Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

ایک شیخ نے بینک سے 12 لاکھ کا قرضہ لے کر شادی کی مگر بینک والے اتھےتو شیخ صندوق میں چھپا لیا

ایک شیخ نے بینک سے 12 لاکھ کا قرضہ لے کر شادی کی مگر بینک والے اتھےتو شیخ صندوق میں چھپا لیا

ایک شادی ہوئی میاں بیوی کچھ ماہ ساتھ رہے اور پھر میاں اپنے گھر اور بیوی اپنی ماں کے گھر اس طرح سال گزر گیا اور پھر طلاق ہو گئی ۔۔ میرے مطابق سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہ تھی کہ شادی بینک سے قرض لے کر کی گئی یعنی سود کی رقم سے شادی ہوئی ۔ نکاح حلال ہے اور سود حرام ہے ۔ حلال میں حرام شامل ہو جاۓ تو ؟ یہ وہی بات کہ بابا اکرام گجر کہتے تھے ” بیٹا ایک ہزار حلال کمائی میں اگر ایک روپیہ حرام کا شامل ہو جاۓ تو وہ ایک ہزار روپے کو بھی حرام کر دیتا ہے ” ۔

 

بینک والے بار بار اس کے گھر کا چکر لگاتے جبکہ صاحب گھر سے باہر ہی نہیں آتے تھے کیونکہ اس کے حالات بہت تنگ ہو چکے تھے ، ایک دفعہ تو بینک والے پولیس کو بھی اپنے ساتھ لے آۓ اور گھر میں داخل ہوۓ تو صاحب نے اپنے آپ کو ایک بڑے سے صندوق میں چھپالیاد میری نظر میں دوسری وجہ یہ تھی کہ قرض کی اقساط ادا کرنے کی وجہ سے لڑکے کا ہاتھ تنگ رہا جس پر لڑکی نے کافی فساد کھڑے کیے اور سہولیات کے فقدان پر ماتم کرتی رہی ۔۔ پڑوسیوں سے معلوم ہوا کہ اکثر گھر میں میاں بیوی کے جھگڑنے کی آوازیں آتی اور گھر کے برتن ٹوٹنے کی بھی آوازیں سنائی دیتید اس لیے کہتا ہوں کہ اگر چھ لاکھ روپے موجود ہیں تو چھ لاکھ قرض لے کر بارہ لاکھ روپے میں شادی کرنے سے بہتر ہے جو اپنی رقم ہے اس میں سے تین لاکھ خرچ کریں اور سادگی سے شادی کر لیں ۔

 

جو تین لاکھ روپے بچیں گے وہ بیک اپ کے طور پر رکھیں ۔ اس دوران پرینسی یا ڈیلیوری یا کسی بھی مشکل وقت میں یہ رقم کام آۓ گی ۔ تقریبا ایک سال تک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا جب کہ قرض لینے کے بعد تین چار سال اس کی اقساط ادا کرنے میں گزر جائیں گے ۔ اس دوران جھگڑے ہوں گے ذہنی دباؤ کا شکار رہیں گے خواہ مخواہ کا سٹریس اور ڈپریشن گود لینا پڑے گا ۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ڈپریشن آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو لذت سے محروم کر دیتا ہے ؟ یہاں تک کہ میاں بیوی کے وہ خوب صورت لمحات بھی تباہ ہو جاتے ہیں جو در اصل سکون اور لذت حاصل کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ یہ دو طرفہ کوشش سے ہی ممکن ہے جب تک اس معاملے میں لڑکا لڑکی بغاوت نہیں کریں گے تب تک یہ سب ممکن نہیں ہے اور اگر دوسرا پارٹنر اس قربانی کے لئے تیار نہیں تو دفع کریں اور کسی کا انتخاب کریں ۔ خود کے لیے سٹینڈ لیں ۔۔

 

ہم مڈل کلاس والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ چاہتے ہیں امیر لوگ سادگی سے شادی کریں گے تو ہی ہمارے لیے آسانی ہوگی او بھئی جن کے پاس گنجائش ہے وہ کر سکتے ہیں آپ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں ۔ خواہ مخواہ کے چوہدری بن کر شادی کے بعد نوکروں جیسی زندگی گزاریں ۔

 

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *