Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

بہت دلچسب داستان

بہت دلچسب داستان

میں اور میری بیوی سٹار کی دوکان پر کئے سونے کی انگوٹھی خریدنے کیلئے۔ کچھ انگوٹھیاں دیکھنے کے بعد میری بیوی کو ایک انگوٹھی پسند آگئی۔ قیمت ادا کر کے جیسے ھی میں باہر نکلنے کیلئے مڑا تو ایک بارعب شخص سے ملاقات ھوئی جو کہ مجھے جانتے تھے لیکن میں انکو بھول چکا تھا بس اتنا یاد تھا کہ ماضی میں کبھی

ان سے ملاقات ھوئی تھی۔ یہ صاحب بڑی گرم جوشی سے میرے گلے ملے اور سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگے بیٹا لگتا ھے پہچانے کی کوشش کر رھے ھیں آپ ” میں نے کہا معزرت کیسا تھ آپ کا چہرہ جانا پہچانا لگ رہا ھے لیکن یاد نہی آرہا کہ آپ سے کب ملاقات ھوئی تھی۔ وہ تھوڑا سا مسکراے اور کہنے لگے میرا نام اقبال ھے

ویسے لوگ مجھے بڑا بھائی کہتے ھیں۔ آج سے چند سال قبل آپ اپنی فیملی کیسا تھ ھمارے گھر آئے تھے گلبرگ میں ھمارا گھر ھے شاید آپ کو یاد آگیا ھو۔ انکی بات سن کر میرا تو سرھی چکرا گیا۔ اور میرا رویہ بالکل مودبانہ ھو گیا اور میں بے اختیار بول پڑا سب یاد آگیا بڑے بھائی سب یاد آگیا۔ میں نے سوال کیا آپ اکیلے ھی ھیں

یا آنٹی بھی آئیں ھے۔ بڑے بھائی نے جواب دیا جی آنٹی بھی آئیں ھیں اور دوسرے بھائی بھی آے ھیں وہ بیٹھے میں آپ ان سے مل سکتے ھیں۔ ایک سائید پر دیکھا تو آنٹی برقعہ پہنے بیٹھی تھی اور ساتھ میں ھی دوسرے بھائی بھی کھڑے چہرے پر مسکراہٹ سجاے میری طرف دیکھ رھے تھے ۔ میں نے اپنی بیگم کو کہا

کہ انٹی کو سلام کرو اور بعد میں انکا تعارف کرواتا ھوں۔ میری بیگم گئی آنٹی کو سلام کیا آنٹی نے بہت ھی اچھے طریقے سے میری بیوی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پھر بہت ھی پیارے انداز میں میری بیوی کو دعائیں دیں۔ میں نے آنٹی کو بتلایا کہ یہ میری بیوی ھے اور یہ میرا 3 سال کا بیٹا ھے ۔ آنٹی بہت خوش ھوئیں

اور اپنے بیٹے کی طرف آنکھوں ھی آنکھوں میں اشارہ کیا جس نے میرے بیٹے کی جیب میں 1000 کا نوٹ ڈال دیا۔ میں نے بہت اسرار کیا کہ یہ غلط ھے لیکن آنٹی نہ مانیں۔ کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں نے آنٹی سے آنے کا مقصد پوچھا تو آنٹی کہنے لگیں کہ اللہ نے میری بیٹی کو بیٹے کی نعمت سے نوازا ھے اسلئے

بیٹی کیلئے اور انکے اہل خانہ کیلئے کچھ تحائف خرید نے آئیں ھیں۔ میں نے پوچھا آنٹی کو کسی بیٹی ؟ آپکی تو تمام بیٹیاں شادی شدہ تھیں صرف ایک کنواری تھی جسکے رشتہ کیلئے ھم لوگ آے تھے اور آپ لوگوں نے کہا تھا کہ ابھی 5 یا 10 سال تک شادی کا کوئی پروگرام نہی ھے۔۔ حالانکہ مجھے حیرانگی ھوئی تھی کہ گھر پر

بات دراصل کچھ اور تھی لیکن آپ کے والد صاحب نے آپ کا پردہ رکھا تھا۔ میرے اندر ایک تجسس پیدا ھو گیا کہ میرے والد صاحب ھم سے کیسے غلط بیانی کر سکتے ھیں اور میرے والد صاحب نے بھی بھی جھوٹ نہی بولا تھا۔ آنٹی نے اپنے بیٹوں کو کہا کہ مجھے میرے بیٹے کیسا تھ اکیلا چھوڑ دیں اور میں نے بھی

اپنی بیگم کو کہا کہ تم تھوڑا سا وقت مجھے دو بچے کو کچھ کھلاو پلاو۔ آنٹی کہنے لگی بیٹا جس دن تم اور تمہارے اہل خانہ ھمارے گھر ھماری بیٹی کا رشتہ لینے آئے تھے میں نیے اسی دن تمھارے رشتہ سے انکار کر دیا تھا جو کہ شاید تمھارے والدین نے تمہیں نہی بتلایا تم ایک پڑھے لکھے اور معاشرے میں ایک کامیاب شخص

ثابت ھو سکتے ھو مجھے پہلے ھی علم تھا۔ اور مجھے مکمل یقین تھا کہ میری بیٹی کو بھی تم خوش رکھو گے۔ لیکن نئے لوگوں سے رشتہ جوڑنے کیلئے صرف لڑکے کو ھی نہیں دیکھا جاتا بلکہ اسکے مکمل خاندان کو دیکھا جاتا ھے۔ کیونکہ ھم نے مستقبل میں آپس میں میل جول رکھنا ھوتا ھے اسلئے لڑکے یا لڑکی کے گھرانے والوں کو

دیکھ کر مستبقل کا تعین کیا جاتا ھے کہ یہ گھرانہ مستقبل میں کتنا کامیاب رشتہ نبھا سکتا ھے کیونکہ۔ زندگی میں اتار چڑھاو آتے رھتے ھیں اور ان حالات میں ھم کو کسی اپنے کی ضرورت ھوتی ھے اسلئے ھم کسی ایسے سے رشتہ نہی جوڑتے جو خوشیوں میں ھمارے ساتھ ھو لیکن حالات کے خراب ھوتے ھی وہ ھم سے

جدا ھو جائے۔ اسلئے میں نے اس دن آپکے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کو صاف صاف انکار کر دیا تھا۔۔ ھو سکتا ھے کہ انہوں نے آپ کو درست بات نہ بتلائی ھو۔ آنٹی کی باتیں سن کر میں مزید پریشان ھو گیا اور میں نے کہا کہ آنٹی ھم بہن بھائی آپس میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتیں ھیں خوشی اور غم میں

برابر کے شریک ھوتے ھیں کبھی ایسا نہی ھوا کہ ھم میں سے کسی کو ایک۔ دوسرے سے کوئی۔ شکایت ھو۔ اگر آپ برا محسوس نہ کریں تو میں 100 فیصد درست ھوں کہ آپکو ھمارے خاندان کو پر کھنے میں غلطی ھوئی ھے۔ آنٹی نے ایک سرد آہ لی اور کہا بیٹے ابھی تم بہت

چھوٹے ھو جو چیزیں میں دیکھ سکتی ھوں تم انکی طرف

کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ میرے استفسار پر آنٹی نے کہا کہ میرا اندازہ کبھی غلط نہی ھوتا۔ چلو میں تمکو بتلاتی ھوں۔ میں نے اپنی بیٹی کیلئے جتنے بھی رشتے دیکھے ھیں ان سے کچھ شرائط رکھی ھیں جو بھی میری بیٹی کو دیکھنے آئے۔ وہ اپنے تمام بیٹوں اور انکی بیگمات کو ساتھ لائیں۔

جو سب سے اچھے کپڑے ھوں

وہ زیب تن کر کے آئیں۔ گھر کی عورتیں اپنے مکمل زیورات سے سج کر آئیں۔ اگر گھر میں ھر فرد کی اپنی اپنی گاڑی ھے تو وہ اپنی اپنی گاڑی میں آئیں۔ یہ شرائط بہت عجیب تھیں۔ لیکن بعض لوگوں نے اسکا یہ مطلب لیا کہ شاید ہم لڑکے والوں کی مالی حالت دیکھنا چاھتے ھیں۔ لیکن ایسی بات نہیں ھے۔ اب جب آپ کے

اہل خانہ ھمارے گھر تشریف لاے تھے تو میں نے سب سے پہلے تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیاں دیکھیں جو کہ قدر مہنگی تھی جبکہ تمھارے والد صاحب کی گاڑی کی مالیت اتنی نہی تھی جتنی تمھارے دونوں بھائیوں کی گاڑیوں کی قیمت تھی۔ اسی طرح پھر میں نے تمھارے والد صاحب کے کپڑوں کا جائزہ لیا تو مجھے

محسوس ھوا کہ تمھارے بھائیوں کے جسموں پر ۔ ھوے کپڑے زیادہ مہنگے ھیں اور یہی حال تمھارے والد صاحب کے جوتوں کا تھا۔ جب میں نے تمھاری ماں کے زیورات دیکھے تو انکی مقدار بہت ھی کم۔ تھی جبکہ تمھاری دونوں بھابھیوں کے ہاتھ بازو اور گیلے زیورات سے سے ھوے تھے۔ پھر میں نے جب تمھار

بھابھیوں سے پوچھا کہ گھر کا کھانا کون پکاتا ھے تو تمھاری بھابھیوں نے کہا کہ ھم سب علیحدہ علیحیدہ پکاتے میں اور تمھارے والدین کا کھانا تمھاری بہن پکاتی ہے۔اسی طرح میں نے جب پوچھا کہ بچوں کو سکول کون چھوڑتا ھے تو مجھے پتہ چلا کہ تمھارے دونوں بھائی اپنے بچوں کو خود چھوڑتے ھیں جبکہ

تمھاری بہن کو تمھارے والد صاحب کالج لے کر جاتے ھیں۔ جب میں نے یہ حالات دیکھے اور سنے تو مجھے افسوس ھوا ان بیٹوں پر جنکو پڑھانے کیلئے باپ نے اپنی ساری زندگی گنوا دی اور اس اولاد کو معاشرے کا کامیاب فرد بنایا لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد والد کا سہارا بننے کی بجائے اپنی زندگی

گزارنے پر رضامند ہو گئی۔ تمھارے باپ نے تمھارے لئے بھوک افلاس بھی دیکھا ھو گا۔ پیدل سفر بھی کیا ھو گا۔ تمھارے منہ میں نوالہ ڈالنے کیلئے بھوک بھی برداشت کی ھوگی۔ تمہیں اچھا پہنانے کیلئے خود دو تین سال ایک ھی جوڑے میں بھی گزارے ھون گے۔ لیکن جب اولاد کی باری آئی تو اولاد باپ کو بھول گئی اور

اپنی دنیا کی رنگ رلیوں میں مگن ھو گئی۔ تمھارے بھائیوں نے خود تو نئی گاڑی لے لی لیکن انکو خیال نہ آیا که همارا باپ آج بھی اس پر اپنی گاڑی میں سفر کیوں کرتا ھے کیونکہ اس پر ابھی بھی تمھاری بہن کی اور تمھاری زمہ داری ھے۔ اسکا بھی دل کرتا ھو گانئے جوتے اور نئے کپڑے پہننے کو لیکن ھو سکتا ھے

اسکی جیب اس چیز کی اجازت نہ دیتی ھو۔ لیکن تمھارے بھائیوں کی جیب تو اجازت دیتی تھی کہ اپنے باپ کیلئے اچھا لباس اچھا جوتا پہلے خریدتے اور اپنے لئے بعد میں کیونکہ یہ رویہ تمھارے باپ کا تھا جب بھی اس نے کوئی چیز خریدنا چاھی پہلے اپنی اولاد کا خیال کیا بعد میں اپنا سوچا۔ اسی لئے میں نے یہ ساری باتیں

اسی دن تمھارے والد سے کر دیں تھیں۔ ھمیں دنیا کی مال و دولت نہی چاہیئے ہمیں تو ایسے رشتہ دار چاھئیں جو اپنے سے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دیں تاکہ کل کو جب ھم نیچے گریں تو ھمکو مزید نیچے دبانے کی کوجب بجائے اوپر کو اٹھائیں تاکہ کل کو جب وہ نیچے گریں تو ھم انکو بھی سہارا دیں سکیں۔ مال و دولت

اعلی عہدہ یا مرتبہ تو ھمیشہ نہیں رھتا۔ ھمیشہ جو ساتھ چلتے میں وہ بچے رشتے چلتے ھیں اور اگر رشتے بنانے میں ھم سے تھوڑی سی تھی غلطی ھو جائے تو ساری زندگی بھی تباہ ھو سکتی ھے اور نسلیں بھی تباہ ھو جایا کرتی ھیں۔ مجھے فخر ھے آپ کے والد صاحب پر کہ انھوں نے آپ کو حقیقت سے آگاہ نہی کیا

اور پھر بھی آپ لوگوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالتے رھے لیکن دیکھنا یہ ھے کہ اولاد اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتی ھے والدین تو ھمیشہ سے بھی اولاد کیلئے قربانیاں دیتے آئے ھیں۔ ابھی اولاد کی باری ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد پر کہ آج کچھ بھی ھو جاے میری اولاد مجھے ہمیشہ ترجیح دیتی ھے میرے لئے پہلے خریدتی ہے

بعد میں اپنے بیوی بچوں کیلئے کچھ خریدا جاتا ھے اور مجھے فخر ھے اپنی اولاد کی اولاد پر کہ وہ بھی اپنے والدین کو اپنی زندگیوں سے زیادہ ترجیح دیتی ھے اور ھمارا پورا خاندان ایک جان کی مانند ھے اگر کسی کو کسی بھی چیز کی ضرورت پڑ جائے تو پیٹھ دیکھا کر نہیں بھاگتے بلکہ ضرورت سے زیادہ لے کر آتا ھے ۔

اس لئے میرے بیٹے رشتے بنانا بہت آسان ھے لیکن کامیاب رشتے چنا اور انکو نبھانا بہت مشکل ھے ۔۔ کہیں ایک نااہل رشتہ آپ کو اتنا بڑا نقصان دے سکتا ھے کہ ساری عمر کی۔ خوشیاں غموں میں تبدیل ھو سکتی ھیں اور کامیاب رشتہ آپکو ایسا سہارا دے سکتا ھے کہ تمام زندگی کے غم خوشیوں میں تبدیل ھو سکتے ھیں۔

اتنی بات کرنے کے بعد آنٹی اٹھ کر چلی گئیں۔۔اور میری آنکھوں کے سامنے میرے والدین کا چہرہ گھومنے لگا۔ میری گاڑی میرے والد کی گاڑی سے بہتر تھی۔ میرا لباس میرے والد کے لباس سے بہتر تھا۔ میرے گھر کی زیب و زینت کا سامان میرے والد کے گھر سے بہتر تھا۔ میری بیوی ہاتھ میں سونے کی چوڑیاں اور کنگن تھے

جو میں نے خرید کر دیئے تھے لیکن میری ماں کا سارا زیور بک چکا تھا میں آج بھی گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر لیکن میرا باپ آج بھی اولاد کی زمہ داریاں نبھا رہا تھا۔ میں نے آج بھی اپنی بیوی کیلئے سونے کی انگھوٹھی خریدی لیکن میرے ذھن میں میری ماں کا خیال کیوں نہ آیا جس نے میری شادی کیلئے اپنا زیور بیچ دیا۔

مجھے افسوس ھوا اپنے آپ پر کہ میں نے اپنے والدین سے زیادہ اپنی ذات کو ترجیح دی ھے میرے والدین جنہوں نے مجھے سب کچھ دیا اور میں نے ان سے سب کچھ لے کر انکو خالی کر دیا لیکن کبھی انہوں نے مجھ

سے کوئی گلہ یا شکوہ نہی کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *