Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور عبرت ناک واقعہ ، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور عبرت ناک واقعہ ، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

وہ دونوں ،جس جگہ پر گناہ کرنے لگے تھے وہ روئے زمین کا سب سے زیادہ مقدس مقام تھا. جیسے ہی انہوں نے گناہ کیا، اسی وقت ان کے جسم پتھر ھونے لگے.ان کی روحیں قبض کر لی گئیں اور گوشت پوست کے جسم پتھر کے بنتے چلے گئے۔

اس وقت ان کے اریب قریب کوئی بھی نہیں تھا. اس لیے جو کچھ ان پر گزری اس کے بارے میں خود انہی کے سوا کسی کو پتہ نہیں چلا تھا. یہ تاریخ کا انتہائی عجیب و غریب اور خوفناک ترین واقعہ تھا۔ دو زندہ انسان ، جن میں سے ایک مرد تھا اور دوسری عورت تھی عذاب الٰہی کے تحت پتھر کے بن گئے تھے ۔

کچھ دیر گزری تو ادھر سے کسی کا گزر ہوا ۔ اس نے ان کو دیکھا اور پہچان لیا۔ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انہوں نے اس مقدس و متبرک ترین مقام پر کیسا گھناؤنا کام کیا تھا جس کی فوری طور پر پکڑ ہوگئی تھی ۔ لوگوں کا مارے غصے اور دکھ کے انتہائی برا حال ہوگیا۔ ان دونوں پتھر کے بتوںکو نشان عبرت بنانے کے لئے اس زمانے کے اہل علم اور نیک لوگوں نے ان کو اس مقدس مقام سے کچھ دور اسی علاقے میں ایک دوسرے سے کافی لمبے فاصلے پر آمنے سامنے نصب کر دیا ۔اس مقدس مقام پر عبادت کے لئے آنے والوں کے لئے لازم قرار دے دیا گیا کہ ان دونوں کے بتوں کو جوتے مارتے ہوئے گزرا جائے تاکہ دیکھنے والوں کے زہنوں میں ان کا کیا ہوا گناہ تازہ رہے اور وہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کرتے رہیں۔

اب جو بھی اس مقدس مقام پر آتا وہ ان کو جوتے مارتے ہوئے گزرنے لگا۔ وقت گزرتا رہا۔

سو ڈیڑھ سو سال تک یہی سلسلہ چلتا رہا اس کے بعد کچھ وقت گزرا تو نئی آنے والی نسلوں نے آہستہ آہستہ ان بتوں کو جوتوں سے مارنا چھوڑ دیا۔شیطان نے ان کے زہن میں یہ بات ڈالی کہ کیونکہ یہ عبادت کا حصہ نہیں لہٰذا ان بتوں کو جوتوں سے مارنا ضروری نہیں بلکہ اس کی بجائے ان کو علامتی طور پر تھپڑ مار کر گزرا جائے جس سے ان سے نفرت کا اظہار بھی ہوتا رہے گا اور ان کے کئے ہوئے گناہ کا خیال بھی لوگوں کے زہنوں میں موجود رہے گا۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ تھپڑ بھی ہلکی سی چپت میں تبدیل ہونے لگا اور پھر بالکل علامتی طور پر آہستہ سے ان بتوں کو چھو کر گزرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ شیطان نے ایک بار پھر ورغلایا اب لوگ ان بتوں کو اس نیت سے چھوتے کہ وہ ان سے نفرت کرتے ہوئے تھپڑ مار رہے ہیں لیکن ساتھ ہی دعا اپنی حاجات کے لئے دعا بھی مانگنے لگے تھے۔ شیطان نے ان کے زہن میں بٹھا دیا کہ اگر تم ان بتوں کو نفرت سے چھوتے وقت دعا مانگو گے تو تمہاری دعائیں جلدی قبول ہونگی ۔ یہاں شیطان کی شرارتیں دیکھ لیجئیے کیسے آہستہ آہستہ زہنوں کو تبدیل کرتا ہے ۔ جب لوگوں کی حاجات پوری ہو جاتیں تو شیطان ان کو سمجھاتا کہ یہ حاجت اسی وجہ سے پوری ہوئی کہ تم نے بت کو چھو کر دعا کی تھی ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کی سوچ بدلتی چلی گئی اور وہ اب ان بتوں کو چھو کر دعا ضرور مانگتے تھے لیکن ان کے انداز میں ان بتوں کے لئے عقیدت اور احترام آنے لگا تھا۔ اور پھر وہ وقت بھی جلد آ گیا جب ایک بدبخت نے اس بت کے سامنے اس کی باقاعدہ مناجات کی اور اسی سے دعا مانگنے لگا۔ جوتے مارنے سے شروع ہونے والی داستان تھپڑ مارنے ، علامتی طور پر چھونے ، عقیدت سے چھونے سے ہوتی ہوئی باقاعدہ عبادت تک چلی گئی ۔ اب ان دونوں بتوں کی باقاعدہ پوجا کی جانے لگی تھی۔ ان سے منتیں اور مرادیں مانگی جانے لگیں۔ بدی اور بدی کے عبرتناک انجام کی علامت اب دونوں بت خدا بنا لئے گئے تھے ۔ ایک وقت آیا کہ ان بتوں کو سجدے کئے جانے لگے ، ان کے سامنے قربانی کی جانی لگی اور ان کا شمار بڑے بتوں میں کیا جانے لگا۔

پھر یہ اندھیری رات اور زیادہ گہری ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک دن ۔۔۔۔ رشدوہدایت کا ایک سورج طلوع ہوا۔ جس سے وہ پورا خطہ اور چاردانگ عالم جگمگا اٹھے ۔ دنیا سے جہالت چھٹنے لگی ۔ ایک عظیم ہستی نے ساری دنیا میں ایک ایسا عظیم انقلاب برپا کر دیا تھا جس نے روز قیامت تک جاری و ساری رہنا تھا۔ ایک دن عرب کا وہ بادشاہ جو غریبوں کا والی اور بیکسوں کا سہارا تھا فاتح بن کر اس مقدس زمین میں آن پہنچا۔ان کی ایک نگاہ سے بت اور بت پرست ٹوٹ کر بکھرنے لگے ، لوگ توبہ تائب ہوکر بتوں سے دور ہونے لگے سب کو اپنے سچے خالق و مالک کی پہچان ہونے لگی ۔ ہزاروں سال سے یہ پیاسی زمین ، یہ کرہ ارض ہدایت سے سیراب ہونے لگی ۔ زمین و آسمان کی مخلوقات نے حیرت سے اس عظیم الشان انقلاب کا منظر پہلی بار دیکھا تھا۔

ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سب سے پیارے ساتھی علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ خانہ خدا میں داخل ہوئے ۔ سب لات منات کے بت توڑے جانے لگے ۔ بتوں کے ٹکڑے اڑ رہے تھے اور ان کو پوجنے والے جو اپنے سچے رب کو پہچان چکے تھے دیکھ کر اپنی سابقہ گمراہی پر پچھتا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتوں کو ریزہ ریزہ کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ آیت بھی دہراتے جا رہے تھے کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں انسانی بتوں کی جانب متوجہ ہوئے جنہیں کئی سو سال پہلے ایک گناہ کی پکڑ میں پتھر کا بنا کر نمونہ عبرت بنا دیا گیا تھا۔ مرد کا بت صفا کے مقام پر نصب تھا اور عورت کا بت مروہ کے مقام پر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کرکے اٹھا کر خانہ خدا کی حدود سے باہر پھینک دیا ۔

یہ عورت مرد کون تھے؟۔

اس کے لئے ہمیں تاریخ کے اوراق کو پیچھے الٹنا پڑے گا۔

اس کے لئے ھمیں اس زمانے میں جانا ھوگا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام زم زم کے چشمے کے قریب زندگی کے دن بسر کر رھے تھے اس دور میں عرب کی زمین پر پینے والے پانی کا ملنا ایک انتہائی ناممکن سی بات تھی صحرا اور خشک پہاڑیوں کی اس زمین پر پانی کی ایک بوند کا ملنا محال تھا عرب کے قبائل میٹھے پانی کے چشموں اور کنوؤں کی تلاش میں صحراؤں اور وادیوں میں مارے مارے پھرتے تھے یہ معجزانہ چشمہ جو ننھے اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے معجزاتی طور پر الّلہ کی طرف سے پیدا کیا گیا تھا اس بے آب و گیا علاقے میں دنیا کی سب سے بڑی نعمت سے کم نہیں تھا اور ایک قبیلہ جو بنی جرھم کے نام سے تاریخ میں مشہور گے وہ بھی میٹھے پانی کی تلاش میں صحراؤں کی خاک چھان رھا تھا

انہوں نے جب دور سے پرندوں کو اڑتے دیکھا تو ان کو خیرانگی ھوئی کیونکہ صحرا میں پرندوں کا پایا جانا پانی کی علامت تھا چنانچہ وہ سارا قبیلہ اسی جانب چل پڑا انہوں نے جب ایک خاتون اور چھوٹے سے بچے کو اس ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کے قریب دیکھا تو وہ بہت حیران بھی ھوئے اور اس علاقے میں جہاں پانی کا نام و نشان تک نہیں تھا اللہ کی قدرت سے ایک چشمے کو رواں دیکھ کر بے حد حیران ھوئے ۔ انہوں نے حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام سے اس چشمے کے قریب رہائش اختیار کرنے کی اجازت مانگی حضرت حاجرہ علیہ السلام نے ان کو اجازت دے دی اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اس چشمے کا پانی ضرور استعمال کرو لیکن یہ اللہ کی امانت ھے اس پر کسی کا بھی کوئی مالکانہ حق نہیں ھوگا قبیلے والوں نے اس شرط کو قبول کر لیا اور یہاں پر ہی آباد ھو گئے جب وقت گزرنے لگا جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تو بی بی حاجرہ علیہ السلام نے نوجوان اسماعیل کی شادی اسی قبیلہ جرھم کی ایک لڑکی سے کر دی

اور یوں رفتہ رفتہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد خوب پھلی پھولی اور یوں مکہ جس کا اصل نام بکہ تھا ایک آبادی کی شکل اختیار کر گیا قبیلہ جرھم والے کافی عرصہ تک تو سیدھے راستے پر رھے لیکن پھر آھستہ آھستہ ان میں خرابی پیدا ھونی شروع ھو گئی اب انہوں نے کعبہ شریف کا انتظام سنبھال لیا اور حج کے لئے آنے والے لوگوں سے ملنے والا ہدیہ خود سمیٹنے لگ گئے اور یوں رفتہ رفتہ ان کے اندر جرائم پیدا ھونے شروع ھوگئے تب اللہ تعالی نے ان کو سزا دینے کے لئے ان سے زم زم چھین لیا اور زم زم کا پانی خشک ھو گیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زم زم کے نشان تک مٹ گئے

اب کسی کو معلوم بھی نہیں تھا کہ یہاں زم زمُ نام کا کوئی چشمہ ھوا کرتا تھا اسی قبیلے کا ایک شخص جس کا نام مضاض بن عمرو تھا بہت ہی نیک اور پارسا شخص تھا اس نے قوم کو بہت سمجھایا ان کو بہت سے خطبے دئیے اللہ کے عزاب سے ڈرایا لیکن ان پر کوئی اثر نہ ھوا جب یہ قبیلہ اپنے برے کاموں سے باز نہ آیا تو ایک رات مضاض نے سوچا کہ یہ لوگ جس طرح کعبہ شریف کی ہدیوں کی صورت میں آمدن کھانے لگ گئے ہیں کسی دن یہ حج کرنے کے لئے آنے والوں کی طرف سے چڑھائے گئے قیمتی ہدیے جن میں سونے چاندی کی کچھ اشیاء شامل تھیں وہ بھی چرا لیں گے

انہوں نے رات کو اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور کعبہ کے اندر موجود سونے کے قیمتی ھدیے اٹھائے اور جس جگہ زم زم کا چشمہ ھوا کرتا تھا اسی جگہ کھدائی کر کے یہ سب قیمتی ہدیے وھاں چھپا دئیے اب جیسا کہ اللہ تعا لی کسی قوم کے بگڑنے پر اس قوم کو کسی دوسری قوم کے ھاتھوُں عذاب دیتا ھے اس قوم کو بھی عذاب دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اور ایک اور قبیلے بنی خزاعہ کو ان پر مسلط کر دیا. بنی خزاعہ والوں نے بنی جرہم کو مار مار کر مکہ سے نکال دیا ان کے قبیلے کے کثیر تعداد میں افراد کو قتل بھی کر ڈالا اور یوں لٹے پٹے بنی جرہم یمن میں جا کر آباد ھو گئے. اسی زمانے میں اس قبیلے کے ھاں ایک لڑکے اور لڑکی نے جنم لیا لڑکے کا نام ایسا بن یلا تھا اور لڑکی کا نام نائلہ بنت زید تھا۔.

دونوں جب جوان ہوئے تو ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار ہو گئے اور انہوں نے آپس میں ناجائز تعلقات قائم کر لیےایک بار یہ دونوں حج کے لیے ایک قافلے کے ھمراہ مکہ مکرمہ گئے. خانہ کعبہ میں ان کو تنہائی میسر آئی تو انہوں نے ایک قبیح فعل کرنے کا ارادہ کر لیا. چنانچہ جیسے ہی گناہ کے مرتکب ہوئے تو انہیں عذاب الہی نے آن گھیرا. یوں وہ پتھر کے بت بنا دییے گئے.
اس کے آگے کے حالات آپ نے تحریر کی ابتدا میں پڑھ لیے ہیں۔
جب ان کے بت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خانہ کعبہ کی حدود سے باہر پھینکوا دییے تو اس وقت مسلمانوں کے زہن میں صفا و مروہ کے دوران سعی کے بارے میں شک و شبہ پیدا ہو گیا. وہ سوچنے لگے کہ کیونکہ صفا و مروہ پر دونوں کے بت پہلے نصب تھے جن کا طواف جاہلیت کے زمانے میں کیا جاتا تھا لہذا اب ان کا صفا و مروہ کا طواف کہیں ان بتوں کی یاد میں طواف نہ ثابت ہو جس کی وجہ سے ان پر بھی اللہ کا عذاب نازل نہ ہو جائے۔اس پر سورہ بقرہ کی آیت نمبر 158 نازل ہوئی جس میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:

” بے شک صفا اور مروا الله کی نشانیوں میں سے ہے، سو جو شخص
حج کرے بیت الله کا یا عمرہ کرے تو نہیں ہے کچھ گناہ اس پر جو سعی کرے ان دونوں کے درمیان اور جو شخص خوش دلی سے کرتا ہے کوئی نیک کام تو بے شک الله ہے قدر دان ، سب کچھ جاننے والا ھے۔“
#منقول_نامہ #صفا_مروہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *