے سرائیں اور میری تعریف کریں لیکن اب یہ ممکن نہیں تھا گھر کے سب ہی مرد مجھے احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن مجھے احترام کی نہیں

محبت کی ضرورت تھی اور وہ محبت مجھے بشیر سے حاصل نہیں ہو سکی تھی اسی لیے مجبورا میں دوسرے مردوں کی طرف دیکھ رہی تھی میرا حال ایسا تھا کہ کوئی بھی با آسانی میرے جذبات سے کھیل سکتا تھا اور میں خوشی خوشی اس پر اپنا آپ لٹا سکتی تھیہر گزرتے دن کے ساتھ میں آگ میں جل رہی تھی ایسے ہی

ایک دن میں خود پر قابونہ پاسکی اور بشیر کے اسی پر پوتے کے گلے سے لگ گئی جو اس رات باورچی خانے میں موجود تھا وہ بھی میرے جذبات سے بخوبی واقف ہو چکا تھا اسی لیے اس نے بھی مجھے خوشی خوشی اپنے سینے سے لگالیا لیکن یہ میری بد نصیبی تھی کہ اسی وقت بشیر چلا آیا اور ہم دونوں کو اس طرح دیکھ کر کر اس کے ہوش ہی اڑ گئے اس سے پہلے کہ بشیر آگے بڑھ کر میرے ساتھ کوئی برا سلوک کرتا اس کا پر پوتا شہز اددرمیان میں آگیا بہت

دھیمے سے انداز میں وہ کہنے لگا بڑے دادا جی میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں لیکن بانو عمر کے جس حصے میں ہے اسے محبت کے ساتھ ساتھ اور بھی چیزوں کی ضرورت ہے اور آپ اس کی وہ تمام خواہشات پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں بانو کی اماں نے تو اس کے ساتھ ظلم کیا ہی ہے لیکن آپ بھی اس جرم میں برابر کی شریک میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ اسے اس کا حق

نہیں دے سکتے آپ نے اسے اپنے نکاح میں لے لیا اور اس کی تکلیف کا باعث بن گئے ہیں شہزاد کی بات سن کر بشیر غصے سے میری طرف دیکھنے لگے تو میں نے روتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کا دیا ہوا میٹھا کھانے کے بعد مجھ سے کسی بھی طرح خود پر قابو نہیں رکھا جاتا میری بات سن کر شہزاد نے اپنا سر پکڑ لیا اور حیرت

سے مجھ سے پوچھنے لگا کہ دادا کے لئے جو جو میٹھا حلوہ میں لے کر آتا ہوں کیا وہ تم بھی کھاتی ہوں میں نے اثبات میں سر ہلایا تو شہزاد کہنے لگا کہ وہ مختلف قسم کے مغزیات اور ڈرائی فروٹس کا حلوہ ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ شہزاد اس میں حکیم سے طاقت کی دوائیں بھی ملوا کر لاتا تھا تا کہ دادا جی کسی طرح میرے قابل ہو جائیں شہزاد کو پہلے دن سے ہی معلوم تھا کہ اس کے دادا کسی قابل نہیں ہیں اور یہی بات مجھے پریشان کر دے گی اسی

لیے وہ پہلے سے ہی اپنے دادا کو طاقت کی حکیمی دوائیاں کھلا رہا تھا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے دادا نے وہ حلوہ مجھے بھی کھلا دیا ہے شہزاد کی بات سن کر بشیر بستر پر بیٹھ گئے ان کے لیے تو زیادہ دیر کھڑے رہنا بھی مشکل تھا وہ شہزاد سے کہنے لگے پوتے مجھے تو بتا دیا ہوتا میں اسکو بھی روزانہ وہ حلوہ کھلا رہا ہوں مجھے لگا کہ حلوہ کے کھانے سے اس کی صحت بہتر ہو جائے گی شہزاد نے

اپنے دادا کو احساس دلا دیا تھا کہ وہ کسی بھی طرح میرے قابل نہیں ہیں اور اگر انہیں خدمت کے لیے کسی کی ضرورت ہے تو انہیں کسی ایسے ملازم کو رکھ لینا چاہیے جو ہر وقت ان کے ساتھ رہے بشیر کہنے لگے اس میں میرا کیا قصور ہے میری بہووں نے خود اسے اس کی شادی مجھ سے کروائی ہے وہ سب میری ذمہ داریوں سے اپنی اپنی جان چھڑانا چاہتی تھیں شہزاد کہنے لگا ادا بانو

کو اس رشتے سے آزاد کر دیں میں بانو سے شادی کر لوں گا میں اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ بانو ہمیشہ آپ کی خدمت کرتی رھے گی شہزاد کی باتوں نے بشیر کو احساس دلا دیا تھا کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ بالکل بھی ٹھیک نہیں تھا اسی لیے انہوں نے مجھے طلاق دے دی کچھ ہی عرصے بعد شہزاد نے مجھ سے شادی کر کے مجھے اپنے گھر کی عزت بنا لیا وہ میری خوبصورتی کا دیوانہ ہو گیا تھا شہزاد میری زندگی میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا تھا جس نے مجھے ایک ایسے قفس سے رہائی دلائی تھی جس سے رہا ہونے کے بارے میں سوچنا بھی مجھے مشکل لگتا تھا ایک بات جو میں نے زندگی سے سیکھ لی تھی کہ انسان کبھی پیسے اور دولت سے خوش نہیں ہوتا اُسے خوش رہنے کے لیے ایک احساسات اور جذبات رکھنے والے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی بنیادی

ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اس کی نفسانی خواہشات کو بھی پورا کر سکے اکثر مرد اس قابل نہیں ہوتے کہ وہ کسی عورت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے لیکن وہ اس بات کو قبول کرنے کی بجائے ایک عورت کو اپنی زندگی میں لا کر اس کی زندگی کو بھی بد تر بنا دیتے ہیں ہمارے معاشرے کے مرد اس بات کو قبول کرنے میں بہت عار محسوس کرتے ہیں کہ وہ نامکمل میں میری تمام مرد

حضرات سے گزارش ہے کہ کسی اور بانو کے جذبات کو روندنے سے پہلے ایک بار اپنا علاج کروانے کو ترجیح دیجئے گا تا کہ وہ میری طرح غلط روش اختیار نہ کر بیٹھے کیونکہ جب گھر کا مرد عورت کے جذبات کی تسکین کا سبب نہیں بنتا تو اس کا یہی دل چاہتا ہے کہ باہر کے مرد اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھیں اور ایسے میں اگر کوئی اور اسے اپنا کاندھا دے تو وہ عورت گناہ اور

ثواب کا تجزیہ کے بغیر ہی اس سہارے کو اپنا لیتی ہے ہے مجھے تو شہزاد جیسے مخلص شخص کا ساتھ نصیب ہو گیا تھا لیکن ہر بانو کو ایسا انسان نہیں ملتا جو اسے اپنے گھر کی عزت بھی بنالے میں آج بھی بشیر کی خدمت کر رہی تھی لیکن اب ہمارے درمیان کارشتہ بدل چکا تھا اپنے گھر کے بزرگوں سے اپنی جان چھڑانے کے لئے کسی اور کی بیٹی کی زندگی کو برباد کرنے کی بجائے اس کے لیے کسی ملازم کو رکھ لیجئے تو یہ سب کے حق میں اچھا رہے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *