Urdu News

All about islamic and Urdu Stories

پہلوان کے شاگرد نے کہہ دیا کہ استاد مجھ سے بڑے ہیں اس لیے

پہلوان کے شاگرد نے کہہ دیا کہ استاد مجھ سے بڑے ہیں اس لیے

ایک پہلوان کشتی لڑنے کے فن میں بہت زیادہ ہوشیار تھا ۔ وہ کشتی کے تین سو ساٹھ داؤں جانتا تھا ۔ ہر روز ایک داؤں سے کشتی لڑتا تھا ۔ وہ اپنے ایک شاگرد پر بہت مہربان تھا ۔ اس کو تین سوانسٹھ داؤں سکھادیے ۔ صرف ایک داؤں نہیں سکھایا اور اس کے سکھانے میں ٹال مٹول کرتارہا ۔ اس کا شاگرد کشتی لڑنے میں بہت ماہر ہو گیا ۔ ہر طرف اس کی شہرت پھیل گئی ۔

کوئی پہلوان اس سے مقابلہ کرنے کے لیے اکھاڑے میں نہیں آتا تھا ۔ اس ملک کے بادشاہ کے سامنے پہلوان کے شاگرد نے کہہ دیا کہ استاد مجھ سے بڑے ہیں اس لیے ان کی عزت کرتا ہوں ، ورنہ طاقت اور داؤں میچ میں مجھ سے زیادہ قابل نہیں ہیں ۔ بادشاہ کو اس شاگرد کی بات ناگوار گزری۔اس نے حکم دیا کہ اکھاڑا تیار کیا جاۓ اور استاد اور شاگرد کی کشتی ہو جاۓ

ایک بہت بڑے میدان میں اکھاڑا بنایا گیا ۔ کشتی کے مقابلہ کے روز بادشاہ اور اس کے تمام وزیر بڑے بڑے حکام اور عام لوگ یہ مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوۓ ۔ دوسرے شہروں کے بڑے بڑے پہلوان بھی کشتی دیکھنے کے لیے آۓ ۔ پہلوان اور اس کا شا گرددونوں اکھاڑے ا میں اترے۔شاگرداپنی طاقت کے گھمنڈ میں مست تھا اور ہاتھی کی طرح مجوم رہا تھا ۔ استاد سمجھ گیا

کہ شاگرد کے جسم میں اس سے زیادہ طاقت ہے۔جب کشتی شروع ہوئی تو استاد پہلوان نے وہ داؤں لگایا جو اپنے شاگرد کو نہیں سکھایا تھا اور شاگرداس داؤں کے توڑ سے ناواقف تھا ۔ استاد نے اس کو سر سے اونچا اٹھا کر زمین پر یخ دیا ۔ ہر طرف شور مچ گیا اور استاد کی تعریف ہونے لگی ۔ بادشاہ بہت خوش ہوا اور پہلوان کو بہت سا انعام دیا اور شاگرد کو خوب ڈانٹا اور کہا

تونے اپنے استاد کا مقابلہ کیا جس نے تمھارے ساتھ احسان کیا تھا ۔ پھر بھی تم ہار گئے۔شاگرد نے جواب دیا ۔ بادشاہ سلامت ! طاقت میں استاد میر امقابلہ نہیں کر سکتے ۔ مگر انھوں نے ایک داؤں مجھے نہیں سکھایا تھا ۔ اسی داؤں سے مجھے ہرادیا ۔ استاد بول اٹھا کہ اسی دن کے لیے میں نے وہ داؤں روک رکھا تھا اور تجھ کو نہیں سکھایا تھا کیونکہ عقل مند لوگوں نے کہا

که دوست کو اتناطاقت ور نہ بناؤ کہ اگر کبھی دشمنی پر آمادہ ہو تو تم کو نقصان پہنچا سکے۔ایک شخص نے اپنے شاگرد کی بے وفائی دیکھ کر کہا تھا ۔ یا تو دنیا میں وفاداری تھی ہی نہیں یا اس زمانے میں کسی نے وفا نہیں کی ۔ کوئی ایسا شخص نہیں ملا جس نے مجھ سے تیر اندازی کا ہنر سیکھ کر مجھ ہی کو نشانہ نہ بنایا ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *