Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میری بہن کا بیٹا شہر میں پڑھنے آیا تو میں نے اسے اپنے گھر رکھ لیا میرا شوہر ملک سے باہر ہوتا تھا.

میری بہن کا بیٹا شہر میں پڑھنے آیا تو میں نے اسے اپنے گھر رکھ لیا میرا شوہر ملک سے باہر ہوتا تھا.

میرا نام ارمش ہے میری عمر بائیس سال کی تھی جب میری شادی میرے من پسند ارحم سے ہوئی تھی یہ پہلی نظر کا پیار تھا لیکن میرے ابو کو ارحم اتنا خاص پسند نہ تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ میری بڑی بہن کا شوہر کافی سمجھدار اور کمانے والا تھا جبکہ ارحم اس وقت کوئی بھی کام نہیں کرتا تھا میرے ابو کو رشتہ منظور کرنے میں کافی وقت لگا تھا یہ وقت میرے اور ارحم ہم دونوں کے لیے بہت کٹھن تھا کیونکہ وہ ہر روز مجھ سے یہ وعدہ کرتا تھا کہ میں اس کا حق کسی کو نہیں دونگی میں اسے سمجھانے کی کوشش کرتی تھی جب وہ کہتا تھا کہ تمہاری خوبصورتی

 

میری کمزوری ہے جس کے آگے میں بے بس ہو جاتا ہوں

 

میں اسے حوصلہ دیتی تھی کہ میں اسی کی ہوں وہ عمر میں مجھ سے دو سال چھوٹا تھا اس وجہ سے وہ مجھے بچا لگتا تھا اور میں اس کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی تو اس سے بڑی لگتی تھی جس کی اصل وجہ میری جسامت اور خوبصورتی تھی جو میرے حسن کو چار چاند لگادیتی تھی اور ارحم کی محبت سے اس میں اضافہ ہو جاتا تھا شادی سے پہلے ہمیں آپس میں ملنے کا وقت نہیں ملتا تھا لیکن میں پھر بھی چھپ کر اس سے مل لیتی تھی کیونکہ یہ دوری مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوتی تھی ارحم اور میری بہن کا بیٹا ہم عمر تھے میری بہن مجھ سے کافی بڑی تھی ان کا بیٹا کافی چالاک تھا اور اسے ہر طرح کے کام کا پتا تھاوہ ارحم کو بھی سکھاتا تھا ارحم بھی اس کی تعریف کرتا تھا

 

لیکن مجھے اپنے بھانجے سے چڑ تھی کیونکہ وہ ہر وقت مجھ پر نظر رکھتا تھا ایک دفع میں کالج میں تھی جب مجھے ارحم نے موبائل میں میسیج کیا کہ وہ اٹل کے روم نمبر چودہ میں بکنگ کروا چکا ہے اس لیے اب مجھے کالج سے نکل کر اس کے ساتھ بائل پہنچنا ہے میں پریشان تھی کہ یہ سب کرنا بہت مشکل ہے لیکن ارحم نے ناراضگی اختیار کر لی تھی جس کی وجہ سے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا میرے بھانجے نے مجھے لینے کے لیے آنا تھا وہ میری چھٹی کے ایک گھنٹہ پہلے ہی باہر گیٹ پر کھڑا ہو جاتا تھا میں اس دن برقع پہن کر نکلی تھی تاکہ کسی کی نظر میں نہ آجاؤں پر میرے

 

 

 

 

بھانجے نے مجھے ارحم کے ساتھ بائیک پر بیٹھتے ہوئے پہچان لیا تھا

 

میں نے یہ بات اور تم کو بتائی تو وہ کہنے لگا کہ تمہارا بھانجا بچہ ہے اسے ہینڈل کر لینا اس کے بعد سے میرے بھانجے نے مجھے دھمکیاں دینا شروع کر دی اور کہنے لگا کہ وہ میری شادی ارحم سے نہیں کروانے دے گا اور شادی سے پہلے ہی ہمارے رشتے کا سب کو بتادے گا میں اس کی باتیں سن کر ڈر چکی تھی اسے میرا بالکل ڈر نہیں ہوتا تھا اور نا ہی وہ میری عزت کرتا تھا میں نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ کبھی میں نے اس کی زندگی میں ٹانگ نہیں اڑائی اور ویسے بھی میں اس کی خالہ ہوں تو تمیز سے بات کیا کرے پر وہ اور بھی بد تمیزی کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یہی تو نا انصافی ہے کہ قدرت نے آپ جیسی حسینہ کو میری خالہ بنادیا

 

یہی چیز تو مجھے قریب آنے سے روک دیتی ہے نہیں تو آج ارحم کی جگہ میں آپ کے ساتھ ہوتا خالہ جی میں اس کی بے باک باتوں سے شرم سے چور ہو گئی تھی جب وہ میرے لال چہرے کو بغور دیکھنے لگا تھا میں اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کترارہی تھی اس نے میرا چہرہ اونچا کیا اور میری آنکھوں میں جھانکنے لگتا تھا اس سے پہلے کہ وہ کوئی گستاخی کرتا جب میں خود اس سے دور ہو گئی تھی اور اسے باور کرایا کہ خبر دار میں اس کی خالہ ہوں وہ مجھ سے الگ ہوا اور واپس چلا گیا پر واپسی پر اس نے مجھے جو گھوری دی تھی میں سمجھ گئی تھی کہ وہ چپ نہیں بیٹھے گا میں نے ارحم کو بتانے کا پلان بنایا پر ارحم نے میرے بھانجے کی نیت کو جان کر میرے بھانجے کا

 

قتل کر ڈالنا تھا اور اس طرح میں ارحم سے دور ہو سکتی تھی میں نے اپنا منہ موقع کی مناسبت سے بند ہی رکھا تھا میری مہندی کی شام مجھے میر ابھا نجاد کھائی نہیں دے رہا تھا مجھے وہم ہونے لگا کہ کہی وہ میرے پول نہ کھول دے جب میں اس روم کی جانب بڑھنے لگی جدھر وہ رکا تھا وہ اپنے نانا ابو یعنی کہ میرے ابو کے ساتھ موجود تھا میر ادل بھاری ہو گیا تھا میں نے اپنے بھانجے کو آواز دی کہ تمہاری خالہ جانے والی ہے کچھ پل ہی اس کے ساتھ بتالو وہ بھی سمجھ گیا تھا کہ میرا اشارہ کس چیز کی طرف ہے میں اپنے روم میں آگئی تھی اور اس کا انتظار کرنے لگی تھی جب رات کو مہندی کے بعد وہ میرے روم میں آیا اور میرے سراپے کو دیکھنے لگا تھا

 

مجھے دیکھ کر اس نے ایک لائن ماری تھی کہ میں تو ار تم سے خوش نصیب ہوں کیونکہ مجھے اس سے پہلے ملی ہو اس سے پہلے کہ وہ میرے پاس آتا جب میں نے اس سے شرط رکھی کہ آج کے بعد وہ اپنا منہ صرف اپنی پیاری خالہ کی تعریف کے لیے کھولے گا اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا میں نے اس کو یہ بھی کہا کہ آج کے بعد مجھے اس گندی نیت سے دیکھنے کی ہمت بھی مت کرنا اور میری بات سن کر شیطانی مسکراہٹ اچھالنے لگا اور مجھ پر جھک گیا اس کے اندر کی آگ کا میں نے اپنی مہندی کی رات اندازہ لگایا تھا مجھے خود پر غصہ آرہا تھا کہ اپنے ہی بھانجے سے یہ سب کروارہی تھی پر میں مجبور تھی وہ مجھ سے کافی دیر کام کرتا رہا

 

اور کم عمری کی وجہ سے تھک گیا تھا میں سوتے ہوئے دیکھا تو اس کی شکل پر بلا کا پیار آیا تھا کاش وہ اندر سے بھی اتنا ہی معصوم ہوتا میں نے اسے کچھ ہی دیر بعد اٹھا دیا تھا کیونکہ اسے اپنے روم میں جانا چاہیے تھا اس نے دوبارہ کرنے کی ضد کی اور کہنے لگا کہ یہ کام الوداعی کام ہو گا کیونکہ اس کے بعد آپ ہمیشہ کے لیے ارحم کی ہو جائے گی میں نے بھی اس کی بات سمجھ لی اور اسے دوبارہ اپنی رسائی دے دی لیکن اسے احتیاط برتنے کے ہدایت بھی کی تھی دن ایسے ہی گزرتے گئے اور میری اور ارحم کی شادی ہو گئی تھی شادی کے بعد میر ابھانجا مجھ سے کافی دور

 

 

 

 

ہو گیا تھا اور اب شہر چلا گیا تھا جب کہ اپنے شوہر کی جاب کی دعا کرنے لگی تھی

 

تا کہ میں بھی شہر میں سیٹ ہو جاؤں میر ابھا نجا رحم کو جلاتا تھا کہ وہ ہم سے پہلے شہر چلا گیا ہے آخر قدرت نے ہماری بھی سن لی اور میرے شوہر کا تبادلہ شہر ہو گیا میں نے سکھ کا سانس لیا اور ہم شہر شفٹ ہو گئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا جب میرے شوہر کی قسمت اور بھی مہربان ہو گئی اور وہ باہر ملک چلا گیا تھا میں پیچھے سے اکیلی رہنے لگی تھی میری بہن نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے بھانجے کو بلالے میں اس کی بات ٹال نہیں سکتی تھی جب میں نے اپنے بھانجے کو خود اپنے پاس آنے کی دعوت دی تھی مجھے لگتا تھا کہ میر ابھا نجاب بدل گیا ہے کیونکہ وہ میرے گھر ہوتے ہوئے مجھے دیکھتا بھی نہ تھا اور کچھ ہی وقت گھر گزارتا تھا

 

تا کہ میں بھی شہر میں سیٹ ہو جاؤں میر ابھا نجا رحم کو جلاتا تھا کہ وہ ہم سے پہلے شہر چلا گیا ہے آخر قدرت نے ہماری بھی سن لی اور میرے شوہر کا تبادلہ شہر ہو گیا میں نے سکھ کا سانس لیا اور ہم شہر شفٹ ہو گئے ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا جب میرے شوہر کی قسمت اور بھی مہربان ہو گئی اور وہ باہر ملک چلا گیا تھا میں پیچھے سے اکیلی رہنے لگی تھی میری بہن نے مجھ سے کہا کہ وہ میرے بھانجے کو بلالے میں اس کی بات ٹال نہیں سکتی تھی جب میں نے اپنے بھانجے کو خود اپنے پاس آنے کی دعوت دی تھی مجھے لگتا تھا کہ میر ابھا نجاب بدل گیا ہے کیونکہ وہ میرے گھر ہوتے ہوئے مجھے دیکھتا بھی نہ تھا اور کچھ ہی وقت گھر گزارتا تھا

 

اور رات کو واپس آتا تھا میں بور ہو جاتی تھی ایک دفع میری آنکھ کھلی تو میر ابھانجا اپنے روم میں کچھ کر رہا تھا اس کے روم کی لائٹ آن تھی یہی سوچ کر میں نے اس کے روم میں چھاپا مارا تو اندر سے ایک لڑکی بھی نمودار ہوئی میں معاملہ سمجھ گئی تھی کہ اندر کیا چل رہا تھا اور ویسے ہی واپس آگئی وہ لڑکی بھی کچھ دیر کے بعد باہر چلی گئی تو میں نے اپنے بھانجے سے اس سب کا مطلب پوچھا اور اسے یہ بھی کہا کہ اگر پسند ہے تو اس کے گھر رشتہ بھیج دو میرا بھانجامیر امزاق اڑانے لگا اور کہنے لگا کہ مجھ سے برداشت نہیں ہورہا کیونکہ میں نے کبھی اس کے ساتھ یہ سب کیا تھا میں نے غصے میں اسے تھپڑ مار دیا تھا اور اسے یہ بھی کہا کہ مجھے صرف اپنے شوہر

 

سے سکون ملتا تھا اور وہ مہندی والی رات میرے سکون کی نہیں بلکہ تمہارے نفس کی تسکین کی تھی اسے میری اس سچائی بھری باتوں سے آگ لگ گئی تھی وہ بھی گھر سے باہر نکل گیا تھا میں نہیں جانتی تھی کہ اب اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کچھ دن کے بعد اس نے آکر مجھ سے معافی مانگی اور کہنے لگا کہ اب وہ میرے ساتھ کچھ بھی نہیں کرے گا میں نے اس پر یقین نہ کیا لیکن وہ زبردستی میرا خیال رکھنے لگا تھارات کو وہ مجھے دودھ دیتا تھا اور صبح اٹھتے ہی وہ مجھے فریش جوس دیتا تھا میں بھی اس کا رنگ بدلتے دیکھ کر حیران تھی اور اب اپنے دل میں اس کے لیے جگہ بنے لگی تھی کچھ دن کے بعد مجھے محسوس ہوا جیسے اس دودھ کی وجہ سے مجھے سکون ملتا ہے

 

مجھے اس دودھ کی عادت ہونے لگی تھی اور جب میں وہ دودھ پیتی تو اگلی صبح ہی اٹھتی تھی رات کو میری آنکھ بالکل بھی نہ کھلتی تھی مجھے حیرانی ہوتی تھی ایک دفع میں نے دودھ پیا اور سونے لگی جب مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں آسمانوں پر اڑ رہی ہوں یہ سکون مجھے تب ملتا تھا جب میرا شوہر واپس آتا تھا میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے اپنی آنکھیں کھول سکوں پر میری آنکھیں نہ کھلتی لیکن اس سکون کی میں عادی ہونے لگی تھی اب یہ روز کا معمول تھا میرا بھانج جو دودھ دیتا میں وہ فوراً پی لیتی تھی اگلے دن مجھے عجیب سی تھکاوٹ ہوتی تھی پر میں اندازہ نہ لگا سکی تھی کہ وہ دودھ خالص نہیں تھا بلکہ اس میں نشہ آور دوائی ہوتی تھی

 

جس سے میں نشے میں ہوتی تھی اور میر ابھانجا اس حالت میں میر افائدہ اٹھاتا تھا یہ عمل وہ ایک مہینے تک کرتا رہا تھا اور رات کو میرے ساتھ سب کچھ کرتا تھا اگلی صبح مجھے کچھ بھی یاد نہ ہوتا تھا میں ان سب سے انجان تھی جب ایک دن اچانک ہی کھانے کی میز پر میرا دل خراب ہوا میرے بھانجے نے مجھے پانی پلایا اور میری جانب مسکرا کر دیکھنے لگا تھا میں کچھ دیر بعد بہتر محسوس کرنے لگی جب اچانک سے میرے پیٹ میں درد کی ایک لہر دوڑ آئی اور میں چیخ مارنے لگی میرے بھانجے نے مجھے سہارا دیا اور میر اور د کم کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا اسی نے مجھے ڈاکٹر سے چیک کروانے کا مشورہ دیا میں نے اس کی بات مان لی پر ڈاکٹر نے مجھے ایک ہفتے بعد کا

 

نمبر دیا اسی دن ہی میرے بھانجے کی امریکہ کی فلائٹ تھی مجھے اس ایک ہفتے میں ایسے ہی در در ہتا تھا پر وہ دودھ کا گلاس اب مجھے نہیں ملتا تھا ایک دفع میں نے اپنے بھانجے سے پوچھا کہ اب تم دودھ کیوں نہیں دیتے تو کہنے لگا اب کام تو ہو گیا ہے میں نہ کبھی ایک ہفتے بعد ڈاکٹر نے چیک کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ میں حاملہ ہوں میں شاک تھی کیونکہ یہ بچہ ارحم کا تو ہو نہیں سکتا تھا مجھے اپنے بھانجے کی بات اور اس کی حرکت یاد آئی لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی اس نے تھپڑ کا بدلا لے لیا تھا اور اب وہ امریکہ روانہ ہو چکا تھا اس نے امریکہ میں ہی شادی کر کے اپنا گھر بسا لیا تھا اور ادھرمیں اپنا بھر اہوا پیٹ سب سے چھاتی پھر رہی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *