Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

میری منگنی بچپن میں اپنے کزن عاصم سے ہو گئی۔

میری منگنی بچپن میں اپنے کزن عاصم سے ہو گئی۔

میں اپنے چازاد کی بچپن کی منگیتر تھی۔ بزرگوں کے بیچ ہمارے بچپن سے ملے تھا کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ایک دوسرے کے شریک زندگی بنیں گے۔ جب میں نے ہوش سنبھالا۔ گھر والوں سے یہ تذکرہ سن سن کر عاصم کو دیکھتے ہی شرم و حیا کے پردوں میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔ ہمارے چا کا اور ہمارا ایک ہی آنگن اور گھر تھا۔ مگر جب دونوں گھرانوں میں بچوں کی تعداد بڑھی تو ان میں دھینگا مشتی رہنے لگی۔ تبھی والد اور چچا نے عافیت جانی کہ بیچ میں دیوار اٹھا کر ایک کے دو گھر کر لے جائیں۔ یوں میرے اور عاصم کے درمیان جو دیوار حائل کی گئی۔ وہ اینٹوں کی ہی بنی ہوئی تھی۔ دوری اگر چہ ذراسی تھی۔ مگر میں نے تو اپنے چازاد کو بچپن سے اپنے خوابوں میں بسالیا تھا۔ دیوار اب ہمیں کوہ ہمالیہ جیسی لگتی تھی۔ بہانے بہانے سے چا کے گھر جاتی۔ چی سب کے سامنے کہہ دیتی لو بھئی آگئی ہے میری بہو۔ اچھا تو امی ابھی سے اس کو بہو کہنے لگی ہو۔ عاصم مجھے چھیڑنے کے لئے کن انکھیوں سے دیکھنے لگتا۔ جب بھی علینہ آتی ہے امی آپ ایسے ہی کہتی ہو کام جو کروانا ہوتا ہے آپ کو اس بے چاری سے۔ ہاں یہ میری بہو ہی تو ہے۔ یہی تو اس گھر کی مالک ہے۔ اب کام کر رہی ہے تو کیا ہوں۔ اس کا اپنا ہی گھر ہے نا۔ چچی کی باتیں جب میں یہ اپنے دل کے کانوں سے سنتی تو بہت زیادہ شرما جاتی۔ تب عاصم پاس سے گزرتے ہوئے ہولے سے کہتا۔ تمہاری انہی اداؤں نے اور بھی دیوانہ بنادیا ہے۔ میں نظریں اٹھا کر اسے گھورتی۔ چپ رہو چی سن لیں گی۔ کوئی سنے یانہ سنے آدھی دنیا کو تو پتہ ہے کہ تم میری ہو۔ اور یہ شہرت میری اماں کی ہی زبان کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ کہہ کر وہ چلتا بنا۔ اور میں دیوار کو گھورتی رہ جاتی کہ جس کی وجہ سے ہمارا ایک آنگن دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا۔ مگر اس دیوار نے ہمار اپیار بڑھادیا تھا۔ عاصم کی تعلیم کا آخری سال آپہنچا۔ والد اور چچا میں صلاح مشورے ہونے لگے۔ کہ علینہ اور عاصم کی شادی امتحان کے بعد کر دی جائے تاکہ فریضہ ادا ہو۔

 

ہم دونوں بھی تو پل پل گن رہے تھے۔ کہ کب ایک مضبوط بندھن میں بندھ جائیں۔ اور یہ دوریاں ختم ہوں۔ ہمارے گھروں کی چھت ابھی یک ہی تھی۔ مگر سیڑھیاں دونوں جانب تھیں۔ باقی سارے لوگ صحن میں سوتے تھے۔ لیکن عاصم چھت پر ہوتا تھا۔ وہاں پڑھتارہتا تھا۔ امتحان جو سر پر تھے۔ امتحان ختم ہوئے تو عاصم نے موقع پا کر ایک دن میرے پاس سے گزرتے ہوئے ہوئے سے کہا آج رات چھت پر آجانا میں انتظار کروں گا جب سب سو کے تو میں نے پاؤں سے چپل اتاری اور ننگے پاؤں سیڑھیوں کی طرف گئی آسمان پر پورا چاند چمک رہا تھا اور چاندنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی دبے قدموں چھت پر پہنچی اسے منتظر پایا۔ وہ رات باتوں میں ہی بیت گئی کیونکہ دیوار اٹھائے جانے کے دن سے آج پہلی بار اس طرح ملے تھے کہ ہم ہی ہم تھے اور کوئی دوسرا ہمارے درمیان موجود نہ تھا وقت گزرنے کا احساس بھی نہ ہوا یہاں تک کہ صبح کے آثار نمودار ہو گئے۔ تبھی اذان ہونے سے پہلے میں نیچے اتر گئی ایک اور ملاقات کا وعدہ کر کے ۔ ان ملاقاتوں میں کبھی ایسانہ ہوا کہ ہم نے کچھ غلط سوچا ہو۔ عاصم کے دل میں میری عزت کو گھٹانے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ کیونکہ میں ہی اس کی عزت اور امانت تھی۔ وہ اپنی امانت میں خیانت کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ہماری شادی کو اب ویسے بھی تھوڑے ہی دن رہ کئے تھے انہی دنوں کے جب ہماری شادی کی تیاریاں شروع ہونے لگیں۔ دادا جان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ اور ایک ماہ شدید علیل رہ کر وہ وفات پاگئے شادی کچھ دنوں کیلئے ملتوی ہو گئی۔ دادا جان کی زرعی زمین کافی تھی ان کا چہلم ہوتے ہیں ایک پٹواری چچا جان کے پاس آیا اور ان کو بتایا کہ پٹواری کھاتے میں آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ وراثت میں کھاتا بندی پر چڑھانے سے پہلے اپنے بڑے بھائی سے بات کر لیں کیونکہ آپ دونوں بھائی بھائی ہیں۔ کیونکہ آپ کے والد کی زمین کا زیادہ حصہ آپ کے بڑے بھائی کے نام کسی کو بتائے بنا ہو چکا ہے۔ جبکہ آدھی زمین کے مالک آپ بھی ہیں۔

 

زمین کے انتقال سے پہلے اپنی تسلی کرلیں ورنہ بعد میں کچھ نہیں ہو گا۔ چچانے بابا سے اس معاملے میں بات کی تو بابا نے کہا کہ یہ والد صاحب خود کر کے ہوں گے مجھے اس بات کا علم نہیں۔ تو اب ہم انصاف سے اس زمین کا آدھا آدھا بٹوارہ کر لیتے ہیں ابھی انتقال نہیں ہوا ہے انصاف ہو سکتا ہے چا کہنے لگے۔ تمام جائیداد میں ہم دونوں ہی برابر کے حصے دار ہیں نا۔ انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ اس بات کو درست کر لیا جائے مالک آپ بنتے ہوں گے لیکن والد نے سوچ سمجھ کر ہی ایسا کیا تھا نا۔ نا انصافی میں نے تو نہیں کی تمہارے ساتھ ۔ لیکن بڑے بھائی ہے تو یہ نا انصافی ہی ناتو اب ہم اس معاملے کو صحیح کر لیتے ہیں۔ صحیح کرنے کی بات کون سی ہوئی بھائی۔ والد نے شاید میرے بچوں کی تعداد کے حساب سے مجھے زیادہ زمین دی ہو گی۔ دیکھو نا تمہارے تین بچے ہیں جبکہ میرے چھے ہیں۔ تمہارا ان میں ایک بیٹا ہے جب کہ میری حصے کی زمین میرے پانچ بیٹوں میں بٹے گی تو ہر ایک کے حصے میں کیا آئے گا۔ تو اسی لیے والد صاحب نے سوچ سمجھ کر بٹوارا کیا ہو گا۔ میرے ابو اپنی بات پر اڑ کئے تو چا اپنی بات پر۔ اس طرح ہماری بنی ہوئی بات جائیداد کے بٹوارے پر بگڑ گئی اور شادی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ بری جہیز سب کچھ تیار مگر شادی کی تاریخ آگے ہی آگے سرکتی ہی جارہی تھی۔ ادھر میں اور عاصم جس دن کے لیے گھڑیاں گن گن کر گزار ہے تھے وہ آگے ہی آگے سر کتا جار ہا تھا۔ ایسے میں محبت میں شدت اور جدائی سے تڑپ پیدا ہوتی ہے اب چھت پر سونے کا موسم نہیں تھا پھر بھی عاصم چھت پر کمبل لے کر سوتا تھا۔ کہ شاید میں کسی دن او پر آجاؤں۔ مگر میں کافی دنوں سے اوپر نہ جاسکی۔ ادھر زمین کے تنازعے نے سنگین صورتحال اختیار کرلی۔ اور پھر ایک دن ایسا آیا کے چچا جان نے شور ڈال دیا بلکہ آسمان سر پر اٹھالیا کہ میں باقی کا وہ آدھا حصہ بھی لے کر رہوں گا۔ جو میرے نام بابا نہیں کر کے کئے۔ ہماری شادی کی تاریخ دھری رہ گئی۔

 

اور دونوں گھرانوں میں بات چیت بند ہو گئی بلکہ مقدمہ بازی کا خطرہ منڈلانے لگا۔ میری اور عاصم کی بری حالت تھی جس روز بہت زیادہ جھگڑا ہوا اس رات مجھ سے نہ رہا گیا اور میں چھت پر گئی ہم بہت ہی پریشان بیٹھے تھے۔ میں نے کہا کہ عاصم اگر چچا جان اور بابا جان میں صلح نہ ہوئی تو ہمارا کیا بنے گا۔ ایسا نہ ہو کہ زمین کے اس تنازعے میں ہم ہمیشہ کے لئے جدا ہو جائیں اگر ایسا ہوا تو میں زندہ نہ رہ پاؤں گی۔ عاصم بے حد پریشان تھا اس نے مجھے تسلی دی کہ کچھ بھی ہو جائے ہم ایک ہو کر رہیں گے اس کی باتوں سے مجھے تسلی ہوئی اور میرے آنسو تھم کئے اس نے میرا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ اپنے ہاتھوں سے صاف کیا اور پہلی بار جدائی کے اندیشوں سے ہم اندر سے کمزور پڑ کئے۔ میں نے اس کے کندھے پر سر رکھ دیا اور اس نے اپنے ہاتھوں کو میرے ہونٹوں سے لگالیا آج کی اس عجیب حالت نے ہمیں اندر سے ہلا ڈالا تھا شاید کے اس قرب کا داغ ہمارے ماتھے پر لگنا تھا چاندنی رات کے سحر میں ہم نے خود کو ان کمزور لمحات کے سپرد کر دیا کچھ لوگ عمر بھر گناہ کرتے رہتے ہیں اور ہاتھ نہیں آتے اور کچھ ہم سے بد نصیب ہوتے ہیں جو ایک بار کی غلطی میں دھر لئے جاتے ہیں۔ رات تو ہم جذبات میں بہہ کئے۔ لیکن بعد کی پریشانی نے ہماری نیندیں اڑا دیں۔ ادھر چچا اور بابا کا تنازعہ شدت اختیار کرتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو دیکھنے کے لیے تیار نہ تھے انہوں نے آپس میں بولنا بند کر دیا جس قدر میں ان دنوں پریشان تھی کبھی نہ ہوئی تھی سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کروں کبھی موقع مل جاتا چھت پر چلی جاتی مگر رونے کے سوا عاصم سے کوئی بات نہ کرتی۔ کچھ ماہ بعد مجھے اپنی طبیعت میں تبدیلی محسوس ہونے لگی میں بہت زیادہ گھبر آگئی کہ اب کیا ہو گا۔ اگر چاچا اور بابا کے درمیان تنازع حل نہ ہوا تو ہم دونوں تو ہمیشہ کے لئے جدا ہو جائیں گے پھر میں سب کو کیا منہ دکھاؤں گی۔

 

میں نے اپنے خدشات سے عاصم کو آگاہ کیا تو اس نے کئی حل سامنے رکھے کہ وہ خود میرے والد اور والدہ سے بات کرلے گا میں نہ مانی۔ اس نے کہا کہ میں اپنا حصہ تایا ابو کو لکھ دوں گا مجھے یہ ممکن نہ لگا کہ چا تو اور بگڑ جائیں گے۔ اور ور رو کر دعائیں مانگتی تھی کہ اللہ کوئی معجزہ دکھا دے بالآخر اللہ نے ہماری دعائیں سن لیں اور بابا جان اور چچا جان میں سمجھوتا ہو گیا۔ بات مقدمے بازی تک نہ گئی۔ میرے بابا آدھی زمین چھوٹے بھائی کو دینے پر راضی ہو گئے۔ اور پھر دونوں بھائی گلے مل کئے۔ اس تنازعے میں سب سے زیادہ خسارہ ہم دونوں کا ہوں ہماری شادی دو بار ٹلی۔ اور جدائی کے خطرات نے ہماری روح کے لہلہاتے چمن اجاڑ کر رکھ دیے۔ سب سے زیادہ مجھے اپنی بدنامی کا خطرہ تھا کیونکہ عاصم میرے حاملہ ہونے کی وجہ سے یہ سوچنے لگا تھا۔ کہ مجھے گھر سے بھگا لے جائے گا شادی کی تاریخ ایک ماہ بعد رکھ دی گئی۔ جبکہ میرا ایک ایک دن انتظار کا ایک صدی کے برابر تھا بہر حال باباراضی ہو گئے کہ ابھی نکاح کر دیتے ہیں مگر رخصتی فصل اترنے کے بعد ہی کریں گے۔ گویا کہ تیسری بار بھی شادی چھ ماہ آگے ہو گئی۔ اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ بدنامی کے جہنم میں گر جانے سے پہلے عاصم اپنی شادی کا خود انتظام کرلے اور اس نے پھر وہ کیا کہ سبھی نے اپنے دانتوں تلے انگلیاں داب لیں۔ بری اور جہیز دھرے رہ گئے۔ ایک روز وہ مجھے زیور دلوانے کے بہانے باہر لے گیا اور وہاں سے ٹرین پر بیٹھ کر ہم لاہور سے پنڈی اور وہاں سے اگلے روز کورٹ جاپہنچے۔ کورٹ میرج کے بعد دو دن مری رہ کر لوٹے تو چچا جان اور بابا جان کو بھرے ہوئے شیروں کی طرح پایا جو انہوں نے برا بھلا کہا ہم نے سہ لیا۔ اس حرکت پر چچا جان نے ہمیں الگ گھر میں رہنے کا کہا ہم نے چوں نہ کی۔ اور علیحدہ گھر میں شفٹ ہو گئے۔

 

سال بھر ہمیں کسی نے منہ نہ لگایا اور نہ ہی بات کی جبکہ اس دوران میں ایک بیٹے کی ماں بن چکی بھی ایک روز میری ماں نے پیغام بھیجا کہ تمہارے بابا جان بہت بیمار ہے دیکھنے آجاؤ وہ تم کو یاد کرتے ہیں۔ میں اور عاصم ڈرتے ڈرتے کئے۔اس وقت ہمارا بیٹا عاصم کی گود میں تھا۔ بہر حال ہم دونوں نے ان کے قدموں کو چوم کر معافی مانگی بزرگوں کا دل بڑا ہوتا ہے انہوں نے معاف کر دیا تو والدہ نے چا اور چی کو بھی منالیا کہ ابو شدید بیمار تھے۔ اس لیے ہر کوئی ان ہی کا خیال کر رہا تھا گھر آکر میں نے اپنے ابو کے لیے دل سے دعائیں مانگیں۔ اللہ تعالی نے میری دعائیں آہستہ آہستہ میرے ابو تندرست ہو کئے تاہم ان کی بیماری نے ہمارے روٹھے ہوئے والدین کو ہم سے ملوادیا۔ ہمارے بیٹے کو امی ابو چا چی سب نے اپنی گود میں اٹھا کر پیار کیا اور بہت ساری دعائیں دیں۔ شاید انہیں اب ہماری کورٹ میرج کی وجہ سمجھ آگئی تھی۔ والدین نے تو ہمیں معاف کر دیا تھا اب اللہ سے بھی یہی دعا ہے کہ ہمارا اللہ بھی ہمیں معاف کر دے گا کیونکہ وہ ذات جو ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والی ہے اور وہ دلوں کے احوال خوب جانتا ہے۔ آخر میں دوستوں میں آپ سب کو یہی کہنا چاہوں گا کے منگیتر ہونے کے باوجود کوئی بھی خود کو کمزور لمحات کے سپرد کرنے کی کبھی غلطی نہ کریں۔ کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ اللہ نے نصیب میں ملنا لکھا بھی ہے یا نہیں یہ نہ ہو کے جذبات میں بہہ کر آپ اپنی زندگی کو داغدار کر کے جہنم میں جھونک دیں۔ میری یہی دعا ہے کہ والدین کی رضا سے ہی بیٹی اپنے گھر سے رخصت ہو۔ ورنہ بعد کی پریشانی جان لیوا ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *