Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میرا کزن نعیم مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا لیکن اس کا

میرا کزن نعیم مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا لیکن اس کا

میرا کزن نعیم مجھ سے بے پناہ محبت کرتا تھا ۔ برے دوستوں کی صحبت میں بیٹھ کر غلط کاموں میں لگ گیا ۔ مجھے نعیم اچھا لگتا تھا۔لیکن اس کو برے دوستوں نے غلط کاموں پر لگا دیا ۔ میرے امی نے نعیم کے گھر جاکر بتایا ۔۔اور ہمارے گھر آنے پر پابندی لگا دی ۔جب نعیم کو اس بات کا پتا چلا اس نے ہمارے گھر آکر میری والدہ سے بدتمیزی کی ۔۔۔ میرے والد کو جب نعیم کی بد تمیزی کا پتا چلا انھوں نے نعیم کی اس حرکت کی مجھے سزا دی۔اور اپنے جاننے والوں میں میری شادی کرا دی ۔۔۔ نعیم کی اس حرکت کا مجھے بہت دکھ تھا ۔۔۔۔

میرے نصیب میں جو شخص جیون ساتھی کے طور پر لکھا گیا تھا ، اس کے ساتھ میری شادی ہوگئی ۔ شاہد بہت اچھے انسان تھے ۔ مجھے خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے ۔ میں بھی ان کا خیال کرتی ۔ مگر دل کا حال تو اللہ جانتا ہے ۔ ہر وقت انہی خیالوں میں گم رہتی۔کاش نعیم اپنے آپ کو غلط دوستوں سے بچا لیتا ۔۔۔۔۔

شادی کے چند ماہ بعد شاہد کی پوسٹنگ پہاڑی علاقوں میں ہو گئی ۔ یہ پہاڑی علاقہ تھا لیکن میرا دل وہاں بھی نہ لگا ۔ انہی ا دنوں جبکہ میں ذہنی طور پر بے چین سی رہتی تھی ، میری ملاقات گل بانو سے ہو گئی ۔ وہ ہمارے پڑوس میں رہتی تھی ، بہت اچھی عادات کی مالک تھی ، میری اس کے ساتھ گہری دوستی ہوگئی ، گل بانو کی باتیں بڑی معصومانہ ہوتی تھیں ۔ لیکن بہت ذہین لڑکی تھی ، جلد ہی میرے دل کی اداسی کو بھانپ لیا ، ایک دن کہنے لگی ۔ باجی مجھے لگتا ہے آپ کو کوئی بے سکونی ہے ، برا نہ مانیں تو پوچھوں کہ آپ کیوں اداس رہتی ہیں ، کیا نسی کی یاد ستاتی ہے ۔

ہاں … ایک دوست کی … کیا کروں بھلانا چاہتی ہوں لیکن بھلا نہیں سکتی ۔ اس کا ایک حل ہے میرے پاس ۔ آپ میرے دادا کے گاوں چلیں وہاں ایک شخص ہے جس کا نام اجمل خان ہے ۔ وہ بڑا عجیب آدمی ہے ۔ بس ایک بار آپ کو غور سے دیکھ کر آپ کی ہتھیلی پر پھونک مارے گا تو آپ فوراً بھلی چنگی ہو جائیں گی ۔

گل بانو کی بات سن کر میں حیران ہو گئی … ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ کیا وہ کوئی پیر فقیر ہے یا کوئی بزرگ ہے ؟ یہ میں نہیں جانتی لیکن اس کے بارے میں جان کر آپ حیرت کریں گی … تنجی گل بانو نے اس کے بارے میں بتایا ۔ باجی ۔ اجمل خان ہمارے گاؤں کے لوگوں کا مرکز نگاہ ہے ۔ شروع میں یہ گائوں کے بازار میں دکان داروں اور علاقے کے لوگوں کا سامان اٹھانے کا کام کرتا تھا ، اسی اجرت پر اس کی گزر بسر ہوتی تھی ، اس نے شادی نہیں کی تھی ، مزدوری کے پیسے وہ بہت کفایت سے خرچ کیا کرتا تھا ۔ ،

اجمل خان کو سوائے عید کے کبھی اچھے لباس میں نہیں دیکھا گیا ۔ اس کا کہنا تھا اگر اچھے لباس میں ہوں گا تو کون مزدوری کا کہے گا ۔ اس کا اصول تھا وہ طے شدہ مزدوری سے زائد ہر گز نہ لیتا تھا اور اگر کوئی اپنی خوشی سے اسے مزدوری سے زائد رقم دے دیتا تو وہ اسی لمحے رقم واپس لوٹادیتا ۔ اور اصرار کے باوجود قبول نہ کرتا ۔ مہ کرتا o پہلے تو کسی کو پتا نہیں تھا کہ وہ کہاں سے آتا ہے اور رات کو کہاں چلا جاتا ہے ، لیکن اب اجمل خان نے بازار میں دکان کراۓ پر حاصل کر لی تھی ۔ اسے بطور رہائش گاہ ا استعمال میں لاتا تھا ۔

اجمل خان کو بڑے گوشت سے نفرت تھی ، جسے زندگی بھر اس نے ہاتھ نہیں لگایا ۔ البتہ چھوٹا گوشت وہ اس استعال کرتا کہ بازار میں سے گوشت خرید کر اسے کچی حالت میں کھا جاتا ۔ کسی نے اسے کھانا پکاتے بھی نہیں دیکھا تھا ۔ اور نہ ہی اس کی دوکان نما رہائش گاہ میں ایسی سہولت کا ہونا ممکن تھا ۔ اس کے باوجود حیرت کی بات یہ تھی ۔ کہ کبھی کسی نے اسے بیار ہوتے نہیں دیکھا بلکہ اگر کوئی بیمار ہو تو وہ اس کی ہتھیلی پر پھونک مار دیتا ۔ جس سے مریض جلد ہی ٹھیک ہو جاتا ۔ اس وجہ سے اب لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے۔گل خان کی شہرت گاؤں میں پھیل چکی تھی ۔۔ لوگ اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتے ۔ تو وہ آنے والے کی ہتھیلی پر پھونک ولوا

مار دیتا ۔ اجمل خان کی پھونک سے مریض اچھا ہو جاتا ۔ گل بانو ایک سمجھدار لڑکی لگتی تھی ۔ مگر جب اس نے یہ بات مجھے بتائی تو مجھے لگا کہ وہ کوئی کہانی مجھے سنا رہی ہے ، تھی میں نے سوال کیا گل بانو … می باتیں تم کو کس نے بتائیں اس عجیب و غریب شخص کے بارے میں … کہنے لگی ، ہمارے تایا اور چچا نے ، اور جب بھی ہمارے گائوں سے کوئی رشتہ دار آتا ہے تو ہمیں اجمل خان کی باتیں سناتا ہے ۔

خیر … میں تمہارے دادا کے گائوں جانے سے رہی اور نہ ہی میں ایسے عجیب و غریب انسان سے ملنا چاہوں گی ، میں نے گل بانو کو ٹکا سا جواب دے دیا ۔۔۔ کیونکہ یہ باتیں سن کر مجھ کو وحشت سی ہونے لگی تھی ۔  چند ہفتے گزرے گل بانو میرے پاس آئی کہنے لگی افسوس ہے باجی … آپ ہمارے ساتھ گائوں نہیں گئیں ، اب اجمل خان اس جہان سے گزر گیا ہے ۔ میں نے گل بانو سے افسوس کیا … اجمل خان کی موت کیسے ہوئی میں نے گل بانو سے پوچھا … کہنے لگی ۔ باجی … یقین کریں

بھی کسی نے اجمل خان کو بیمار ہوتے نہیں دیکھا ، سواۓ آخری بار گے ۔ موت کے بارے میں اجمل خان کا نظریہ عجیب و غریب تھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ کبھی دریا میں نہانے کے لئے نہیں جاۓ گا ۔ کہیں پانی میں ڈوب کر نہ مر جاۓ ، نہ کبھی کسی درخت پر چڑھے گر کر مرنے کا اندیشہ ہے ۔ اور نہ کسی اونچی جگہ جاۓ گا جہاں سے گر کر مرنے کا ڈر ہو ۔ دیکھئے اتنا طاقتور اور صحت مند آدمی پر بھی فوت ہو گیا ۔ سچ ہے کہ ، موت کو زندگی پر غالب آنا ہے ۔ تو اللہ تعالی کے حکم سے غالب آ جاتی ہے ۔ کیا تم نے اس کو دیکھا تھا گل بانو ۔ میں نے سوال کیا ۔

نہیں … لیکن ابو ، بھائی اور امی اس سے ملے تھے جب وہ دادا کے گائوں گئی تھے ۔ مرتے وقت اس کی عمر بچھتر سال سے اوپر تھی ۔ جب وہ پہلی اور آخری بار بیار ہوا تو اس کی شدید علالت کے باعث گائوں کے لوگ اسے گاڑی میں ڈال کر اس کے علاقے کی طرف گئے ۔ جہاں اجمل خان کے کچھ رشتہ دار اور عزیز و اقارب تھے ۔ مگر وہ اپنے گائوں زندہ نہیں پہنچا بلکہ راستے میں ہی فوت ہو گیا ، تجھی ان لوگوں نے جو اسے لے جا رہے تھے ۔وہاں قبر کھود کر اس کو دفن کر دیا اور واپس آ گئے ۔

اگلی بار گل بانو اپنی ماں کے ساتھ آئی تو اس نے بھی باتوں باتوں میں اجمل خان کا تذکرہ کیا ۔ میں نے پوچھا آخر وہ تھا کون اور کہاں سے آپ لوگوں کے گائوں آیا تھا ۔ گل بانو کی ماں نے بتایا ۔ وہ ہمارے آبائی گائوں سے چند میل دور واقع ایک پہاڑی علاقے سے آتا تھا ۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ اس خوف سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوا تھا کہ اس کے عزیز و اقارب اسے زمین کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیں گے ، اجمل خان کی وراثت میں کافی زمین تھی جس پر اس کے رشتہ داروں کا قبضہ تھا ۔

مرنے سے پہلے وہ اپنے علاقے کے قریب ہی تھا کہ اس نے اپنے گائوں پر آخری نظر ڈالی اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔ جس زمین کو رشتہ داروں کے خوف سے اس نے چوڑا تھا ۔ وہی کی مٹی اسے نصیب ہوئی ۔۔۔۔ اس داستان کو سن کر میرا ذہن پریشان رہنے لگا ۔ رہ رہ کر اجمل خان کا خیال آتا تھا کہ وہ کون تھا کہاں سے تعلق تھا اور کیا کرامت تھی اس میں ؟

ایک دن میں اپنے شوہر کے ساتھ شاپنگ پر گئی ۔ وہاں رش میں مجھے ایک بوڑھا آدمی دکھائی دیا جو اونچا ، لمبا ، صحت مند انسان تھا ۔ اس کی عمر ستر سال سے اوپر تھی لیکن کمر میں ، جھکائو نہیں تھا ۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے بال بھی سفید نہیں تھے ۔ رہی پاس سے گزرتے ہوۓ میں ان کی طرف حیرانی سے دیکھ تھی ۔ انہوں نے مجھے اپنی طرف دیکھتے پایا تو اپنی ہتھیلی پھیلا کر اشارہ کیا کہ اپنا ہاتھ پھیلائو ۔ میں نے اپنا ہاتھ ان کی طرف آگے کردیا ، انھوں نے میری پھیلی ہوئی ہتھیلی پر پھونک ماری اور غائب ہو گئے ۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا۔میرے شوہر کو بھی چلا ۔۔

گھر آئی تو بہت زیادہ پریشان تھی جیسے کوئی غیر معمولی واقعہ میرے ساتھ گزرا ہو ۔ شوہر سے تذکرہ کر کے ان کو بھی پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ اگلے روز گل بانو اپنی ماں کے ساتھ آئی تو میں نے یہ واقعہ انہیں بتایا جب میں نے انہیں کے حلیے کے بارے میں بتایا ۔ گل بانو کی امی کہنے لگی یہ تو ہو بہو اجمل خان جیسا ہے … لیکن وہ تو مر چکا تھا ، پھر وہ کیسے زندہ دکھائی دیا ، ہتھیلی پر پھونک والی بات بھی اجمل خان سے ملتی تھی ۔

اس کے بعد میرے دل کو سکون آ گیا ۔ نعیم کی محبت اور اس کی والدہ سے کی جانے والی بد تمیزی کو بالکل میرے دل نے فراموش کر دیا ۔ دلی طور پر شوہر سے پیار کرنے لگی ، لیکن وہ بزرگ کون تھے ۔ اس بات کو لے کر دل میں بے چینی سی رہتی ہے ۔ وہ بزرگ دوبارہ کبھی دکھائی نہ دیۓ ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *