Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

یونیورسٹی کا عشق

یونیورسٹی کا عشق

یونیورسٹی لائف میں سال ہی گزرا تھا کہ عشق کی کت سو جبھی جو نیئر جو کہ بی ایس کیمسٹری کر رہی تھی اور میں بی ایس سی ایس ملاقات ہوئی بات بڑھتی گئی پر مجھے چھ ہزار پانچ سو گھر سے ہر ماہ ملتے جس میں کھانا پینا بھی ہوتا۔ اور پٹرول بھی۔ وقت گزرتا گیا پلاٹ میں بیٹھے تھے عائشہ نے کہا حسن مجھے پنک بہت پسند ہے۔

مجھے خیال آیا کہ میرے پاس اتنے پیسے کہاں ہیں جو اسکو کوئی گفٹ کروں مشکل سے واچ کی پینک میں اور عائشہ کو سالگرہ پر گفٹ کر دی بہت خوش ہوئی پر وہ سمجھ گئی کہ میرے پاس پیسے نہیں ہوتے اگلے روز ملا تو کہتی ہے حسن اپنا پرس دو میں نے گول گپے لینے ہیں جیب سے نکالا تو تین سو بیس روپے تھے۔

اس نے جاکے گول گپے لیے میں سوچ میں پڑ گیا آخری ہفتہ ہے کیسے گزرے گاروم میں جاکے دیکھا دو ہزار میرے پرس میں ہیں۔ میں نے کال کی تو کہار کھیں اپنے پاس میں خود ہی یوز کروں گی ایسے وہ اکثر مجھے کبھی شرٹ پینٹ اور ہر آئے دن پرس میں پیسے ڈال دینادن گزرتے گئے۔

میں نوٹس اور بکس بھی اُسی کے پیسوں سے لیتا فائنل ائیر کے بعد نوکری ملی چودھویں سکیل کی تو عائشہ نے کہا میرا آخری سال ہے گھر رشتہ کیلئے امی کو ساتھ لانا اسی اتوار ابو بھی گھر پہ ہی ہونگے میں نے امی ابو کو کہا کہ فلاں جگہ میرے رشتے کیلئے جانا ہے تو ناراض ہو گئے کہ ہم سید ہیں۔ ہمار ا پر دہ ہوتا ہے ہم باہر ہر گز نہیں کریں گے۔

ابو نے بھی کہا کہ اگر کی تو مجھ سے آزاد ہوا چھا میں نے کہا کہ ہم صرف بھائی ہیں پردہ کس چیز کا ہو گا امی ہیں بس اچھا آپ نہ مانوا گر مجھے کچھ ہو گیا تو رونا نہیں پھر کیونکہ میں نہیں رہ سکتا عائشہ کے بغیر امی روپڑی اور بہت مشکل سے مان گئیں رشتے کیلئے لے گیا تو اسکے خاندان نے بہت عزت کی پر کہا کہ ہماری اکلوتی بیٹی ہے ہم اپنے بھتیجے کو ہی دینگے۔

مطلب عائشہ کے والد ڈاکٹر بھی تھے اور زمیندار بھی اور چھوٹاسا ہسپتال بھی بنایا ہوا تھا انھوں نے صاف انکار کر دیا کچھ دن ہی گزرے تھے کہ عائشہ نے کہا کہ میرا نکاح ہو رہا ہے کزن سے خدا کے واسطے کورٹ میرج کر لو میں ماں باپ کو سب کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں۔

میں نے کہا نہیں میں نہیں چاہتا کہ آپکے ماں باپ کی عزت جائے اور آپ نے خود کہا تھا کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو صرف آٹھ یادس تک تعلیم دلوائی جاتی ہے میں پہلی لڑکی ہوں جو یونیورسٹی میں تعلیم کیلئے آئی ہوں تو نہیں چاہتا کوئی

اور لڑکی آپکے خاندان کی آگے نہ آسکے.

ان لڑکیوں کو یہ مثال دی جائے کہ وہ اتنا پڑھی کہ گھر سے بھاگ گئی۔ جس دن نکاح تھا حالانکہ بات بھی کرتا رہا پر اس رات مجھے پتا چلا کہ رات کتنی بڑی ہوتی ہے اب نیند تو مجھ پر بلکل حرام تھی نکاح کے دوروز بعد ملنے گیا اکیلاروم تھا اللہ گواہ ہے صرف سر چو ماہاتھ چومے اور اسے شدت بھری

کہا کہ اب کسی کی امانت ہو اسلیے ہر گز قبول نہیں کہ امانت میں خیانت ہو اس نے اصرار کیا کہا کہ کیا ہو گیا ہے حسن پہلے

ہاں عائشہ پہلے آپ کسی کی امانت نہ تھیں صرف میری تھیں. حسن میری طرف دیکھو میرا نکاح زبر دستی ہوا ہے ماں باپ کو کہا تو انھوں نے خود کو جلانے یہ آگئے۔

حسن میں بھی انسان ہوں میری بھی کوئی خواہش ہے میں نے سب کی خواہش پوری کی پیشانی پہ بوسہ دیا کہا اچھا ٹھیک ہے بتاؤ کیا کھلاؤں نہیں کچھ نہیں بلکل بھی نہیں کھاؤں گی میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہوں حسن میں آپکے پاؤں پڑتی ہوں مجھے اپنے گھر لے چلو۔ بڑی مشکل سے راضی کر کے اسے کالج کی بس پہ بٹھا کے واپس آگیا۔

اس رات انتہا کی شراب پی یہاں تک کہ میں گرا تو اٹھنے کا ہوش تک نہ تھا اور نوکری چھوڑ دی۔ کبھی کبھار بات ہو جاتی تھی پر اب وہ بات نہ ہوتی تھی اب جینا بھی عذاب بن گیا تھا ایکسیڈنٹ جان کے کیا موٹر سائیکل نہ بچا پر میں چار دن ہسپتال

رہا اب گھر والے مجھ سے تھک چکے تھے کہ یہ کہیں جائے۔کچھ ہی دنوں میں پاکستان چھوڑ کے کینیڈا چلا گیا بہت محنت کی

الحمد للہ اپناکار و بار ہے شہر میں پراپرٹی ہے پاکستان میں اور الحمد اللہ جتنا ہو سکتا ہے اتنا اچھا گھر بنوایا گھر میں بھی دو گاڑیاں ہیں اور یہاں بھی ہے سوچتا ہوں یہ سب اسکی بدولت ہے۔

اگر ایسانہ ہوتا تو میرے پاس وہی پرانی موٹر سائیکل اور اپنے دوستوں کی طرح ماں باپ کا دیا ہوا گھر اور لوگوں کا ادھار وہ بہت اچھی تھی۔ اللہ اسکو اور اسکے شوہر کو خوش رکھے۔

سبھی اس نے اپنے بیٹے کا نام حسن رکھا ہے اکثر کہتی تھی حسن میرے بیٹے کی آنکھیں آپ پہ جائیں بھی اس نے مجھے “تم ” کہ کے مخاطب نہیں کیا بھی اس شخص نے بد تمیزی نہیں کی بے شک زندگی میں مخلص انسان ایک بار ملتا ہے

کچھ دنوں پاکستان گیا ہوا تھا شدت تھی دیکھنے کی پر ضبط پر قابو پایا اسکی فرینڈ سے پتہ چلا کہ اس کا شوہر بہت شکی ہے۔

اس لیے سوچا ایسا نہ ہو کہ اسے تکلیف ہو شروع شروع میں بہت عیاشی کی اور شراب پی پر اب الحمد اللہ نماز اور قرآن پاک کی باقاعدگی سے تلاوت کرتا ہوں ہر دعا

میں اسے یاد کرتا ہوں۔

دوستو! انسان کو کسی چیز کا نہ ملنا بھی کوئی وجہ ہوتی ہے وہ شخص اب میرے دل میں رہتا ہے اسکی ہر اک یاد میرے پاس ہے جسے دیکھتا ہوں اور خیالات میں اکثراس سے ہمکلام ہوتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *