Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

ایک سرکاری ملازم ہیرا منڈی میں ایک گھر کے دروازے پر دستک دی

ایک سرکاری ملازم ہیرا منڈی میں ایک گھر کے دروازے پر دستک دی

ایک سرکاری ملازم نے ایک واقعہ سناتے ہوۓ بتایا کہ مردم شماری کے سلسلے میں میرا ہیرا منڈی کے علاقے میں جانا ہوا ۔ میں نے ایک گھر کے دروازے پر دستک دی تو تھوڑی دیر بعد ایک بچی دروازے پر آئی , پی نے آتے ہی ایک عجیب بات کہی , انکل آپ ہمیں جو سمجھ رہے ہیں ، ہم وہ لوگ نہیں ہیں ، میں نے کہا ، بیٹا گھر کے کسی بڑے فرد کو بلائیں , میں مردم شماری کے سلسلے

میں حاضر ہوا ہوں , بچی واپس چلی گئی ۔ پتا نہیں اس نے اپنی ماں سے کیا کہا ۔ کیا نہ کہا ۔ کچھ دیر بعد اس کی ماں دروازے پر آئی اور آتے ہی مجھ سے کہنے لگی آپ یہاں کیوں آۓ ہیں ، آپ جو رہے ہیں ، ویسا بلکل بھی نہیں , مہربانی کر سمجھ کے واپس چلے جائیں ورنہ ابھی یہاں لوگوں کی قطاریں لگنا شروع ہو جائیں گی

آپ اس خاتون کی باتوں پر حیران ہوا اور تسلی دی کہ آپ جیسا سمجھ رہی ہیں ، ویسا بھی نہیں ہے , میں گورنمنٹ کی طرف سے مردم شماری کے سلسلے میں یہاں حاضر ہوا ہوں ، میری ڈیوٹی اس علاقے میں لگائی گئی ہے ۔ اور آپ کا گھر سب سے پہلے ہی گنتی میں آتا ہے ۔ خاتون نے مجھے اندر آنے کو کہا ۔ میں گھر میں داخل ہوا تو ایک سادہ سا کمرہ تھا ۔ تین بچے پڑھائی

میں مصروف تھے ۔ خاتون چہرے سے بہت اچھے خاندان کی لگ رہی تھی ۔ اس سے پہلے کہ میں پوچھتا اس نے خود ہی ایک درد ناک کہانی سنانا شروع کر دی ۔ کہنے لگی بھائی میں معزرت کرتی ہوں کہ میں نے آپ پر شک کیا کیونکہ ادھر ہر وقت کوئی نہ کوئی اوباش شخص دروازے پر دستک دیتا ہے اور بکواس کر کے چلا جاتا ہے ۔ میں ادھر اپنی مرضی سے نہیں رہ رہی بلکہ مجبوری سے آئی

میرے والد صاحب ایک ٹیچر تھے ۔ میں اس وقت صرف 8 سال کی تھی جب اس کا انتقال ہو گیا ۔ والد کے انتقال کے بعد میرے چچا نے میری پرورش کی ۔ چچا نے مجھے اپنے بچوں سے کم نہ سمجھا ۔ لیکن میری بچی کا مجھ رویہ ٹھیک نہیں تھا ۔ شاید وہ میرے ادھر آنے سے خوش نہیں تھی ۔ میری آزمائش اس وقت شروع ہوئی جب چا کا انتقال ہوا ۔ چچا کے انتقال کے کچھ عرصہ

بعد میری چچی نے اپنی جان چھڑانے کے لیے ایک چالیس سالہ آدمی سے میری شادی کرا دی جبکہ اس وقت میری عمر 15 سال سے زیادہ نہیں تھی ۔ وہ آدمی زمیندار تھا ۔ پہلی بیوی سے اولاد نہیں تھی ۔ مجھے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہے ۔ اس کا علاج باری تھی مگر بیچنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ شادی کے پانچ سال بعد اس کا انتقال ہو گیا اور تین وه وديل

بچوں کی ذمہ داری مجھ پر تھی میرے شوہر کا بڑا بھائی کچھ کاغذات لے کر میرے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہ جائداد کے کاغذات ہیں ، ان پر دستخط کر دو ۔ اس نے دھوکے سے ساری جائداد اپنے نام کروا لی اور پھر مجھے گھر سے یہ کہتے ہوۓ نکال دیا کہ بھائی صاحب نے اپنی ساری جائداد اپنے علاج پر لگا دی

تھی ۔ اب ادھر واپس مت آنا ورنہ بچوں سمیت تجھے مار ڈالوں گا ۔ میں وہاں سے ڈری سہمی ہوئی چل پڑی , مجھے خود معلوم نہیں تھا کہ میری منزل کہاں ہے ، ایک بس پر سوار ہوئی جو لاہور جا رہی بغیر کچھ سمجھے سوچے میں بس پر سوار ہو گئی ۔ ادھر پہنچی تو آدھی رات کا وقت تھا ۔ میں ایک ایسے علاقے میں آگئی جس کے بارے میں میں نہیں جانتی تھی ۔ یہ بازار حسن کا علاقہ تھا ۔ تھی ۔

میں ایک گھر کے دروازے پر بیٹھ گئی ، صبح کے وقت ایک بوڑھی عورت نے مجھے دروازے پر بیٹھا دیکھا تو میرے پاس آئی اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا ۔ بیٹی لگتا ہے بڑے حادثے سے گزری ہو , وہ مجھے اپنے گھر لے گئی اور پچھلے 2

سال سے مجھے اپنے گھر کے ساتھوالے مکان میں پناہ دی ہوئی ہے ، وہ مجھ سے مکان کا کرایہ بھی نہیں لیتی اور میرے بچوں کی پڑھائی کا خرچ بھی اٹھا رہی ہے ۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے ہیں ، میں اس بازار حسن میں رہتے ہوۓ بھی اس کا حصہ بالکل نہیں بنی ۔ کچھ اوباش آدمی میرے دروازے پر دستک دیتے ہیں ، مگر عزت افزائی کے بعد یہاں آنے کی جرات نہیں کرتے ۔ اس عورت کی کہانی سن کر میں نے اسے اپنی بہن بنا لیا ۔ اور جتنا ممکن ہو سکا اپنی استطاعت کے مطابق اس فیملی کی مدد کرتا رہا ۔ صرف اپنے پروردگار کی رضا کی خاطر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *