Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

نامرد کی بیوی نے سہاگ رات کس طرح منائی۔۔ – Urdu Stories

نامرد کی بیوی نے سہاگ رات کس طرح منائی۔۔ – Urdu Stories

ایک صاحب کہتے ہیں کہ میری عادت تھی کہ میں روزانہ صبح فجر کے بعد قب رس تان جا کر اپنے والد کی قبر پر حاضری دیتا تھا ایک روز جمعہ کے دن فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں قب رس تان کیا ق برست ان میں داخل ہوتے ہیں میں نے ایک بہت ہی شدد خوشبو محسوس کی ایسی خوشبو میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں محسوس کی تھی ۔ خیر میں نے والد کی قبر پر حاضری دی دعا کی تو قریب ہی ایک اور قبر دیکھی معلوم ہوتا تھا

 

کہ ابھی یہ قبر نئی نئی تھی میں نے سوچا کہ اس قبر پر بھی فاتحہ خوانی کر لوں ۔ اس غرض سے میں اس قبر پر گیا میں نے وہ خوشبو اسی قبر پر محسوس کی ، میں نے قبر کی مٹی کو ہاتھ میں پکڑا تو پتہ چلا کہ یہ وہی خوشبو ہے جس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے ، میں یہ دیکھ کر حیرت میں پڑ گیا کہ صاحب قبر کتنا نیک ہے کہ اس کی قبر سے اتنی اچھی خوشبو آ رہی ہے میں واپس گھر کو لوٹا گھر گیا تو گھر والے بڑی حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کسی خوشبو فروش کے پاس سے ہو کر آۓ ہو اس قدر قیمتی اور شہد خوشبو تمہارے پاس سے آرہی ہے

 

 

میں ان کے سوال پر بہت حیران ہوا میں نے کہا کہ میں تو کسی خوشبو فروش کے پاس نہیں گیا لیکن انہوں نے میری بات پر یقین نہ کیا میں نے اپنے ہاتھ کو اپنے ناک کے قریب کیا تو میں نے وہی خوشبو محسوس کی جو قب رس تان میں تھی ۔ اس پر میں بہت حیران ہوا کہ کئی مرتبہ ہاتھ دھونے پر بھی وہ خوشبو میرے ہاتھ سے نہ گئی ۔ اگلے روز پھر سے میں نہ چاہتے ہوۓ بھی قبرستان چلا گیا والد کی قبر پر حاضری دی اور بعد میں اس قبر کی طرف بڑھا پھر سے وہی خوشبو آ رہی تھی میں نے قبرستان میں قبر کھودنے والے سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے اس نے بتایا کہ یہ ایک عورت کی قبر ہے یہ سن کر میرے دل میں تڑپ اٹھی کہ میں جان کر ہی رہوں گا کہ اس عورت نے ایسا کیا عمل کیا ہے جو اس کی قبر اس قدر مہک رہی ہے ۔

 

 

اس غرض سے میں اتوار والے دن پھر سے قبرستان کیا دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی اس قبر پر قرآن خوانی کر رہا تھا اور زار و قطار رو رہا تھا ۔ میں نے بھی والد کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور جب وہ بوڑھا آدمی جانے لگا تو میں نے انہیں روکا اور کہا اگر آپ برا نہ مانے تو ایک بات پوچھ سکتا ہوں ؟ انہوں نے اجازت دی تو میں نے پوچھا یہ قبر کس کی ہے کیونکہ آپ یہاں رو رہے تھے تو سوچا آپ سے دریافت کر لوں ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کیوں پوچھ رہے ہو میں نے خوشبو والی وجہ بتائی تو کہنے لگے کہ اس نے عمل ہی ایسا کیا ہے کہ اللہ کو وہ بہت پسند آیا میں نے عرض کی کہ کیا میں وہی عمل جان سکتا ہوں کہ ایسا عمل کیا تھا کہ اس کی قبر اتنی خوشبو دار ہو گئی ۔ کہنے لگے کہ یہ میری بیوی کی قبر ہے

 

اس نے تیس سال میرے ساتھ گ ن دے ہیں ۔ میں تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا امی اور ابو کو میری شادی کا بہت شوق تھا جب میں کچھ کام کرنے لگا تو امی نے میری شادی اس سے کر دی ۔ شادی کی پہلی رات میں نے اپنی بیوی کا گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے اپنی پگڑی اس کے قدموں میں رکھ دی اور کہا کہ مجھے معاف کر دو میں تمہارا حق ادا نہیں کر سکتا ہوں اور ماں کی خوشی کی خاطر میں خود غرض ہو گیا تھا تمہاری خوشی کو نظر انداز کر دیا ۔ غرض یہ کہ میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ میں نا مرد ہوں تمہاری خ واہ شات کو پورا نہیں کر سکتا اگر تم چاہو تو مجھے چھوڑ کر جا سکتی ہوں اس نے میری پڑی اٹھائی اور دوبارہ میرے سر پر رکھ دی اور کہا کہ جیسا بھی ہو اب آپ میرے شوہر ہیں

 

 

مجھے آپ ہر حال میں قبول ہیں ۔ اس نے گھر والوں کی جلی کئی باتیں بھی سنیں اور بانجھ ہونے کے طعنے بھی سنے لیکن اس نے میرا پردہ رکھا اس نے سب کچھ سننے کے باوجود مجھ سے کوئی گلہ شکوہ یا شکایت نہیں کی یہ کہہ کر وہ زار و قطار رونے لگا اور کہنے لگا کہ اس عورت کو کیوں نہ اللہ یہ مقام دیتا کہ اس نے سب کچھ سہنے کے باوجود میرا پردہ رکھا ۔ ایسی عورت جو اپنے مرد کا پردہ رکھے اور اس کا ساتھ دے اس کی قدر کرنے تو پھر ایسی عورت کا آخرت میں بہت اونچا مقام ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *