Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

ہسپتال میں ایک عورت آئی اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے ڈاکٹر صاحب میری

ہسپتال میں ایک عورت آئی اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگے ڈاکٹر صاحب میری

میں ڈاکٹر علینہ اسلام ہوں مجھے یاد ہے میں ان دنوں سرگودھا کے شہر بھیرہ میں تعینات تھی جب میرے پاس ایک بوڑھی اماں تقریباً تیرہ سالہ بچے کے ساتھ آئی قارئین کرام یقین کریں اس عورت کے پاؤں میں موجود جوتے چار جگہ سے ٹوٹے ہوئے تھے اور ان جوتوں کو چاروں جگہ سے کپڑے کے ٹکڑوں سے باندھ کر استعمال کے قابل بنا کر رکھا گیا میں نے عورت سے مسئلہ پوچھا تو نہ جانے کیسے بات

کرنے سے پہلے اس کی آنکھ سے آنسو بہہ نکلے اور پھر اس نے روتے ہوئے بتایا کہ محلے میں کھیلتے ہوئے میرا بچہ پڑوس کے بچے سے لڑ پڑا پڑوسیوں نے نہ صرف مل کر میرے بیٹے پر تشدد کیا بلکہ جب میں پہنچی تو مجھے طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پہلوان کو کہو طاقت دکھانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنی بہن کے قاتل کو دکھائے اس سے پہلے لوگ مجھے بھی طعنہ دے چکے ہیں تمہاری بیٹی کو قتل کیا گیا ہے اور تم لوگ

کچھ نہیں کر سکے میں بیوہ عورت ہوں میرا واحد سہارا میرا یہ بیٹا ہے جو خود بچہ ہے مگر آج میں اللہ تعالٰی کے سہارے پر بھروسہ کر کے آپ کے پاس آئی ہوں مجھے گاؤں کے ایک پڑھے لکھے آدمی نے بتایا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ کی بیٹی کی لاش چیک کر کے بتا سکتی ہیں کہ آپ بیٹی قتل ہوئی ہے طبعی موت مری ہے اگر قتل ہوئی کو گی تو ڈاکٹر صاحبہ لکھ کر دیں گی اور پولیس قاتل گرفتار کر لے گی ۔۔۔۔

بوڑھی اماں کی کیفیت دیکھ کر میں آبدیدہ ہو گئی گو کہ قانون کے مطابق مجھے کورٹ سے پوسٹ مارٹم کا آرڈر آنے کے بعد ایکشن لینا چاہیے تھا مگر مجھے ماں جی کی سادگی پر ترس آیا میں نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان سے بیٹی کی روداد سنی ۔۔۔۔

بوڑھی ماں جی نے بتایا کہ

میری بیٹی کا نام مہوش اخلاق تھا وہ بہت پڑھی لکھی تھی

میں نے اس کی شادی اپنے شوہر کے بھتیجے سے کر دی تھی چونکہ میرا شوہر بہت عرصہ پہلے فوت ہو چکا تھا میں نے یہ سوچتے ہوئے مہوش کی شادی اس کے داد ھیال میں کر دی کہ اس طرح میرے بچوں کا داد ھیال سے رشتہ قائم رہے گا جبکہ سوچاہیے کی شادی اپنی بھتیجی سے کر دوں گی تو دونوں خاندانوں سے جڑی رہ جاؤں گی مگر شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا میری بیٹی شادی کے فقط ڈیڑھ سال بعد ہی چھت

سے گر کر مرگئی تھی مگر نہ جانے کیوں لوگ کہتے ہیں میری بیٹی مری نہیں اسے مارا گیا ہے میری بیٹی کی موت کے بعد میرے داماد یا اس کے گھر والوں نے ہم سے نہ صرف تعلق ختم کر لیا بلکہ دھمکی بھی دی کہ لوگوں کی باتوں میں آکر پولیس کی کاروائی نہ کرنا ورنہ پولیس والے تمہیں ہی قاتل و مجرم کہہ کر جیل بھیج دیں گے نہیں تو پاگل کہہ کر پاگل کھانے پھر کبھی بیٹے کا بھی منہ نہیں دیکھ سکو گی میں تو پہلے

ہی پولیس سے ڈرتی تھی لہذا میں نے کبھی بھی کسی کی باتوں میں آکر قانونی کاروائی نہیں کی مگر اب میری بچی کو مرے ہوئے تقریباً چھ ماہ سے زائد گزر چکے ہیں اور میں لوگوں کی باتوں سے تنگ آکر آپ کے پاس آئی ہوں کہ آپ میری بیٹی کو قبر سے نکال کر چیک کر کے بتائیں کہ وہ قتل نہیں ہوئی بلکہ چھت سے گر کر مری ہے اس کے ساتھ ہی ماں جی رونے لگی میں نے انہیں حوصلہ دیا اور ساتھ ہی

اپنے ایک سابقہ کلاس فیلو جو ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پولیس میں ڈسٹرکٹ آفیسر بھی تھے ان سے رابطہ کیا اور ساری صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد ان سے عہد لیا ہر صورت ماں جی کی مدد کرنی ہے ماں جی کی بات سننے کے بعد نہ جانے کیوں میرے دل میں یقین پیدا ہو گیا تھا کہ مہوش مری نہیں اسے مارا گیا ہے خیر میں نے ماں جی کو کہا آپ گھر جائیں ان شاء اللہ کچھ دنوں تک آپ کی بیٹی کی قبر کشائی

کر کے ان کا پوسٹ مارٹم کر کے بتاؤں گی کہ وہ طبعی موت مری ہیں یا انہیں مارا گیا ہے مگر اس کے لئیے جج صاحب کی اجازت لینا ضروری ہوتی میری بات سن کر روتی ہوئی ماں جی نے بھٹے ہوئے دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کیے اور پلو میں لگی گرہ کو کھول کر دو پچاس پچاس والے نوٹ مجھے دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا یہ حج صاحب کو دینا کیوں کہ وہ صاحب لوگ ہوتے ہیں پیسے والوں کی بات سنتے ہیں اور ساتھ ہی دو

دس دس روپے والے نوٹ دیتے ہوئے کہا یہ کرایہ دے لینا بیٹا اور پیسے ضرورت ہوئی تو بتانا میں میرے پاس چالیس روپے گھر پڑے ہیں ماں جی کی معصومیت بھری باتیں سن کر میرے آنسو بھی آ گئے مگر میں نے خود پر قابو رکھا اور ان کو گھر بھیج دیا میں نے اپنے کلاس فیلو کے ذریعے کیس فائل کیا بوڑھی ماں جی کو مدعی بنایا مقامی ایس ایچ او کی مدد سے گواہ وغیرہ تیار کیسے کورٹ سے قبر کشائی کی اجازت لے

کر پوسٹ مارٹم کرایا قارئمیں کرام یقین کریں جب مہوش کو مارا گیا تو وہ چار ماہ کی حاملہ تھی مہوش کو اتنی زیادہ مقدار میں زہر دیا گیا تھا کہ اس کا گوشت کھانے والے کیڑے بھی مر کر اسکے ڈھانچے کے ساتھ ہی پڑے تھے اس کے سر کی ہڑی چکنا چور ہو چکی تھی جبکہ جسم کی اور بھی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پولیس نے قانونی کاروائی کا آغاز کیا اور مہوش کے سسرال جو کہ مہوش کے ساتھ

ساتھ اس کی ماں کا بھی سسرال تھا وہاں سے تفتیش شروع کر دی چونکہ پیچھے نہ صرف ایک بہت بڑے پولیس آفیسر بلکہ میرے باقی ساتھ ڈاکٹر ز بیورو کریسی میں موجود دوست وغیرہ بھی میرے کہنے پر کیس میں دلچسپی لے رہے تھے اور روز ہی کوئی نہ کوئی سینیر آفیسر ایس ایچ او سے کیس کے متعلق معلومات لے کر مجھ پہنچاتا تھا اس لیے پولیس نے دباؤ کی وجہ سے میرٹ پر اور جلد از جلد تفتیش مکمل کرتے ہوئے

مہوش کے شوہر و قار کو گرفتار کر لیا گرفتاری کے بعد وقار نے اقبال جرم کرتے ہوئے بتایا کہ میں مہوش کو مجبور کرتا تھا اپنی ماں سے اپنی جائیداد کا حصہ مانگو مگر مہوش کہتی تھی میں ماں کی کل جائیداد فقط ایک گھر ہے مجھے یقین ہے میں آدھی زبان سے بھی مانگوں تو نہ صرف میرا حصہ بلکہ سارا گھر ہی میری ماں مجھے دے دے گی مگر آپ سوچو کہ اگر میں اپنی ماں سے اس کی چھت چھین لوں گی تو میری بوڑھی

بیوہ ماں اور چھوٹا یتیم بھائی کہاں رہیں گے ؟

مہوش کے دلائل میں گو کہ وزن تھا مگر ایک تو وقار کے دل میں گھر کا لالچ تھا دوسرا اسے یقین تھا کہ مہوش کی طرف سے کوئی بھی میری بات پلٹنے والا نہیں لہذا اس نے مہوش کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر یہاں تک اسے پتہ تھا مہوش چار ماہ سے امید سے مگر اس کے باوجود اس نے جائیداد میں حصہ نہ مانگنے پر اپنی بیوی کو زبر دستی زہر کھلا دی

اور جب زہر نے معدے میں پہنچ کر اپنا اثر دکھانا شروع کیا تو تکلیف سے مہوش ترینے لگی اور آہ بکا کرنے لگی تو ظالم وقار نے مہوش کے سر پر لینٹ سے وار کر کر کے مہوش کو جان سے مار دیا بلکہ مری ہوئی مہوش کے جسم پر بھی اینٹوں سے وار کرتا رہا جب وقار کو مہوش کی موت کا یقین ہو گیا تو اس نے مردہ مہوش کو اٹھایا اور چھت پر لے جا کر اس کی لاش کو چھت سے نیچے پھینک دیا اور پھر خود ہی شور مچا دیا کہ

مہوش چھت سے گر گئی اور بعد ازاں اس نے شگوفہ چھوڑ دیا کہ مہوش بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتی تھی شاید اس لئے خود کشی کر لی ہو ؟

گاؤں کی بہت سی عورتوں نے مہوش کی موت کو قتل قرار دیا مگر چونکہ مہوش کی طرف سے کوئی بھی مرد نہیں اور بوڑھی بیوہ ماں بھی ان پڑھ تھی کچھ ہماری پولیس کا دوستانہ رویہ ہی ایسا ہے غریب لوگ ان کو دیکھ کر ہی راہ بدل لیتے ہیں لہذا

مہوش کی ماں نے بات سنی ان سنی کر کے مہوش کو دفن کر دیا مگر اب لوگوں نے جوان بیٹی کی موت کے طعنے دے

دے کر جینا دشوار کر دیا ۔۔۔۔

مہوش کی اذیت ناک موت سن کر میں نے خود کی جگہ پر مہوش کو رکھ کر سوچا تو کانپ گئی الحمد للہ میں نے مہوش کی ماں کی دعاؤں سے مہوش کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچا دیا یہ سب میں نے اس لیے کیا تا کہ آئندہ کوئی وقار کسی مہوش

کو لاوارث نہ سمجھے بلکہ جب بھی کسی وقار کے سامنے کی کوئی مہوش آئے تو وقار کو ظلم کرنے سے پہلے مہوش کا خدا یاد آئے اور پھر مہوش کے پیچھے کھڑی اس کی بہن علینہ اسلام یاد آئے اور علینہ کے پیچھے کھڑے اس کے کولیگ یاد آئیں اور میں یقین سے کہتی ہوں کہ آئندہ کبھی اس گاؤں میں کوئی وقار کسی مہوش کو قتل کرنے سے پہلے ہزار بار سوچے گا کہ جن کا کوئی نہیں ہوتا ان کا خدا ہوتا ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *