Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

فاطمہ گھر میں داخل ہوتے ہی خوشیاں منانے

فاطمہ گھر میں داخل ہوتے ہی خوشیاں منانے

پانی کا کلاس ہاتھ میں دیتے ہونے آئمہ موبائل سے دیکنا ٹائم کیا ہوا ہے ” ۔ زاہد گھڑی پر دیکھتے ہوئے ، ” مواسات ” آئمہ پریشانی کے آثار دکھاتے ہوئے اوہ ! اتنی دیر ہوگئی ۔ کیا ہوا ؟ وہ میں انیلہ کے لیے پریشان ہو رہی ہوں ۔ کیا ہوا اسے پانی پیئے بغیر زاہد انطراب سے پوچھتے ہوئے بولا ۔

اتنا ٹائم ہو گیاابھی وہ واپس نہیں آئی ، آئمہ ڈرامہ کرتے ہوئے بولی ۔ کیا ؟ کلاس میز پر رکھتے ہوئے ، زاہد عنصے میں باہر نکل گیا ۔ اماں ہوئے ، اماں کیا ہوا بیٹا خیر تو ہے ۔ انیلہ ابھی تک گھر کیوں نہیں پنی ؟ بیٹا اس کی میٹنگ ہے اس نے مجھے فون کر کے بتایا تھا ۔ دیکھ لینا اماں یہ بھی راز یہ کی طرح ایک دن بارا منہ کالاکر وائے گئی ۔ پہلے ہی رشتے داروں اور ہمسائیوں کے سامنے جاتے ہوئے خوف آتا ہے ۔ اتنے میں دروازہ بختا ہے آئمہ زہ کھولتی ہے ۔ روز کی طرح اپنار عب جاتے ہوئے ، کہاں تھی محترمہ اور تمہارے بھائی آج بہت غصے میں ہیں ” انیلہ آج اتناخوش ہوتی ہے کہ کسی بات کو محوس کیے بغیر بھاگ دروازهکر اماں اماں میری ترقی ہو گئی ۔

میں ” ریجنل مینیجر ” بن گئی ہوں ۔ چاری کمپنی کے آج ” انٹرنیشنل انویسٹر ” آئے تھے ۔ un زاہد نہ آؤ دیکتا ہے نہ تاؤ ، زور دار تھپڑ منہ پر رسید کر تا ہے Urdu Mind بہن کو ۔ جھوٹ بولتی ہو ۔ ہیں بے وقوف سمجھا ہوا ہے ۔ آنو بہاتے ہوئے آج انیلہ کی آواز میں ایک مضبوط لڑ کی بولرہی تھی ۔ بھائی آپ کو ہمیشہ بہنوں سے تکلیف کیوں رہی ہے ۔ آپی کے ساتھ بھی آپ کای رویہ تھا اور اب ۔ ہاں اور اب تم جو ویسے تاشے کرنے لگی ہو ۔ بکواس بند کر یں ہر رشتے کے احترام کی ایک حد ہوتی ہے ۔ اور آپکی بہت عزت کر لی اور ہو بھی نہیں سکتی ۔ یہ کہتے ہوئے انیلہ کمرے میں چلی جاتی ہےمعاف کر نا خالہ اس کی شادی کر دو ۔

اس آزادی سے یہ بھی چاری عزت کا جنازہ نہ نکال دے آئمہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔ بوڑھی ماں پہلے بیٹی کے صدمے سے دو چار تھی ۔ میرادل بیٹھا جارہا ہے کیوں محلے والوں کو سناتے ہو ۔ جاؤ زاہد تم لوگ اپنے کمرے میں ۔ آئمہ اور زاہد کھانا کھاتے ہیں ۔ پر نہ انیلہ اورنہ ہی ماں کھانا کھاتی ہیں ۔ ” ماں آپکو کھانالا دوں ” ؟ چار پائی کے ساتھ کھڑے ہو کر انیلہ آہستہ سے بولی ہے ۔ بائیں طرف منہ کر کے لیٹے ہوئے ماں بولی تم لاؤ کھاناہم ساتھ کھائیں گے ۔ جی ماں ۔ دال روٹی رائتہ سلاد لاتے ہوئے یہ لو ماما آپ کو دال کے ساتھ رائتہ پسند ہے نا ۔ ماں دکھ بھریمسکراہٹ سے نوالہ توڑتے ہوئے پہلے میں اپنی نخی گڑیا کو تو کھلاؤں ۔ دن میں کچھ کھایا تھا ؟ آبدیدہ آنکھوں سے مسرت ماں بولی ۔ انیلہ ہاتھ پکڑتے ہوئے آپ جاتی ہیں مجے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے سات سال ہو گئے ہیں ۔ اور مشکل سے یہ گھر چلارہے ہیں ۔ بھائی کی آمدن کا ہیں کوئی پتہ نہیںجاتی ہوں میری پری تونے بہت دکھے کھانے ہیں ۔

کالوں پر پیار سے ہاتھ پھیر تے ہوئے کمرے میں دو چار پائی ، ایک الماری ، ایک کرسی میز اور یہ دونوں قالین پر دستر خوان  بچھائے باتیں کر رہی تھیں ۔ ماں اب تک میری تنخواہ اتنا تھی کہ گھر کے بل آپکی دوائیوں اور میرے دفتر تک کےکرایوں میں پوری ہو جاتی تھی ۔ آپ کے سامنے ہے نا ، دو سال سے میں نے نئے کپڑے نہیں لیے اور ساراسال کاؤن میں جاتی ہوں ۔ ماں نے ایک لمبی آہ بھرتے ہوئے ۔ کھاناسائیڈ پر رکھتے نے ہاں ۔ تمھارے ابا ہوتے تو شاید بھارے حالات ایسے رے نہ ۔ تے ۔ ماں حالات اب بھی اچھے ہو سکتے ہیں بس آپ ہمت کر یںمیں کیسے ؟ ماں انیلہ کی طرف دیکھتے ہوئے ۔ آپ میری ماں اور باپ بن جائیں ۔ وہ کیسے ؟ ماں مجھے پنڈی ایریا میں دفتر والے شفٹ کر رہے ہیں ۔ وہاں گھر ، کاڑی ، بہت اچھی سیلری اور باقی پر فارمنس الاؤنسز بھی ملیں گے ۔ اب میں بھی چاہتی ہوں ہم ادھر سے دور چلے جائیں ۔ میں یہ گھر نہیں چھوڑ سکتیتمھارے ابا اور راز یہ کی یادیں ہیں ادھر ۔ ماں ای کے لیے تو یہ سب کر رہی ہوں ۔ انیلہ تسلی دیتے ہوئے بولی ۔ ہم مرے ہوئے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے میری بھی ۔

اماں میں اس کے یے کر سکتی ہوں بس آپ اگر ساتھ دیں ت ۔ وہ کیسے ؟ ماں آپنی کے باس نے ہی بلڈنگ سے دھکادیا تھا اور بعد میں ایکسٹاف کو پیسے دے کر سارا الزام اس کے سر ڈالا اور بعد میں اسے چھڑوادیا ۔ آ پی پر بھی الزامات لگوائے ۔ میں اتناہیے جمع کر نا چاہتی ہوں ۔ جڑ سے سب کو سزا دلوانا چاہتی ہوں ۔ اس سب میں جے آپ کا ساتھ چاہیئے ۔ پر اٹیلہ ؟ ماں پر ور کچھ نہیں ہو تا ۔ وہ تمھارا بھائی ؟ کونسا بھائی ؟ ماں غصےسے انیلہ بولی وہ بھائی جس نے آپی کے قتل کی رقم یک وصول کی ہے ۔ کیا ؟ یہ تم سے کس نے کہا ؟ ماں چونک سی ا ۔ تب آپی جاب کر کے گھر پاٹیں تھیں اور اب میں ۔ اب بھائی کی عزت پر کوئی داغ نہیں لگتا ۔ مہینہ ختم ہونے کے ریب بھائی سلمان کی لسٹ پکڑا دیتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے باپکابنا گھر ہے پھر بھی لگتا ہے جیسے بھائی بھابھی کے کروں پر پل رہے ہوں ۔

تمہیں سب معلومات کہاں سے ملیں ؟ ماں کے ذہن میں ابھی تک بیٹی کے قاتلوں کی بات چل رہی تھی ۔ ماں آفس والے مجے تین ماہ سے پروموشن کا کہ رہے تھے ۔ میرے بار بار انکار پر ایک دن باس نے مجھے بلوا کر انکار کیوجہ پوچھی ۔ میں نے اپنے گھر کے حالات اور آ پی کا واقعہ بتایا تو باس نے بھر پور تعاون کا کہا ۔ کورٹ میں کیس دائر کیا آ پی کے والے سے ای معان پیجے کا آپ کو بتائے بغیر یہ کام ہوا ۔ نہ میرابچہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی ۔

ماں سر نے کہا میں بہت قابل ہوں اتنا کہ ایسے محنت کرتی رہی بہت جلد کنٹری میجر بن سکتی ہوں ۔ معاشرے میں کئی ذہین اور محنتی لڑکیاں ڈر کر ایک اچامتام نہیں پاسکتیں ۔ مجھ سے جتنا مکن ہوامیں اپنے اور آ پی جی مجبور اور بیس لڑ کیوں کا سہارا بنا چاہتی ہوں ۔ اب میرای فیصلہ ہے کہ محنت کروں آپی اور ان جیسے ہزاروں کیسز کی کھوج لکا کرانصاف دلواؤں ۔ بس آپ ساتھ دیں ہم ادھر سے شفٹ ہو کر پنڈی جاتے ہیں ۔ میں ایر یا مینجر کی پوسٹ جوائن کروں ۔ میری دعا تمھارے ساتھ ہے میری بھی ۔ بڑی بیٹی کا انصاف ملنے کی امید نے ماں کو بمت دی ۔ اور انیلہ کو بھی زند گی کا مقصد سمجھ آیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *