Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میرے شوہر کا کسی دوسری لڑکی کے ساتھ نا جائز تعلق تھا

میرے شوہر کا کسی دوسری لڑکی کے ساتھ نا جائز تعلق تھا

میرے شوہر کا کسی دوسری لڑکی کے ساتھ ناجائز تعلق تھا اور اس کو الگ کرائے کے گھر میں رکھا ہوا تھا جب وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوئی تو میرے شوہر نے اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔ ایک دن ایک لڑکی ہمارے گھر آئی اور کہنے لگی میں مجبور ہوں مجھے اپنے گھر ملازمہ رکھ لو۔ میں نے ترس کھا کر رکھ لیا۔ ایک رات میری اچانک آنکھ کھلی تو یہ دیکھ کر میری روح فنا ہو گئی کہ وہ لڑکی تو قاسم میرا چا زاد تھا ہماری محبت کی شادی تھی لیکن یہ محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی ہم بچپن میں ایک گھر میں رہتے تھے جو کہ والد اور چا جان کو دادا کی جانب سے ورثے میں ملا تھا بچپن ساتھ گزرا قاسم اور میں اکھٹے کھیل کو د کر بڑے ہوئے۔

جب ہوش آیا تو احساس ہوا کہ ہم ایک دوسرے کے بغیر خوش نہیں رہ سکتے۔ والد صاحب نے نیا گھر بنوایا اور ہم وہاں شفٹ ہو گئے۔ لیکن میں نئے مکان میں خوش نہ رہتی تھی سب ہی جانتے تھے کہ چاچا کے چوں سے جدائی نے مجھے پریشان کر دیا ہے. خاص طور پر قاسم بہت یاد آتا تھا. قاسم بھی اب بجھا بجھا سارہنے لگا تھا. اس کا پڑھائی میں دل نہ لگتا، اور میرے بھائی سے ملنے کے بہانے وہ روز ہمارے گھر آجاتا اسے دیکھتے ہی میں کھیل اٹھتی دوڑ کر چائے بنالاتی کبھی سموسے کبھی پکوڑے تل لاتی ہماری محبت عیاں تھی ابو اور چچانے اسی بائیں شادی کے بندھن میں باندھ دیا شادی کے بعد میں پھر اسی گھر میں آگئی جہاں بچپن گزرا تھا. میں بہت خوش تھی یہ گھر میرے لیے اجنبی نہ تھا۔ سسرال والے وہی اپنی

اور پیار کرنے والے لوگ تھے۔

میں اپنی قسمت پر ناز کرتی تھی کہ جو آرزو تھی پوری ہو گئی اب کسی شے کی آرزو نہ رہی تھی جلد ہی اللہ تعالی نے اولاد بھی دے دی اور میں ماں کے مقدس رتبے پر فائز ہو گئی بچوں کی پرورش میں کھو گئی چی ہاتھ بٹاتی تھی وہ ساتھ نہ دیتی تو ننھے منے بچوں کو پالنا اور سنبھالنا کوئی آسان بات نہ تھی جن دنوں چی بیمار تھی ہماری پرانی ملازمہ عابدہ خاتون اپنے گاؤں لوٹ گئی ان دنوں ملازمہ کی اشد ضرورت تھی۔ بچوں کی پرورش گھر کی ذمہ داری اوپر سے بیمار چی کی دیکھ بھال میں تھکن سے نڈھال اور نیم جان رہنے لگی. میری ایک جیٹھ تھی جو اپنی فیملی کے ساتھ علیحدہ گھر میں قیام پذیر تھیں. نند کوئی نہیں تھی۔ البتہ دو دیور غیر شادی شدہ ہمارے ساتھ ہی رہا کرتے تھے. چا جان کا انتقال دو سال قبل ہو چکا تھا۔ اور اب ساس کو بھی مرض الموت لاحق تھا۔ انہیں جگر کا کینسر بتایا گیا

تھا ان دنوں جو بھی ہمارے ساس کی تیمار داری کو آتے ان سے ملازمہ نہ ملنے کا دکھ بتاتی اور التجا کرتی اگر کوئی عورت ضرورت مند ہو تو میرے پاس بھجوا دیں میں اچھی تنخواہ دوں گی کافی بار پڑوسن سے بھی ذکر کیا تھا ایک روز اس کے توسط سے ایک نوجوان عورت ہمارے گھر آئی خاصی خوبصورت اور تنو مند تھی۔ اس نے بتایا کہ فاطمہ بی بی نے بھیجا ہے۔ پہلے ان کے ہاں کام کرتی تھی۔ اب ان کے پاس دوسری عورت کام کر رہی ہے ان کو ضرورت نہیں ہے تبھی آپ کی طرف بھیجا ہے عورت نے اپنا نام آسیہ بتایا میں تو ملازموں کو ترس رہی تھی لہذا اس کے بارے میں زیادہ چھان بین نا کی اور فورار کھ لیا آسیہ جیسی نظر آرہی تھی ویسے ہی ثابت ہوئی ہر کام سلیقے اور سکڑاپے سے کرتی تھی۔ صبح آتی اور رات کو آٹھ بجے چلی جاتی۔

وہ ایک صاف ستھری اور تمیز دار عورت تھی۔ زیادہ باتیں نہیں کرتی تھی بس اپنے کام سے کام رکھتی عمر یہی کوئی 24 سال تھی کہتی تھی بھائی اور بھا بھی کے ساتھ رہتی ہوں. شوہر کی موت ایک ایکسیڈنٹ میں ہوئی تھی. جو رکشہ چلاتا تھا۔ آسیہ کی اولاد نہ تھی۔ شادی کے تین سال بعد بیوہ ہو گئی تھی تب سے بھائی کے زیر کفالت تھی . وہ خود بھی ایک بس ڈرائیور تھا۔ اس کے چھ بچے تھے اور مکان کرائے کا تھا گزر اوقات بمشکل ہوتی تھی۔ تب ہی آسیہ اپنی بھابھی کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی. وہ اس پر ایک بوجھ تھی جب تک بھا بھی کے بچے چھوٹے تھے ان کی پرورش میں مددگار ہونے کے باعث اس کا وجود بھائی اور بھا بھی کو گوارا تھا۔ لیکن اب مہنگائی کا رونا تھا۔ اسی سبب آسیہ نے گھر سے قدم نکالا تھا بطور گھریلو ملازمہ وہ اپنے اخراجات پوری کرتی تھی۔

وہ پریشانی سے لبریز دن تھے چچی جان کی بیماری آخری مراحل میں تھی اور یہ ایک لاعلاج مرض تھا۔ پھر بھی انہیں ہسپتال میں داخل کرانا پڑتا ضروری طبی امداد ملتی ہیں۔ میرے بڑے بچے سکول جاتے اور تین چھوٹے گھر پر ہوتے تھے۔ شوہر اور دیور اپنے اپنے دفتر چلے جاتے۔ مجھے بچوں کے ساتھ گھر اور بیمار ساس کو بھی دیکھنا ہو تا تھا۔ ایسے مشکل وقت میں آسیہ میرے لیے فرشتہ رحمت بن کر آئی تھی اور اس نے آتے ہی میری آدھی سے زیادہ پریشانی کو سمیٹ لیا تھا۔ وہ اتنی فرض شناس تھی کہ ایک دن بھی مجھے شکایت کا موقع نہ دیا۔ درد مند دل کی مالک تھی۔ میری ساس کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ جبکہ وہ بستر مرگ پر تھی ایک نرس کی طرح دیکھ بھال کرتی حتی کہ رات کو بھی رہ جاتی اور راتوں کو ان کے ساتھ جاگتی۔ یہ اس کا کام تھا کہ رات کو جاکر ایک مریضہ کی آہ وزاری کو سمیٹنے کا اب مجھ میں تو یارانہ رہ گیا تھا اپنی زندگی کے آخری دنوں میں جبکہ چچی بہت زیادہ تکلیف میں تھی۔

میرے شوہر ان کو ہسپتال سے گھر لے آئے۔ ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا۔ قاسم نے کہا وہاں ان کی بہتر دیکھ بھال نہیں ہو سکتے ہیں اپنے گھر میں ہم زیادہ خیال رکھ سکتے ہیں. یہ چند روز کی مہمان ہیں تو پھر کیوں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں. اپنے گھر میں ہم زیادہ دیکھ بھال کر سکتے ہیں . چچی کو گھر کا سکون ملا میں دن کو ان کے قریب رہتی اور آسیہ کھانا بناتی۔ گھر سنبھالتی بچوں کو دیکھتی۔ رات کو میں بچوں کے پاس ہوتی اور وہ میری ساس کے کمرے میں ہوتی۔ اس نے اب گھر جاتا اسی وجہ سے ترک کر رکھا تھا کیونکہ ہم کو اس کی دن رات ضرورت تھی۔ شروع رات کو میرا کوئی نہ کوئی دیوریا پھر قاسم چچی جان کے کمرے میں ڈیوٹی دیتے تھے بچے مجھ کو اتنا تھکا دیتے تھے کہ میں رات کو ہر گز اپنی بیمار ساس کی شب بیداری کی تکلیف نہ اٹھا سکتی تھی اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ ہر ذی روح نے موت کا مزہ چکھنا ہے بلا آخر وہ دن آگیا جب ہماری ساس دنیا کے تمام دکھوں سے نجات پاگئی

اور آدھی رات کو ان کی روح پرواز کر گئی کافی دن گھر میں سو کی فضار ہی آسیہ نے ان نازک لمحات میں بھر پور ساتھ دیا. اور اب وہ مستقل ہمارے گھر ہی رہنے لگی. کیونکہ اس کی بھا بھی نے اس کو اپنے گھر رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں تو رات کو بے ہوش ہو کر سوتی تھی. مجھے نہیں معلوم کب ہمارے گھر میں کیا ہوا؟ ایک روز آسیہ نے کہا کہ ہمارے گھر کی ملازمت وہ اب مزید جاری نہیں رکھ سکتی کیونکہ اس کے بھائی نے اس کی دوسری شادی کی ٹھان لی ہے مجھے کافی صدمہ ہوا اس کے جانے سے جو پریشانیاں لاحق ہونے والی تھی ان کا خوف میرے لیے ایک بڑی الجھن تھی لکین آسیہ کا جاننالازمی امر تھا۔ اس کو شادی سے روکنا کیسے ممکن تھا، بالآخر وہ ایک روز خدا حافظ کہہ کر چلی گئی میں نے وقت پر رخصت کیا اسے کافی اچھے جوڑے اور کچھ رقم دی کیونکہ اس نے جیسی ہماری سیوا کی تھی شاید فی زمانہ کوئی ایسی ملازمہ کسی کو میسر آئی آسیہ کے جانے کے بعد بہت عرصے تک بغیر گھریلو ملازمہ کے وقت گزارنا پڑا

آخر کار سابقہ ملازمہ گاؤں سے لوٹ آئی تو مجھے سکون مل گیا عابدہ کے آتے ہی میرے شوہر کا تبادلہ نزدیکی شہر ہو گیا۔ وہ ڈیرہ غازی خان سے مظفر گڑھ چلے گئے۔ ان دنوں دونوں شہروں کا راستہ دو گھنٹے سے کم نہ تھا۔ روڈ خراب تھا اب یہ رستہ ایک گھنٹہ میں ملے ہو جاتا تھا قاسم کچھ عرصہ روزانہ صرف مظفر گڑھ آتے جاتے رہے پھر انہوں نے وہاں ایک مکان کرایا پر لے لیا روز کا سفر ان کو تھکا دیا کرتا تھا وہ پیر کو جاتے جمعہ کی شام کو گھر آتے دو دن ہمارے پاس گزار کر دوبارہ پیر کے روز صبح سویرے مظفر گڑھ چلے جاتے تھے۔ عابدہ بی بی کا گاؤں مظفر گڑھ کے قریب تھا. ایک بار جبکہ اس کا بھائی بہت بیمار تھا. وہ چند دن کی چھٹی لے کر اپنے گاؤں چلی گئی جب واپس آئی تو اس نے ایک عجیب خبر سنائی اس نے بتایا بی بی میرا ایک رشتہ دار محکمہ سوشل ویلفیئر میں چپڑاسی لگا ہوا ہے قاسم صاحب اس کو نہیں جانتے لیکن وہ ان کو جانتا ہے میرے اس رشتہ دار نے جس کا نام سلیم ہے مجھے بتایا ہے کہ قاسم صاحب نے کرایہ کے مکان میں اپنے ساتھ ایک عورت کو رکھا ہوا ہے.

خدا جانے ان کی بیوی ہے یا ویسے ہی کام کاج کے لیے رہتی ہے. خاصی خوبصورت ہے اور امید سے بھی ہے قاسم صاحب نے دراصل سلیم سے کہا تھا کہ ان کو گھریلو کام اور کھانا پکانے کے لیے کسی گھریلو ملازمہ کی ضرورت ہے جو صبح سے دو پہر تک خدمات انجام دے سکے تب وہ سمجھ گیا کہ صاحب کے ساتھ جو عورت قیام پذیر ہے وہ ملازمہ نہیں ہے میری تو ہوش اڑ گئی۔ عابدہ نے قسم دی تھی کہ صاحب کو ہر گز یہ نہ بتاتا ورنہ میری خیر نہ ہو گی۔ کچھ دن شدید اضطراب میں گزرے۔ بالآخر عابدہ خاتون ہی کی منت سماجت کی کہ تو مظفر گڑھ جا کر اس بارے میں مزید معلومات لو اور اپنے کسی رشتہ دار عورت کو میرے شوہر کے پاس گھریلو ملازمہ کے طور پر بھیجو تا کہ مجھے اس ذریعے سے اس عورت کی اصل حقیقت کا علم ہو سکے یہ کام مشکل نہ تھا لیکن عابدہ اس کام کو سر انجام دینے سے ڈرتی تھی۔ کیونکہ اسے قاسم کا خوف تھا۔

بہر حال اس نے کسی طرح سلیم کے ذریعے اپنی ایک رشتہ دار عورت کا بطور ملازمہ انتظام کر دیا۔ تب مجھے معلوم ہو گیا کہ چچی جان کی راتوں کو تیمارداری کرنے کے دوران جبکہ میں تھکن سے چور گہری نیند سو جاتی تھی۔ آسیہ اور میرے شوہر میں قربت ہو گئی۔ معلوم نہیں کیوں کر انہوں نے آپس میں رسم و راہ پیدا کر لی. اور آسیہ پھر اسی باعث امید سے ہو گئی۔ تین ماہ اس نے یہ راز چھپائے رکھا۔ بالآخر اسی قاسم پر بات ظاہر کرنی پڑی۔ وہ کافی پریشان ہوئے اور اپنا تبادلہ مظفر گڑھ کر والیا۔ تا کہ وہاں آسیہ کو ساتھ رکھ سکے اب اس مسئلے کا حل سوائے شادی کے اور کوئی نہ رہا کیونکہ دیر ہو چکی تھی اور کسی لیڈی ڈاکٹر نے اس سلسلے میں ان کی مدد کی حامی نہ بھری قاسم بہت پریشان تھے ہر صورت اس مسئلے سے چھٹکارا چاہتی تھے لیکن یہ عورت ان کے گلے پڑ گئی کہ مجھ سے نکاح کرنا ہو گاور نہ اس بات کو منظر عام پر لے آؤں گی اور آپ کے بچے کو جنم دوں گی بدنامی سے کوئی ذریعہ فرار نہ پاکر انہوں نے آسیہ کی خاطر تبادلہ کر ایا اسے وہاں اپنے ساتھ رکھ لیا۔

میں حقیقت جان کر تڑپنے لگی۔ زبان بھی نہ کھول سکتی تھی۔ کہ عاہدہ نے قسم دی تھی۔ صاحب کو میرانہ بتانا۔ بالآخر اس وقت میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا جب قاسم دو ہفتے تک گھر نہ لوٹے میں نے اپنی جیٹھ اور دیوروں کو حالات معلوم کرنے کا کہا ایک دیور نے حامی بھر لی اور وہ مظفر گڑھ چلا گیا، گھر میں عورت موجود تھی جس نے میرے دیور کی آواز سن کر پردہ کر لیا تب عاصم نے قاسم سے کہا بھائی جان یہ کیا آپ نے ڈرامہ کر رکھا ہے آپ کی اچھی بھلی بیوی ہیں چھ بچوں کے باپ ہیں نکالیں اس عورت کو دورنہ ہم آپ سے کوئی واسطہ نہ رکھیں گے اور بھابھی کو پتہ چل جائے گا تو وہ میکے چلی جائے گی. جب آپ چھ بچوں کا کیا کریں گے ? قاسم خوفزدہ ہو کے اپنے بھائی سے منت کی کہ کسی کو کچھ نہ بتانا. اب میں چند دنوں میں اس عورت کو نکال دوں گادیور نے آکر باقی بھائیوں کو بتایا لیکن مجھے نہیں بتایا بلکہ تسلی دی کہ خاطر جمار کھو وہاں کوئی عورت نہیں رہتی ایک ملازمہ آتی تھی وہ کام کر کے چلی جاتی تھی اب اس کی جگہ ایک اور ملازمہ آتی ہے لیکن یہ دوسری ملازمہ کافی بوڑھی عورت ہے

لہذا و ہم کو دل سے نکال دو. ایک روز کوئی مہمان ان سے ملنے آیا یہ باہر کئے اور بیٹھک میں مہمان کو بٹھا کر اندر سے کنڈی لگالی اور کچھ دیر باتیں کرتے رہے میری اشارہ کیا کہ یہ کوئی خاص مہمان تھے تب ہی میں نے بیٹے کو بھیجا کہ جا کر بیٹھک میں دیکھو کون آیا ہے شاہ زیب کی عمران دنوں چھ سات برس تھی وہ دوڑا گیا اور بیرونی دروازے سے باہر نکل کر بیٹھک میں جھانکا وہاں ایک چھوٹی سی بچی اور ایک عورت جو برقع میں تھی۔ بیٹھی قاسم سے کچھ کہہ رہی تھی۔ جلد ہی مہمان چلے گئے۔ اب میرے دل میں شکوک جاگے کہ یہ کون عورت ہو گی۔ قاسم سے استفسار کیا تو کہنے لگی خامخواہ شک کرتی ہو کوئی بیوہ تھی کسی واقف کار کے حوالے سے آگئی۔ شادی کے موقع پر غریب لوگ ویسے ہی امداد مانگنے آجاتے ہیں۔ میں نے تھوڑی سی رقم دے کر چلتا کر دیا۔ ضرورت مند عورت تھی تو گھر کے اندر لے آتے۔ باہر بیٹھک میں بٹھانے کی کیا تک تھی میں نے کافی تکرار کی تو دیور جو مظفر گڑھ جا کر معلوم کر چکا تھا اپنے کمرے سے باہر آگیا اور کہنے لگا

بس کر یہ ڈرامہ بھائی آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کوئی عورت نہ رہے گی تو وہ اب کیسے آگی وہاں کے سب لوگ کہہ رہے ہیں آپ نے خفیہ شادی کی ہے اور بچی بھی ہے اب شادی کو چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قاسم کو اقرار کرنا پڑا۔ یہ سن کر میں حیران رہ گئی کہ یہ عورت جو ان کی بچی کی ماں بن چکی تھی آسیہ تھی۔ نہ جانے کس کمزور لمحے مجھے سے یہ خطا ہو گئی۔ اور اپنے گناہ کو نبھانے کی خاطر آسیہ کو پناہ دینی پڑی۔ پھر بچی کی وجہ سے نہ ہو سکا لیکن اب چھوڑ رہا ہوں . میں نے کہا کہ اسے چھوڑنا ہی ہو گا. بچی بھی چھوٹی ہے. اسے ماں سے چھین کر ایک اور ظلم نہ کرو. لیکن آسیہ نہیں رہے گی ورنہ میں نہ رہوں گا ظاہر ہے وہ چھ بچوں کی ماں کو نہ چھوڑ سکتے تھے انہوں نے آسیہ کو اس کے میکے بھیجوا دیا اور خود مظفر گڑھ سے اپنے شہر تبادلہ کرا لیا۔ مجھے دکھ تو بہت پہنچا لیکن پھر شکر کیا کہ صبح کا بولا شام کو گھر آگیا تھا ورنہ میرا اور میرے بچوں کا تو خدا ہی حافظ تھا آسیہ کو نکلوا کر بھی مجھے چین نہ تھا حالانکہ وہ اب اسے نہ ملتے تھے

اور کوئی ناطہ بھی نہ رکھا تھا یہاں تک کہ بچے کا خرچہ بھی نہ دیتے تھے ورنہ آسیہ دوبارہ گھر یلو ملازمہ کیوں بنتی ایک دفعہ میں وسیم کے سرال ملنے گئی تو وہاں پڑوس میں ایک عورت اور چھوٹی سی بچی کو جاتے دیکھا وسیم کی ساس نے بتایا کہ آسیہ نام ہیں کسی عیاش نے پہلے تو خفیہ شادی کیسے رکھی بچی ہو گئی تو اب نکال دیا ہے بیچاری اپنا اور بچی کا پیٹ بھرنے کی خاطر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں یہ سن کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ انسان کتنا مجبور ہے. خوف خدا سے میری روح لرز گئی کہ میرے بچے تو عیش کر رہے تھے اور قاسم کی یہ بچی ایک گھریلو ملازمہ کے ساتھ ماری ماری پھر رہی تھی۔ میں شدید بیمار پڑ گئی اور مجھے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ خواب میں چاچا اور چچی دکھائی دیے جو کہتے وہ بھی ہماری ہوتی ہیں۔ ہمارا خون ہے ذرا سوچو تو مت پوچھیے کس دل سے وسیم کی سسرال کے پڑوس میں گئی۔

جہاں آسیہ فاش پر پونچالگا رہے تھے اور اس کی بچی قریب صحن میں بیٹھی جھاڑو سے کھیل رہی تھی. میرے ضمیر نے مجھے روشنی دکھائی اور میں نے بچی کا ہاتھ پکڑ لیا جو ہو بہو قاسم کی تصویر تھی تو میرے ساتھ گھر چلو تمہارے پاپا تم کو بلا رہے ہیں. اس نے ماں کی طرف دیکھا. یہ ابھی ہمارے ساتھ آجائے گی. میں نے آسیہ کو سنایا. وہ ویسے ہی اٹھ کھڑی ہو گئی جیسے کسی نے اس کرنٹ لگا دیا ہو . تڑپ کر بولی بی بی یہ آپ کے ساتھ نہ جائے گی. اسے مجھ سے جدامت کیجیے. ہم محنت مزدوری کر کے کھالیں گے کسی سے کچھ نہیں مانگتے . میں اسے لے جارہی ہوں آسیہ کیوں کہ اس کے باپ نے مجھے اسے لینے کو ہی بھیجا ہے.

اب تمہاری مرضی کہ تم ہمارے ساتھ رہو یا الگ رہنا پسند کرو لیکن میں اپنے خاندان کی عزت کو یوں در در بھٹکتے نہیں دیکھ سکتے میں اس کے ہاتھ میں جھاڑو نہیں دیکھ سکتی آسیہ کی سمجھ میں میری بات آگئی اس نے اپنی پیچی کو لے جانے دیا اور دو دن بعد وہ بھی آگئی میں نے اسے قبول کر لیا اگر چہ میرے سامنے قاسم اس سے بات نہ کرتے تھے لیکن وہ میرے اس عمل سے بے حد مشکور تھے میرے بے دام غلام ہو گئے اور میں نے بھی اپنے دل پر پتھر رکھ لیا. صرف قاسم کی اس بچی کی خاطر جو میری کچھ نہ سہی میرے بچوں کی بہن تو تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *